www.Ishraaq.in (The world wide of Islamic philosophy and sciences)

وَأَشۡرَقَتِ ٱلۡأَرۡضُ بِنُورِ رَبِّهَا

تمھید:

حضرت علی(ع) ابن الحسین (ع) امام زین العابدین(ع) سلسلہ ائمہ حقہ کے چوتھے امام ہیں

 آپ کی ولادت کی تاریخ میں اختلاف ہے علامہ سبط الجوزی نے تذکرہ خواص الائمہ میں امام جعفر (ع) صادق کے حوالہ سے ٥، شعبان ٣٨ ہجری بیان کیا ہے لیکن بعض مورخین ١٥ جمادی الاول پر متفق ہیں۔ اکثریتی روایات کے بموجب آپ کی شہادت ٢٥ محرم ٩٥ھ میں واقع ہوئی، امام کے ٥٧ سال پر محیط زندگی کے حالات کو ہم زیادہ تر سانحہ کربلا کے حوالے سے جانتے ہیں۔ تاریخ کے اوراق اور منبر سے بھی کربلا کے واقعات میں امام کی مظلومیت ہی ذکر کا محور رہتی ہیں۔ فصیح البیان شاعر فرزدق کے فی البدیہہ قصیدے کے حوالے سے بھی امام کا خوانوادہ رسالت وامامت کی عظیم فرد کی حیثیت سے تعارف کیا جاتا ہے۔ لیکن ان تمام نسبتوں میں ممتاز امام کی شناخت صحیفہ کاملہ ہے جو ایک عظیم الشان کتاب ہے۔ یہ دعاؤں اور مناجات کی کتاب ہے اور اس کا زیادہ تر استعمال سر سری، وقتی اور ذکر دعا تک ہی محدود رہتا ہے۔ ان دعاؤں میں حکمت اور دانائی، معرفت الہی ، عبدو معبود کے تعلقات، حقوق الناس اور استغفار، تزکیہ نفس اور تخلیق کائنات سے متعلق رموز اور مضامین لائق توجہ ہیں۔ امام زین العابدین کی حقیقت معرفت کے لئے اس صحیفہ کابغور مطالعہ ضروری ہے۔ زیر نظر مقالہ صحیفہ کاملہ کا تجزیاتی مطالعہ ہے اس میں اس عظیم کتاب کی چند خصوصیات مثلاً تاریخی ماحول، اسناد ، فلسفہ ، دعا، اسلوب بیان اور دعاؤں کے مضامین کے تجزیہ سے اس کتاب کے ادبی، علمی اور تبلیغی پہلوؤں کو اجاگر کرنے کی ایک کوشش کی گئی ہے۔

تاریخی ماحول:

صحیفہ کاملہ کے ذریعہ امام زین العابدین(ع) کی روحانی اور تبلیغی جدوجہد کے صحیح اندازہ کے لئے وہ تاریخی ماحول جاننا ضروری ہے جس میں یہ کتاب لکھی گئی۔ یہ منظر نامہ کچھ اس طرح ہے۔ شہادت امیر المومنین کے بعد مرکز خلافت کوفہ سے دمشق منتقل ہو چکا۔ شام کی سر زمین اسلام کے لئے اجنبی تھی ۔ انہی حالات میں کربلا کا سانحہ واقع ہوا۔ کربلا نے شام کے جابر حکمرانوں کو یہ پیغام دے دیا کہ اہلبیت(ع) محمد (ص) اور ان کے مقدس نصب العین کو مادی طاقت سے نہیں کچلا جا سکتا ۔ اس لئے مخالفین کی کوشش یہ رہی کہ ایسی پالیسی اور فضا پیدا کی جائے جو اسلام کا حلیہ بگاڑ دے۔ امام زین العابدین نے چھ اموی حکمرانوں کے دور حکومت کو دیکھا۔ تقریباً چالیس سال پر محیط یہ عرصہ عام مسلمانوں کے لئے ذہنی اور اخلاقی بگاڑ کا پست ترین دور تھا جس نے نہ صرف مسلمانوں کے بنیادی عقائد کو بلکہ ان کے روز مرہ کے اعمال اور اخلاق کو بیحد متنزلزل کردیااور اسلامی معاشرہ کوبہت پیچھے دھکیل دیا۔ فسق و فجور عام تھا لو ہے اور سونے سے لوگوں کے ضمیر تبدیل کئے جارہے تھے قرآن کی غلط تاویل عام تھی بقول مولانا عقیل الغروی'' بکی ہوئی زبانوں پر خریدے ہوئے الفاظ سے ملوکیت کی قصیدے پڑھے جارہے تھے ''۔امیر امام حرنے'' امام حریت حضرت زین العابدین(ع)'' میں اس صورت کو یوں بیان کیا ہے ''اس نصف صدی کے دوران اسلامی معاشرہ میں جو تغیرات واقع ہوئے وہ عائلی ، قبائلی اور نسلی عصبیتوں کو قبل اسلام کے جاہلی نظام میں دوبارہ دھکیل دیا۔ ابن خلدون ( المقدمہ) کے بموجب یہ عائلی جبلی کیفیات جو عہد رسالت میں دب گئی تھیں پھر عود کر اگئیں۔ '' اس ماحول کو جناب کمال حیدر رضوی نے اپنی ایک تقریر میں کچھ اس طرح بیان کیاہے۔ '' واقعہ کربلا کے بعد عالم اسلام میں ایک سناٹا تھا۔ مدینہ میں سوگ ، مکہ میں سراسمیگی ، کوفہ میںندامت اور شام میں پچھتاوا۔ ایسی صورت میں کون بولنے کی ہمت کرے۔ یہ وقت کا امام بہتر جانتا ہے کہ کب خطبوں کے ذریعے نہج البلاغہ بنائی جائے اور کب دعاؤں سے صحیفہ کاملہ کی تدوین ہو۔ اس خاموشی کو امام نے اپنے اور خدا کے درمیان دعاؤں کے ذریعے توڑا۔'' مندرجہ بالا حالات میں بہ حیثیت امام وقت سید سجاد پر یہ لازم تھاکہ اسلام کے صحیح نظریات کی تبلیغ کریں۔ لیکن ریاستی جبر اور تشدد اور آل رسول (ع) اور صحابہ کرام کی زبان بندی کے باعث یہ ناممکن تھا۔ تبلیغ تو دور کی بات ہے صرف آل رسول (ع)سے ہمدردی کے اظہار پر گردن اڑا دی جاتی تھی۔ ایسے پر جو ر اور تاریک زمانہ میں یہ امام کی کامیاب حکمت عملی تھی کہ ان پابندیوں کے باوجود دین اسلام کی تعلیمات امت تک پہنچانے کا فریضہ ایسی خوش اسلوبی سے انجام دیا کہ یہ کسی سلطنتی گرفت سے باہر رہا۔ امام نے مصلے پر بیٹھ کر خضوع و خشوع سے نہایت دلگداز لہجے میں اپنے مالک سے دعائیں مانگنی شروع کیں۔ ان دعاؤں میں وہ سب کچھ کہہ دیا گیا جو احیائے اسلام اور تزکیہ نفس و ضمیر کے لئے ضروری تھا۔ سمجھنے والے سمجھے اور ان کے عقائد کی جلا ہوتی گئی۔ امام کے پاس آنےوالوں کے ذریعے یہ دعائیں ہزاروں انسانوں تک پہونچی اور بنی امیہ کو پتہ بھی نہ چلا کہ کس وقت اور کس نے ان کے حربوں کو ناکام بنادیا (نسیم امروہوی)۔ اس وقت جبکہ زبان و قلم کی آزادی نہیں تھی دین اسلام کی سربلندی کے لئے امام کی ان خدمات کے معتبرین میں علامہ طبری ، حماد حبیب کوفی، علامہ بیہقی اور دیگر جید علما اور مورخین شامل ہیں۔ مختلف کتب سیر میں ان علماء کے بموجب صحیفہ کاملہ صرف دعاؤں کا مجموعہ نہیں ہے بلکہ علوم و معارف ِ اسلامیہ کی نشرو اشاعت کا عظیم شاہکار ہے جو باطل کے خلاف کامیاب ہتھیار ثابت ہوا۔

غرض کہ صحیفہ کاملہ وہ پہلی آواز ہے جو بنی امیہ کے خلاف اسلام کی حقانیت کے دفاع میں ایک گوشہ سے بلند ہوئی ۔ ان دعاؤں کے ذریعے امام نے عظمت توحید، ذات الہیٰ کا جیروت، تفکر فی الکائنات، فرائض عبدیت، تطہیر اخلاق ، تزکیہ روح اور تشکیل سیرت کا بھولا ہوا سبق یاد دلایا۔


فلسفہ دعا:

بنیادی طور پر صحیفہ کاملہ دعا و مناجات کی کتاب ہے اس کی قد رو منزلت کو جاننے کے لئے دعا کا مفہوم سمجھنا ضروری ہے۔ لفظ دعا کا مادہ '' دعو'' ہے جس کے لفظی معنی پکار نے یامانگنے کے ہیں۔ لیکن اسلامی اصطلاح میں دعا ان مخصوص کلمات کا نام ہو گیا جس کے ذریعہ انسان اپنی نفسیاتی کیفیت کا اظہار کرتا ہے اور مدد طلب کرتا ہے دعا کے عنوان پر علامہ ترابی اعلیٰ اﷲ مقامہ' شام غریبان کی ایک تقریر کی ابتدا کچھ اس طرح کرتے ہیں۔ '' زندگی بجز بند گی کچھ نہیں اور روح بندگی ، سرمایہ بندگی، عزت بندگی ، دعا ہے۔ دعا شرافت انسان کی علامت ہے دعا تجدید ہستی مومن ہے۔'' مشکلات کے وقت خدا وند عالم کی بارگاہ میں دست سوال پھیلا نا فطری امر ہے جب امید کے تمام در یچے بند ہو جاتے ہیں تو انسان خود بخود ایک ایسی ذات کی طرف متوجہ ہوتا ہے جس سے روح انسان کو ایک خاص قسم کی تازگی ملتی ہے اور سکون محسوس ہوتا ہے۔( موسسہ درراہ حق) قرآنی آیات '' ادعونی استجب لکم''( یعنی دعا کرو میں قبول کروں گا) اور '' اجیب الدعوۃ الداع اذا دعا نی فلیستجبولی'' ( میں پکارنے والے کی آواز سنتا ہوں اور قبول کرتا ہوں) کی روشنی میں ہم پر فرض ہے کہ ہم ہر ضرورت پر باری تعالیٰ کو آواز دیں اور مدد طلب کریں ( مفتی جعفر حسین ) دعا کی اہمیت اور لزوم کے لئے یہ جاننا کافی ہے کہ عام انسان تو کیا انبیا نے بھی وقت ضرورت دعا ئیں کی ہیں جن کا ذکر قرآن میں موجود ہے ۔ جناب آدم(ع)، نوح(ع) ، ابراہیم(ع)، یوسف(ع‏) ، ذکریا(ع)، یونس(ع) ، ایوب(ع) ، موسیٰ (ع)، عیسیٰ(ع)، اور آنحضرت(ص) کی دعائیں قابل ذکر ہیں بطور مثال'' ربنا ظلمنا انفسنا، لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین ، رب شرح لی صدری ویسرلی عملی ، رب زدنی علما و غیرہ وغیرہ۔

دعا سنت پیغمبران ہے رسول(ص) مقبول نے فرمایا دعا مومن کا ھتھیار ہے ( الدعا سلاح المومن) امام العارفین حضرت علی نے فرمایا کہ خدائے عزو جل کے نزدیک اہل زمین کے تمام اعمال میں محبوب ترین دعا ہے '' احب العمال الی اﷲ عزو جل فی الرض الدعا'' صادق آل محمد (ص) نے فرمایاالدعا یرد القصا ( دعا مصیبت کو ٹالتی ہے)۔

حضرت علی(ع) بن الحسین (ع) کی مناجاتیں اور دعائیں اپنے گہرے معافی خلوص تڑپ ، ہدایت ، روشنی اور مضامین عالیہ کے لحاظ سے عجیب و غریب کیفتیں رکھتی ہیں۔ ان دعاؤں میں عبدومعبود کے راز و نیاز اور بندے اور خدا کے صحیح تعلق کی تصویر ایسے انداز میں کھینچی گئی ہے کہ انسان ایک روحانی سرور محسوس کرتا ہے۔ ( نسیم امروہوی )۔ یہ دعائیں حقیقت میں ایک عظیم درسگاہ ہیں جس میں توحید، نبوت، قیامت اور دوسرے موضوعات پر تفصیلی بحث موجود ہے جو فکر انسان کو پرواز کا طریقہ سکھاتی ہیں اور عقل انسانی کو شعور و ادراک کی دولت عطا کرتی ہے۔ یہ دعائیں موعظہ وہدایت کی خاطر بند گانِ خدا کے لئے لکھی گئی ہیں جبکہ یہ مقدس ذاتیں ہر طرح کے گناہوں سے دور تھیں۔ چونکہ بارگاہ الہیٰ میں انکا تقرب زیادہ تھا اس لئے انہیں خدا کا خوف بھی سخت تھا ۔ بطور پیشوا انہوں نے یہ مثال پیش کی جو ہدایت کا بہترین طریقہ تھا۔ دعا کے انداز کا ذکر کرتے ہوئے استاد مرتضیٰ حسین لکھتے ہیں کہ ہم بڑوں کو درخواست لکھتے وقت اپنے سے بہترلکھنے والے کو تلاش کرتے ہیں کہ حکام کے شایان شان الفاظ میں اپنے جذبات اور مدعا کا اظہار کر سکیں۔ آداب و اوصاف خدا وندی کو انبیاء اور ائمہ علیہ السلام سے بہتر جاننے والا کون ہوسکتا ہے۔ یہ لوگ نکتہ شناس عرفان اور ادب آموز بصیرت ہیں۔ امام جعفر صادق(ع) نے فرمایا'' احفظِ آدابِ الدعا، وائنظر من تدعوا، و کیف تدعوا'' یعنی دعا کے آداب کا خیال رکھو، اور دیکھو کہ کس سے مانگ رہے ہو، کیونکر طلب کر رہے ہو اور کس مقصد کے لئے ہاتھ پھیلا رہے ہو۔

فلسفہ دعا کے ضمن میں مفتی جعفر حسین نے اپنے ترجمہ کے مقدمہ میں دعا کے مفہوم ، دعا کی قبولیت، اور دعا کی فطری اہمیت جیسے امور پر بحث کی ہے۔ دعاؤں کے ان پہلوں کے جائزہ سے ہم اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ ان دعاؤں نے تعلیمات اسلام کی نشونما اور احیا میں ایک اہم کردار ادا کیاہے۔


صحیفہ کاملہ کی اسناد:

صحیفہ کاملہ کے مصنف کے طور پر آج امام زین العابدین کو کون نہیں جانتا؟ لیکن صدیوں پہلے لکھی جانیوالی قدیم کتابوں کے مصنف کی نشاندہی بھی ایک اہم مرحلہ ہوتا تھا۔ معترضین نے نہج البلاغہ کو سید رضی کی تصنیف کہنے سے گریز نہیں کیا۔ حد ہو گئی کہ قرآن کی الہامی حیثیت بھی زیر بحث آتی ہے۔د عا عبدو معبود کے درمیان ہم کلام ہونے کا ذریعہ ہے اس لئے بھی دعا کرنے والے کے اطمینان قلب کے لئے دعائیہ کلمات کی سند جاننا ضروری ہے۔

صحیفہ کاملہ کی اسناد کے ضمن میں علما اور شار حین کی اکثریت بشمول علامہ سید علی خان ( ریاض السالکین) ، میر باقر د اماد (تعلیقات) علامہ مجلسی( بحار الانوار) شاہ محمد دور ابی ( ریاض العافین ) محمد باقر خوانساری ( روضات الجنات) وغیرہ روایات کے ایک سلسلہ پر متفق ہیں۔ یہ سلسلہ ہبتہ اﷲ ابن حامد الحلی ( متوفی ٢٠٩ھ) سے شروع ہو کر سید نجم الدین بہا الشرف سے گزرتے ہوئے ابو الفضل شیبانی پر ختم ہو تا ہے ابو الفضل اس کو دو طریقوں سے روایت کرتے ہیں رجال کا سلسلہ بڑا طویل ہے۔ مختصر یہ کہ ایک روایت کے مطابق صادق آل محمد و نے یہ دعائیں امام محمد باقر(ع) کے تحریک کردہ نسخہ سے متوکل بن ہارون کو لکھوائی تھی۔ دوسری روایت کے مطابق جناب زید شہید ( ابن علی(ع) ابن الحسین(ع)) کے ہاتھ کا لکھا ہو انسخہ بھی یحییٰ بن زید کے ذریعہ متوکل بن ہارون کی نظر سے گزرا اور انہوں نے دونوں نسخوں کو یکساں مطابق پایا۔ مرزا احمد حسن کا ظمینی کے مقدمہ'' تاریخ صحیفہ کاملہ'' ( ملحقہ ترجمہ سید علی، نظامی پریس لکھنو) کے بموجب روایت کا ایک اور سلسلہ بھی ابو الفضل شیبانی پر ختم ہوتا ہے۔ وہ اس طرح کے شیخ الطائفہ ابو جعفر طوسی کے نواسہ محمد ابن ادریس نے اپنے ماموں ابو علی حسین ( فرزند شیخ الطائفہ ) سے روایت کی جس کا سلسلہ شیخ الطائفہ سے حسن بن عبید اﷲ الفضائری اور ابو الفضل شیبانی سے ہو کر عمری بن متوکل بن ہارون تک پہنچا( حوالہ ریاض السالکین)۔ اس طرح ان تینوں اسناد میں متوکل بن ہارون مشترک راوی ہے۔

متوکل بن ہارون کا بیان ہے کہ امام صادق نے مجھے ٧٥ دعائیں حفظ کر کے لکھوائیں اس میں سے ١١دعائیں یاد نہ کرسکا باقی ساٹھ سے کچھ زیادہ محفوظ ہیں، یہی دعائیں آج ہمارے ہاتھوں میں ہیں۔ ان میں سے ٥٤ دعائیں تو صحیفہ کے تمام نسخوں میں شامل ہیں ان کے علاوہ ہفتہ کے دنوں سے مخصوص دعائیں اور دیگر دعاؤں کو ملا کر تعداد ٦٨ ہوتی ہے۔ البتہ جناب نسیم امروہوی کے ترجمہ (شایع کردہ شیخ غلام علی ) میں ١٥ مناجاتیں بھی شامل ہیں جو بقول مترجم پاک و ہند کے کسی مطبوعہ صحیفہ میں شائع نہیں ہوئیں ۔ البتہ یہ مناجات شیخ عباس قمی کی مفاتیح الجنان میں موجود ہے اور علامہ اختر عباس اور علامہ ذیشان حیدر جوادی کے اردو ترجموں میں شامل ہیں۔

بہر حال یہ حقیقت ہے کہ اس صحیفہ کی نسبت امام زین العابدین کی طرف اسی طرح شک و شبہ سے بالاتر ہے جس طرح زبور کی نسبت حضرت داؤد کی طرف اور انجیل کی نسبت حضرت عیسیٰ سے ہے ۔ دعاؤں اور مناجاتوں کا یہ مجموعہ صدیوں سے فرمان الہیٰ، معرفت بشر، تزکیہ نفس اور تلقین و تعلیم اخلاق کا ایک بے مثال وسیلہ ہے۔ یہ امام زین العابدین کا انسانیت پر احسان ہے کہ انہوں نے بیش بہا مضامین پر مشتمل اس کتاب کو اپنی نگرانی میں اپنے جگر گوشوں کے ذریعے ضبط تحریر میں لاکر اس کے متن کو کسی قسم کے شک و شبہات سے محفوظ کردیا۔

صحیفہ کاملہ کے اسناد کے ضمن میں اس کا ایک اور وصف بھی قابل ذکر ہے کہ دنیائے اسلام میں بلحاظ قدامت قرآن کے بعد یہ دوسرے نمبر پرہے صحیفہ سے پہلے صحابی امیر المومنین مسلم بن قیس الہلالی کی ایک تصنیف ہے جو ابجد الشیعہ کہلاتی ہے۔ ( حوالہ مرزا احمد حسن کاظمینی)


نسخے ، شرحیں اور ترجمے

موجود ہ دور میں جدید فن طباعت کی سہولت، کمپیوٹر اور فوٹو کاپی اور دیگر ذرائع کی موجودگی میں قلمی نسخوں کی تیاری کی مشکلات کا صحیح انداز ہ نہیں لگایاجاسکتا ۔ قدیم دور میں تمام اہم کتابوں کے نسخے لکھے جاتے تھے جن کی صحت پر علما سند اور اجازہ لکھتے تھے اور یہی نسخے حوزہ ہائے علمیہ میں علما اور طالبعلم کے زیر مطالعہ رہتے ۔ جیساکہ بیان کیا جا چکا صحیفہ کی تحریر و تدوین امام زین العابدین کی زندگی میں ہوچکی تھی۔ لیکن ناساز گار ماحول کی وجہ سے یہ علمی خزانہ عام نگاہوں سے مخفی ہو گیا۔ تاہم ارباب بصیرت نسل در نسل اس کی روایت کرتے اور بقا و تحفظ کی کوششیں عمل میں لاتے ( مرزا احمد حسن )۔ بحار الانوار کی بموجب گیار ھویں صدی میں حالات کی موافقت کے نتیجے میں ایران اور اصفہان میں کوئی گھر ایسانہ رہا کہ جہاں قرآن مجید اور صحیفہ کاملہ کے نسخے نہ ہوں۔ علامہ مجلسی کو بھی ایک قدیم نسخہ ٣٣٣ ھ کاملا تھا۔ لیکن علما اور محققین کے نزدیک سب سے قدیم نسخہ جو تمام نسخوں کی اصل تھا شیخ علی بن سکون ( متوفی ٦٠٦ھ) کے ہاتھ کا لکھا ہوا تھا۔

کتب خانہ رضویہ مشہد میں صحیفہ کے ٣٤ قلمی نسخے ہیں جن میں سب سے قدیم ١٠١٤ھ ہے۔ کتب خانہ ناصریہ میں چھٹی ،٩ ویں اور ١١ ویں صدی ہجری سے متعلق تین نسخے ہیں۔ شہید اول کا نسخہ ٧ ویں ہجری کا کتب خانہ ممتاز العلماء میں ہے۔ لاہور اور ملتان کے کتب خانوں میں ١٢ ویں صدی کے نسخے ہیں۔

نہج البلاغہ کی طرح صحیفہ کاملہ کی کئی شرحیں لکھی گئیں۔ آقائے بزرگ تہرانی نے اپنی کتاب ''الذریعہ'' میں اس عظیم کتاب کی٤ شرحوں کی نشاندہی کی ہے جن کی تفصیلی مولانا سید علی مجتہد کے اردو ترجمہ کے ملحقات میں موجود ہے ان میں سے اکثر عربی اور چند فارسی میں ہیں۔ ان میں زیادہ معروف سید علی خان کبیر کی شرح'' ریاض السالکین'' سے موسوم ہے اس کو مختصر کر کے تلخیص الریاض کے نام سے تین جلدوں پر شائع کیاگیاہے۔ اکثر علماء اور مولفین کی تالیفات میں اس کا حوالہ موجود ہے۔ ( موسسہ در راہ حق) دیگر شارحین میں محمد باقر بن محمد داماد، ملا محمد تقی مجلسی اول، ملا محمد باقر مجلس ثانی، اور شیخ بہا جیسے جید علما شامل ہیں۔ یہ بھی ایک اتفاق ہے کہ ان میں سے اکثر شرحیں ١١ ویں اور ١٢ ویں صدی ہجری میں لکھی گئی۔

صحیفہ کاملہ کو صحیفہ اولیٰ بھی کہتے ہیں کیونکہ یہ صحیفہ خود امام نے اپنی زندگی میں لکھوا دیاتھا۔ امام کے بعد اور دعاؤں کو سات صحیفوں میں جمع و تالیف کیا گیا اور ان کو صحیفہ ثانیہ ثالثہ تاثامنہ کہا گیا ۔ ان کے مولفین میں شیخ محمد بن حسن الحر عاملی (وسائل الشیعہ) مرزا عبداﷲ آفندی ( ریاض العلماء ) مرزا حسین نوری ( مستدرک) شامل ہیں ۔ اسلامی تصانیف میں صحیفہ کاملہ دعاؤں کی پہلی کتاب ہے اس لحاظ سے تمام قدیم اور معتبر کتابوں میں اس کو بہ حیثیت ماخذ قرار دیا گیا ۔ کتب و ظائف اور اعمال میں اس کا حوالہ ملتا ہے جس کی مثالیں شیخ الطائفہ ( مصباح المجتہد۔٨ دعائیں) قطب الدین راوندی ( دعوات ٣٠ دعائیں) رضی الدین بن طاؤس ( اقبال ٧ دعائیں) اور شیخ ابراہیم بن علی الکفعمی ( بلد الامین ١٠ دعائیں) ( مقدمہ علامہ محمد:مشکوٰۃ)

اردو ترجموں میں علامہ سید محمد ہارون ، سید علی مجتہد، مفتی جعفر حسین، سید مرتضیٰ حسین اور نسیم امروہوی کے نام قابل ذکر ہیں۔ علامہ سید علی کے ترجمہ میں دیگر علما کے مقدمات شامل ہیں۔ مفتی جعفر حسین کے ترجمہ کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ ہر دعا کے اختتام پر اس کے مضمرات کی تشریح کی گئی ہے ۔ جو دعا کے عرفانی پہلو کو اجاگر کرتی ہے۔ نسیم امرہوی کے ترجمہ میں الفاظی تشریح سے انکا عربی لغت پر عبور اور استعداد عیاں ہے۔ صحیفہ کے بے شمارو فارسی ترجمے ہیں۔ ترکی اور گجراتی میں بھی ترجمے کئے گئے ہیں۔

انگریزی میں ایک ترجمہ مولانا احمد علی موہانی کا ہے جو مدرسۃ الواعظین لکھنو سے شائع ہوا۔ اس ترجمہ کے متعلق کہا جاتا ہے کہ ہندو فلسفہ کے استاد ڈاکٹر رانا ڈے نے اس ترجمہ کو دیکھ کر الہ آباد یونیورسٹی میں '' اسلامک فلسفہ '' کو بھی د رس میں شامل کیا۔ اس کے علاوہ چیدہ چیدہ دعاؤں کے انگریزی ترجمے بھی کئے گئے ہیں۔

انگریزی میں ایک ترجمہ ولیم چٹک کا بھی ہے اس کو(The Psalms of Islam) الصحیفہ الکاملہ السجادیہ '' کے نام سے محمدی ٹرسٹ برطانیہ /آئر لینڈ نے ١٩٨٧ء میں شائع کیا ہے۔ مترجم نے مقدمہ میں صحیفہ کی تاریخ ، اسلام میں نماز و دعا کی اہمیت، توحید عفو در گزر، اسما الحسنیٰ اور صحیفہ کی روحانیت پر سیر حاصل بحث کی ہے۔ آخر میں امام کے رسالہ حقوق کا بھی ترجمہ شامل ہے۔ انگریزی ترجمہ ایک طرح کی آزاد نظم کے پیرایہ میں ہے جو پڑھنے میں مناجات کا اثر پیدا کرتا ہے۔ یہاں یہ قابل ذکر ہے کہ اس انگریزی ترجمہ میں عربی کے متن کی تصیح اور ترتیب جناب عطا محمد عابدی مرحوم نے محنت اور لگن سے کی ہے جس کا مترجم نے اعتراف کیا ہے۔ اوپر بیان کردہ شرحوں اور ترجموں کی تفصیل حتمی نہیں بلکہ بطور نمونہ ہے تاکہ اس کتاب کی مقبولیت کا اندازہ ہوسکے ۔ ان کے علاوہ اور بھی شرحیںاور تراجم موجود ہوسکتے ہیں۔

علمائے فریقین نے بھی اپنی تالیفات میں اس صحیفہ کا ذکر کیا ہے۔ شیخ الاسلام قسطنطنیہ شیخ سلیمان قندوزی نے ''ینابیع المودۃ فی القربی'' میں اس صحیفہ سے اکثر دعائیں نقل کی ہے۔ یہ بھی قابل ذکر ہے کہ اخبار اثنا عشری دہلی ( مطبوعہ ٩ مئی ١٩٠٨ء ) کے بموجب جرمنی کے فاضل ہامر برگ اشتال نے اپنی تالیف ''میقات الصلوٰۃ فی سبعہ اوقات'' میں اچھے مضامین اور زور اثر دعاؤں کے ضمن میں امام کی تعلیم کردہ دعائے ابو حمزہ ثمالی کا ذکر کیا ہے۔ ( اولاد حیدر فوق)


اسلوب بیان

ائمہ علیہ السلام کے لبوں سے نکلا ہوا کلام امام الکلام بن جاتا ہے چاہے وہ نہج البلاغہ ہو یا صحیفہ کاملہ۔نہج البلاغہ اپنے اسلوب میں علی(ع) کی شجاعت اور فصاحت کی عکاسی کرتی ہے۔ شارع نہج البلاغہ استاد محمد عبدہ ( مصری) کے بموجب نہج البلاغہ میں ''بلاغت کا زور ہے فصاحت پوری قوت سے حملہ آور ہے لڑائیاں چھڑی ہوئی ہیں خطابت کے لشکر صف بستہ ہیں طلاقت کی فوجیں شمشیر زنی میں مصروف ہیں۔ علی علیہ السلام کا طرز خطاب وہی ہے جو ایک امام کا ماموم سے بر سر منبر ہونا چاہئے اور جو سلونی کے مبارزہ سے ایک امتیازی حیثیت اختیار کر گیا۔ اس کے بر خلاف صحیفہ کاملہ کا اسلوب موعظہ، انکساری ، دعائیہ اور مناجاتی ہے کیونکہ انسان کو مانگنے کا سلیقہ سکھاتا ہے ۔ یہ ایک ادبی معجزہ ہے جس میں دعا بھی ہے اور نیکی کے راستے پر چلنے کی دعوت بھی ہے۔ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے اس کی تدوین و ترتیب مین کس قدر احتیاط کی ضرورت تھی۔ صحیفہ کے مطالعہ سے دل کی گہرائیوں سے نکلی ہوئی الحاح و زاری اور مناجات کا فطری احساس ہوتا ہے جو خلوص کی علامت ہے۔

صحیفہ کاملہ کی طرز نگارش کے ضمن میں مفتی جعفر حسین لکھتے ہیں '' دور جاہلیت اور اوائل اسلام میں بھاری اور دقیق الفاظ کی طرز تحریر کا رواج عام تھا جو قبائلی عصبیت کی آئینہ دار تھی اس کا مقصد مد مقابل پر رعب جمانا تھا۔ اس کے برعکس صحیفہ کاملہ میں سلاست و روانی اور سادہ طرز نگار ش ہے جو اصل فصاحت ہے اس سہل اور دلنشین طرز تحریر کا اصل محرک دعا و مناجات ہے جو کسی مرصع اور مسجع عبارت کے تضح کی محتاج نہیں ۔ درد و غم کی آہوں اور کرب و اضطراب کی صداؤں پرمشتمل دعاؤں اور مناجات میں نہ فلسفیانہ الجھاؤ ہیں نہ مظقیانہ پیچ و خم ہیں۔''

مصر کے عظیم عالم اور تفسیر الجواہر کے مصنف علامہ طظاوی صحیفہ کا ملہ کے متعلق رقم طراز ہیں۔ '' علوم و معارف اسلامی کو اس کتاب میں جس انداز سے پیش کیا گیا ہے اس کی نظیر نہیں ملتی، میں جس قدر بھی اس کا مطالعہ کرتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ یہ کلام خالق اکبر کے کلام سے کم تر اور مخلوق کے کالم سے بالاتر ہے۔ ''( تفسیر الجواہر)۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ تیرہ سو برس سے یہ جلیل القدر کتاب دنیائے اسلام میں موجود ہے لیکن اس پر توجہ نہیں دی گئی۔ اس صحیفہ کو اسلامی دنیا کے سب سے بڑے مرکز مصر میں یہ متعارف کرانے کا سہرا ڈاکٹرمجتبیٰ حسن کامو نپوری کے سر ہے۔ مصر میں یہ ایک نئی چیز سمجھی گئی اور وہاں کے علما اور پروفیسر وں نے اس صحیفہ پربسیط مقالے لکھے جو ہندو ستان کے عربی رسالہ '' الرضوان'' میں شائع ہوئے۔ سید العلماء علی نقی نقن صاحب نے ان مضامین کا اردو ترجمہ کیا جس کو امامیہ مشن '' صحیفہ سجادیہ کی عظمت'' کے عنوان سے شائع کیاہے۔ یہ ایک قابل تحسین خدمت ہے اس مختصر کتاب میں علامہ طظاوی، استاد محمد کامل حسین جامعہ مصر اور استاد احمد جمعہ ابیوتی کلیہ شریعت اسلامی مصر کے تحقیقی مضامین شامل ہیں۔ ان مضامین میں صحیفہ کاملہ کی دعاؤں کا عالمانہ تجزیہ ان کے تعلیمی اور تبلیغی پہلو اور امت مسلمہ کے لئے ان کی افادیت پر بحث کی گئی ہے۔ علامہ طنطاوی کے قلم سے اس کتاب کے اسلوب اور قرآن سے مطابقت کا اندازہ لگائیے کے وہ لکھتے ہیں بار الہا یہ تیری کتاب قرآن مجید ہے اور یہ اہلبیت کی ایک بزرگ ہستی کے ارشادات ہیں ان میں ایک وہ ہے جو آسمان سے نازل ہوئی ہے اور دوسرا اہلبیت صدیقین میں سے ایک صدیق کی زبان سے نکلا ہوا کلام ہے یہ دونوں آپس میں بالکل متحدہ اور متفق ہیں'' پھر تمام مسلمانوں کو مخاطب کر کے کہتے ہیں '' اے فرزند ان اسلام، اے اہلسنت ، اے اہل تشیع کیا اب بھی وہ وقت نہیں یا کہ تم قرآن اور اہلبیت کے زریں مواعظ وحکم سے سبق حاصل کرو یہ دونوں تمہیں ان علوم و معارف کی تحصیل کی طرف بلا رہے ہیں۔''


تجزیاتی مطالعہ

بہ حیثیت کتاب صحیفہ کاملہ کے تجزیہ کے کئی پہلو نکل سکتے ہیں۔ اپنی دانست کے مطابق میں اس صحیفہ کو تین زاویوں سے دیکھنا پسند کرونگا۔

الف: صحیفہ بطور دعاؤں کا مجموعہ

ب۔ صحیفہ کی دعاؤں اور قرآن میں ہم آہنگی اور

ج: صحیفہ کے علمی اور تبلیغی پہلو

الف: دعاؤں کی ایک کتاب کی حیثیت سے اس کے مضامین کا تناظر(Spectrum) بہت وسیع ہے۔ اس کی٥٤دعاؤںاور مناجاتوں کی مقاصد کے اعتبار سے حسب ذیل تقسیم ہو سکتی ہے۔

١۔ عبادات اور تقویٰ سے متعلق دعائیں۔ حمد و ثناء ، انبیائ، محمد و آل محمد (ص) اور فرشتوں کا ذکر ، طلب مغفرت، طلبرحمت، موت کا ذکر، مکارم الاخلاق، توبہ اور ادائے شکر کی دعائیں۔

٢۔ حقوق العباد سے متعلق دعائیں:ان میں والدین ، اولاد ، دوست، ہمسایہ اور حدود مملکت کی نگرانی کرنےوالوں کے لئے دعائیں۔

٣۔ انسانی ضروریات کی تکمیل کی دعائیں: حاجت براری، داد خواہی، بیماری سے نجات، ادائے قرض، وسعت،رزق اور دشمنوں سے بچاؤ کی دعائیں۔

٤۔ خاص مواقع کی دعائیں: صبح و شام نماز شب ، ایام ہفتہ ، رویت ہلال، عیدیں، جمعہ ، عرفہ ، ماہ صیام اور ختمقرآن کی دعائیں۔

محققین کا خیال ہے کہ بعض دعائیں بالکل فی البدیہہ ہو سکتی ہیں اور بعض طویل دعائیں مقاصد کو پیش نظر رکھ کر مدون کی گئیں بظاہر تو یہ دعائیں ہیں لیکن ان میں علم طب ، نفسیات، فلکیات، معاشرت اور اخلاقیات کے سمندر کو زہ میں بند ہیں۔

ب: صحیفہ اور قرآن مجید کے تعلق کے سلسلہ میں یہ عرض ہے کہ صحیفہ کی دعاؤن میں حمد و ثنائ، صفات الہی ، اوصاف محمد و آلِ محمد کے ذکر کے ساتھ خاص مقاصد کے حصول کے لئے خدا سے امداد کی طلب ہے۔ ان دعاؤں میں قرآنی آیات کا نفوذ(Fusion) ایک اہم اور خصوصی عمل (Process) ہے جو باری تعالیٰ کے سامنے اپنے مقاصد کو پیش کرنے استعمال کیا گیا ہے۔

اس عمل کو سمجھنے کے لئے یہ سوچین کہ ہم جب کسی حاکم کے سامنے درخواست پیش کرتے ہیں تو رائج الوقت قانون کے حوالوں کے ذریعہ اپنے مطلب اور مدعا کو مستحکم کرتے ہیں بالکل اسی طرح امام نے دعاؤں میں حسب موقع قرآن سے ایسے آیات اور الفاظ کا انتخاب کیا ہے جو دعاؤں کے مقصد سے ہم آہنگ ہیں۔ ولیم چٹک نے اپنے ترجمہ میں جس کا ذکر آچکا ہے صحیفہ کی دعاؤں میں ان مقامات کی نشاندہی کی ہے جہاں قرآنی حوالے ہیں یہ ایک قابل تحسین کام ہے۔ رقم الحروف نے اس فہرست پر مزید تحقیق کی جس کے مطابق صحیفہ میں قرآنی آیات کے نفوذ(Fusion) کے تین انداز پائے جاتے ہیں۔

١۔ دعا کے تسلسل میں قرآنی آیات کلی یا جزوی طور پر اپنی اصلی شکل میں ہیں(Original Form) ایسے ٩٠حوالے ہیں۔

دعا گناہوں سے معافی (٨): انت الذی وسعت کل شیئ رحمۃ و علماتو وہ ہے جو اپنی رحمت اور علم سے ہر چیز پر چھایا ہوا ہے۔

قرآن سورۃ مومن (٧) ربنا وسعت کل شیئ رحمۃ وعلما فاعفر للذین تابواے ہمارے پرور دگار تو اپنی رحمت اور علم سے ہر چیز پر چھایا ہے جو لوگ تو بہ کئےانہیں بخش دے۔

٢۔ دعا کے الفاظ اور قرآنی آیات میں مماثلت پائی جاتی ہے(Comparability) ٤٠حوالے ۔

دعا: ختم قرآن (٤٤) وبیض و جوھنا یوم تسود وجوہ الظلمۃ فی یوم الحسرۃروز قیامت کا ذکر: ہمارے چہروں کو نورانی کرنا جبکہ حسرت و ندامت کے دن ظالموںکے چہرے سیاہ ہونگے۔

قرآن سورہ آل عمران (١٠٦) یوم بیض و جوہ و تسود وجوہایمان لاکر کفر کرنے والوں کا ذکر جس دن بہت سے منہ نورانی اور بہت سے سیاہ ہونگے۔

٣۔ دعا کے الفاظ میں قرآنی آیت کا بالواسطہ اشارہ موجود ہے(Allusion) ٦٦حوالے۔

دعا: کسی بات پر غمگین ہونا: واجعل تقواک من الدنیا زادی والیٰ رحمتک رحلتیاور پرہیز گاری کو دنیا سے تیری رحمت کی طرف سفر کا تو شہ بنادےقرآن سورہ بقرہ (١٩٧) و تزو دفان خیر الزاد التقوےحج اور عمرہ کا ذکر: ( جب حج کرنے جاؤ) تو پرہیز گاری کا زادور اہ اپنے ساتھ لے جاؤ۔

یہ علم معصوم کا ادنیٰ کرشمہ ہے کہ قرآن کے ١١٤ سوروں اور ٦٦٦٦ آیات میں سے امام نے جہاں سے چاہا دعا کے مفہوم کے مطابق آیت کو پسند کرلیا اور دعا کے تسلسل میں اس طرح پیوست کردیا کہ عام قاری کو قرآن اور امام کے الفاظ میں کوئی فرق نظر نہیں آسکتا صحیفہ کی دعاؤں میں تقریباً ٢٢٥ قرآنی حوالے موجود ہیں جو قرآن کے ایک دو نہیں ٧٠ سوروں میں پھیلے ہوئے ہیں۔ ان زندہ شہادتوں کے بعد کیا اب بھی کسی کو شک ہے کہ وارث علم قرآن کو ن ہے۔ ؟کیا حدیث ثقلین کی اور کوئی تفسیر باقی ہے؟

ج: علمی اور تبلیغی پہلو:

صحیفہ کاملہ کی دعائیں نور کا ایک منارہ اور معارف کا سمندر ہیں اس کی معنوی حیثیت کے سلسلہ میں ریاض السالکین (سید علی خان) اس کو کتب سماویہ اور صحف عرشیہ کے قائم مقام سمجھتے ہیں، ان دعاؤں میں قرآن، حدیث ، تاریخ، فلسفہ اور کائنات کے سربستہ رازوں کے حوالے بھی ہیں جوغور و فکر کی دعوت دیتے ہیں اس مقالہ میں مختصر چند خصوصیات کا ذکر کیا جارہا ہے۔

١۔ توحید اور تعلق باﷲ:

صحیفہ کاملہ کی دعاؤں میں توحید اور تعلق باﷲ کے مسائل پر بہت زور دیا گیا ہے موجودہ ماحول میں تویہ مذہب کے بنیادی اصول شما رکئے جاتے ہیں لیکن اموی دور میں ان بنیادی اصول پر کاری صرف لگائی جارہی تھی۔ جب علی الاعلان یہ کہا گیا کہ محمد نے ایک کھیل کھیلا تھا۔ نہ کوئی وحی آئی نہ فرشتہ ، توحید الہیٰ کے ذکر کی ایک مثال دعائے اول میں ہے جہاں امام فرماتے ہیں۔

''الحمدللّٰلہ الا ول بلا اول و الآخر بلا آخر یکون بعدہ '' ( تعریف اس خدا کی جو ایسا اول ہے جس کے پہلے کوئی اول نہ تھااور ایسا آخر جس کے بعد کوئی آخر نہ ہوگا۔)

٢۔صفات باری تعالیٰ:

صفات باری تعالیٰ میں عدل ایک ایسا وصف ہے کہ اگر انسان اس کی ماہیت سمجھ لے تواس کے تمام اعمال میں ایک توازن اور تنازسب قائم رہ سکتا ہے بنی امیہ نے اپنے اعمال اور ظلم کی پردہ پوشی کے لئے یہ عقیدہ پھیلا نا شروع کیا تھا کہ خدا کے لئے عدل ضروری نہیں۔ امام کی دعاؤں میں جابجا خدا کی صفات کا موثر الفاظ میں بیان موجود ہے۔ بالخصوص یوم عرفہ کی دعا اس ضمن میں ایک شاہکار ہے۔

٣۔رسالت اور امام کا رتبہ:

بقول نسیم امروہوی بنی امیہ نے اپنے ابتدائی دور میں رسول (ص) اور عترت رسول (ع) کے خلاف تیغ زبان ( سب و ششم) کی جو مذموم تحریک شروع کی تھی یزید نے اس کو زبان تیغ ( جنگ) میں بدل دیا اور سانحہ کربلا و اقع ہوا۔ امام نے اپنی دعاؤں میں ان ذوات مقدسہ کی منزلت سے روشناس کرایا، ایک دعا میں ان الفاظ میں محمد اور آل محمد (ص) کی فضیلت کا تذکرہ کیا ہے۔ وجعلتھم و رثتہ الانبیاء وختم بھم الاوصیا والا ئمہ وعلمتھم علم ما کان وما بقی ( اور آل محمد (ص) کو انبیاء کا وارث بنایا، ان پر اولیا اور اماموں کا سلسلہ ختم کیا اور انہیں ماضی حال ، اور مستقبل کا علم عطا کیا۔)

٤۔ کائنات میں تفکر:

قرآن میں جا بجا قدرت کی تخلیقات کی طرف اشارہ ہے، عام آدمی کو منطق اور فلسفہ سے دلچسپی نہیں ہوتی وہ ٹھوس ثبوت چاہتا ہے اسی مناسبت سے امام نے دعا ؤں میں کائنات کے مظہر ، رات اور دن کے وجود ، چاند کی مخصوص مدار میں گردش ، اس کا بڑھنا، گھٹنا، گرہن لگنا، آندھی اور بجلی کا قدرت کا نشانیوں کے طور پر اپنی دعاؤں میں ذکر کیاہے۔ سائنسی ترقی کے نتیجہ میں ان سر بستہ رازوں پر سے پردہ اٹھ رہا ہے اور ان کی صداقت عیاں ہو رہی ہے لیکن ١٤ سو سال پہلے ان امور پر بحث کرنا اسی کا کام ہے جو علم کائنات جانتا ہو۔ مفتی جعفر حسین نے سائنسی انکشافات بالخصوص اجرامِ فلکی کے وزن کے متعلق ایک تفصیلی نوٹ دیاہے جو پڑھنے کے لائق ہے۔

٥۔ انابت و استغفار:

اس دور میں فسق و فجور عام تھا اور گناہوں کے ارتکاب میں نہ صرف بے شرمی تھی بلکہ دلیری بھی تھی۔ ضروری تھا کہ نوجوانوں کو انابت و استغفار سوزوگداز، خضوع و خشوع کے راستے دکھائیں جو دعا کی بنیاد اور تقویٰ کی ر وح ہے ۔دعائے مکارم الاخلاق اور توبہ میں انکساری کی بے شمار مثالیں ہیں۔ ایک جگہ کہتے ہیں ''لا آئیس منک و قد فتحت لی باب التوبہ الیک'' ( میں تجھ سے مایوس نہیں ہو سکتا جبکہ تو نے توبہ کا درازہ کھلا رکھا ہے) دعائے مکارم الاخلاق کا تجزیہ کرتے ہوئے سید العلماء نقن صاحب نے انسان کے عقیدہ ، قول اور عمل کو اس کے کمالات کی بنیاد قرار دیا ہے جو بلا آخر دل ، زبان اور جوارح کے ذریعہ نیکیوں اور برائیوں کی شکل میں رونما ہوتے ہیں ۔ ان فضائل اور رزائل کی ایک طویل فہرست بھی دی گئی ہے ایک مثال حسب ذیل ہے۔

دل : فضائل : ایمان ، یقین ، حسن نیتعیوب: غرور ، شک ، حسد، خوشامدزبان: فضائل: شکر نعمت، عیب پوشی، حق گوئی، حمد پرور دگارعیوب : غیبت کرنا، فحش کلامی ، احسان جتاناجوارح: فضائل : حسن عملی ، صلہ رحم ، اطلاعت خدا ، رزق حلال کا حصول ، ادائی حقوقعیوب: شیطان کی اطاعت، قطع رحم ، حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی ، فضول خرچی۔

تتمہ:

ان مطالب کے علاوہ صحیفہ میں اقتصادیات ، سیاست اور اتحاد بین المسلمین سے متعلق امور کے حوالے میں موجود ہیں۔

صحیفہ کاملہ کے اس تجزیاتی مطالعہ کے اختتام پر خلاصتاً عرض ہے کہ یہ صحیفہ علوم اور معارف کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے، ایک یہ قدسی صفات بندہ کی اپنی پوری عبودیت سے مناجات الہیٰ ہے جو تاریک دلوں کو روشنی اور زنگ آلود ضمیر میں نکھار پیدا کرتی ہے۔ اسلام میں مادی ترقی کے ساتھ ساتھ روح کی ارتقاء کو بھی ضروری قرار دیا گیا ہے تاکہ عبدو معبود کے درمیان ایک سچا تعلق قائم رہ سکے۔ وقت کا تقاضہ ہے کہ د رس قرآن کی طرح نہج البلاغہ اور صحیفہ کاملہ کے مطالعہ کا ایک با قاعدہ پروگرام ترتیب دیا جائے، خدا ہمیں نیک توفیقات سے سر فراز کرے۔


حوالے:

اس مقالے کی تدوین میں اسلامک کلچر اور ریسرچ ٹرسٹ کی شیخ مفید لائبریری سے استفادہ کیا گیا۔ علاوہ اس کے سید سبط حمد رضوی صاحب کی معاونت سے ولیم چٹک کے ترجمہ تک رسائی ممکن ہوسکی۔

١۔ سید علی مجتہد مترجم ( ١٩٥١) ترجمہ صحیفہ کاملہ ، نظامی پریس لکھنوی ۔

٢۔ مفتی جعفر حسین ، مترجم ( ١٣٧٩ھ) صحیفہ کاملہ ، امامیہ کتب خانہ ، لاہور۔

٣۔ سید قائم رضا نسیم امروہوی، مترجم، صحیفہ کاملہ یعنی زبور آل محمد شیخ غلام علی اینڈ سنز ، لاہور۔

٤۔ استاد مرتضیٰ حسین، مترجم(١٩٦٢) مختصر صحیفہ کاملہ۔ ادارہ علوم آل محمد، لاہور

٥۔ استاد مرتضیٰ حسین، مترجم، صحیفہ علویہ، شیخ غلام علی سنز ، لاہور

٦۔ سید علی نقوی،مترجم ، صحیفہ سجادیہ کی عظمت، امامیہ مشن ، لاہور۔

٧۔ سید امیر امام حر۔ امام حریت حضرت علی ابن الحسین ۔ مجلس امامیہ پاکستان ، کراچی

٨۔ علی اصغر ، حقیقت دعا۔ ناشر سید محمد عباس رضوی، ملیر کراچی ( ١٩٧٥)

٩۔ سید احمد علی عابدی، مترجم ( ١٩٨٢ئ) حضرت امام زین العابدین ۔ موسسہ درراہ حق، قم ۔

١٠۔ ولیم ۔ سی چٹک، مترجم (١٩٨٧ئ)

The Psalms of Islam, Al-Sahifat Al-Kamilat-Sajjadiya

محمدی ٹرسٹ، برطانیہ وائر لینڈ۔

١١۔ اولاد حیدر فوق بلگرامی (١٣٦٦ئ) صحیفۃ العابدین، سوانح عمری امام زین العابدین ، ولی العصر ٹرسٹ، جھنگ۔

١٢۔ ادارہ یاد گار حسینی کونسل ۔ صحیفہ حسینیہ ، دعائیں حضرت امامحسین (ع) ، کراچی ( ١٩٩٢)

١٣۔ علامہ رشید ترابی، مجلس شام غریباں۔ عنوان دعا۔ ترابی کیست (١٩٧١ئ)

١٤۔ سید کمال حیدر رضوی، مجلس توشثہ آخرت ۔(برمکان میر محمد علی) عنوان '' صحیفہ کاملہ اور جامعہ امام صادق''(١٩٩٨ئ) کیسٹ۔

 

l; wid�gB ;+0�,cing: 0px; -webkit-text-size-adjust: auto; -webkit-text-stroke-width: 0px; text-align: justify; background-position: initial initial; background-repeat: initial initial;">٤۔ کائنات میں تفکر:

Add comment


Security code
Refresh