www.Ishraaq.in (The world wide of Islamic philosophy and sciences)

وَأَشۡرَقَتِ ٱلۡأَرۡضُ بِنُورِ رَبِّهَا

۴۔مغربی نسبی گرائی نظریہ کی ترویج (وتبلیغ)کرنے والے
مغرب پرست روشن خیال
قارئین کرام ! مغربی ممالک میں پھلے یہ نظریہ پیش کیا کہ دین کی زبان؛ سائنس کی زبان سے مختلف ھے اور دین کی زبان کسی بھی طرح کے حقائق پر مبنی نھیں ھے، بلکہ دین کی زبان قصہ کھانی اور افسانہ کی زبان ھے، لیکن مشرقی ممالک سے مغربی ممالک کے تعلقات اور علمی تبادلہ خیالات اور مغربی ممالک میں اسٹوڈینٹ کا تعلیم حاصل کرنے وغیرہ جیسے امور کی وجہ سے یہ نظریہ مشرقی ممالک میں بھی آگیا مغرب پرست اور مغربی کلچر کے عاشق اور دلدادہ نیز مغربی ممالک میں تعلیم یافتہ اسٹوڈینٹ وغیرہ مغربی تمدن کے شیدائی بن گئے ، اور وھاں کی تعلیم اور وھاں کی زبان سے آشنائی کو اپنے مھم افتخارات میں شمار کرنے لگے، اور اس الحادی تھیوری اور نظریہ کے حصول کو اپنے لئے باعث سرفرازی سمجھنے لگے، نیز اس نظریہ کو کار گر اور بھترین تحفہ کے عنوان سے عالم اسلام میں داخل کردیا، اور کھا کہ جس طرح مغربی ممالک میں توریت اور انجیل کے ماننے والے اپنے دین کی زبان کو غیر واقع نما زبان قرار دیتے ھیں اور اس کو صرف قصہ کھانی کی زبان مانتے ھیں جو کسی بھی طرح کے حقائق کو بیان نھیں کرتی، اسی طرح قرآن کریم کی زبان بھی قصہ کھانی اور افسانہ کی زبان ھے جس میں حقائق سے کوئی سرو کار نھیں ھے۔!!
عالم اسلام میں بعض عربی ممالک جو اھل بیت علیھم السلام کی تعلیم سے آشنائی نھیں رکھتے تھے لھٰذا انھوں نے اس تھیوری اور نظریہ کو قبول کرلیا اور بعض عربی اھل قلم نے اس سلسلہ میں کتابیں بھی لکہ ڈالیں اور اپنے دعویٰ کو ثابت کرنے کے لئے شواھد یا ”مستندات قرآن“ کا بھی ذکر کیا اور جب انھوں نے قرآن مجید کی متشابہ آیات کو دیکھا جن کو سمجھنے سے قاصر رھے اور ان کے حقیقی معنی کو درک نہ کرسکے، اور ان کے ظاھری معنی کو علم اور سائنس سے ھم آھنگ نہ پایا تو توریت و انجیل کے ماننے والوں کی طرح اپنے دینی عقائد کی افسانوی تفسیر و توضیح کرنے لگے، اور قرآن مجید کی بھی افسانوی اور سمبلیک "Symbilec" (رمزی) تفسیر کرنا شروع کردی تاکہ اپنے خیال ناقص میں سائنس کے نظریات کے، دینی عقائد اور دینی مسائل سے ٹکراؤ کا راہ حل پیش کرسکیں تقریباً تیس سال سے خصوصاً ان آخری چند سالوں میں یورپ اور امریکہ میں تعلیم یافتہ لوگوں نے اس سلسلہ میں بھت زیادہ فعالیت اور کار کردگی کی تاکہ مغربی تمدن کے اس نظریہ کو ھمارے معاشرہ میں رواج دیں اور قرآن کی زبان کو قصہ کھانی اور افسانوی زبان کھہ ڈالا، اور اپنے مقصد میں کامیاب ھونے کے لئے قرآن مجید کی بعض رمزی اور سمبلیک تفسیر کے چند نمونہ پیش کئے:
۵۔ ھابیل اور قابیل کے واقعہ سے انحرافی نتیجہ
تیس سال پھلے انحرافی اور مارکسسٹ "Marxist" نظریہ رکھنے والے ایک صاحب نے اپنی ایک تقریر میں ھابیل و قابیل کے واقعہ سے سمبلیک "Symbilec" تفسیر کی۔
جب کہ قرآن مجید میں اصل واقعہ اس طرح بیان ھوا ھے:
( وَاتْلُ عَلَیْھمْ نَبَاٴَ ابْنَیْ آدَمَ بِالْحَقِّ إِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنْ اٴَحَدِھمَا وَلَمْ یُتَقَبَّلْ مِنْ الْآخَرِ قَالَ لَاٴَقْتُلَنَّکَ قَالَ إِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللهُ مِنْ الْمُتَّقِینَ (۱)
” اور اے پیغمبر ! آپ ان کو آدم کے دونوں فرزندوں کا سچا قصہ پڑہ کر سنائیے کہ جب دونوں نے قربانی دی اور ایک کی قربانی قبول ھوگئی اور دوسرے کی نہ ھوئی تو اس نے کھا کہ میں تجھے قتل کردوں گا تو دوسرے نے جواب دیا کہ میرا کیا قصور ھے خدا صرف صاحبان تقویٰ کے اعمال قبول کرتا ھے “
اسلامی کتب میں واردہ شدہ روایات سے استفادہ ھوتا ھے کہ جناب آدم علیہ السلام کے دو بیٹے ھابیل و قابیل کو خدا کی بارگاہ میں قربانی کرنا تھی چنانچہ قابیل نے ایک گوسفند کی قربانی کی، اور جناب ھابیل نے ایک مقدار گیھوں راہ خدا میں ھدیہ دئے، جناب ھابیل کی قربانی بارگاہ رب العزت میں قبول ھوگئی لیکن قابیل کی قربانی قبول نہ ھوئی، جس کے بنا پر قابیل کو جناب ھابیل سے حسد ھونے لگا یھاں تک کہ جناب ھابیل کو قتل کردیا؛ لیکن اپنے کئے پر پشیمان ھوا اس کے بعد اپنے بھائی کے جنازہ کے بارے میں فکر ھوئی کہ اس کو کیا کرے تو خداوندعالم نے ایک کوّے کو بھیجا جس نے قابیل کو دفن کرنے کا طریقہ سکھادیا۔
( فَبَعَثَ اللهُ غُرَابًا یَبْحَثُ فِی الْاٴَرْضِ لِیُرِیَہ کَیْفَ یُوَارِی سَوْاٴَةَ اٴَخِیہ قَالَ یَاوَیْلَتَا اٴَعَجَزْتُ اٴَنْ اٴَکُونَ مِثْلَ ھذَا الْغُرَابِ فَاٴُوَارِیَ سَوْاٴَةَ اٴَخِی فَاٴَصْبَحَ مِنْ النَّادِمِینَ ) (۲)
” پھر خدا نے ایک کوّا بھیجا جو زمین کو کھود رھا تھا کہ اسے دکھلائے کہ بھائی کی لاش کو کس طرح چھپائے گا تو اس نے کھا کہ افسوس میں اس کوّے کے جیسا بھی نہ ھوسکا کہ اپنے بھائی کی لاش کو زمین میں چھپا دیتا اور اس طرح وہ نادمین اور پشیمان لوگوں میں شامل ھوگیا ۔“
کوّے نے اپنی غذا کو چھپانے کے لئے زمین میں ایک گڑھا گھودا اور اپنی غذا وھاں چھپادی؛ جب خداوندعالم کے حکم سے کوّے نے زمین میں اپنی غذا کو دفن کیا تو کیونکہ قابیل کو نھیں معلوم تھا کہ زمین میں مردہ کس طرح دفن کیا جاتا ھے، لیکن کوّے کے کام سے اپنے مردہ بھائی کے دفن کا طریقہ سیکہ لیا۔
وہ مقرر اور موٴلف اس واقعہ کے بارے میں اپنی سمبلک تفسیر میں کھتا ھے:
اس واقعہ میںجناب ھابیل زحمت کش اورکاشتکاری کا ایک نمونہ ھے جو بھت زیادہ زحمت کے بعد بھت کم نتیجہ حاصل کرتا ھے اور چونکہ خداوندعالم اس طبقہ کا طرفدار ھے لھٰذا خداوندعالم نے اس کا نا چیز ھدیہ قبول کرلیا اور قابیل مالداری کا نمونہ ھے اور جب ایک مالدار نے گوسفند کی قربانی کی تو خدا نے اس کو قبول نھیں کیا ؛ کیونکہ خداوندعالم مالداری کا دشمن ھے چنانچہ اس مقرر نے اس واقعہ سے یہ نتیجہ نکالا کہ ھابیل وقابیل اور گندم اور گوسفند کی قربانی کوئی حقیقت نھیں رکھتااور صرف سمبلیک "Symbilec" (رمزی) پھلو رکھتا ھے، اور یہ واقعہ مزدور اور مالدار طبقوں کے درمیان اختلاف اور جنگ و کشمکش کی حکایت کرتا ھے (لیکن یھاں پر یہ سوال پیدا ھوتا ھے کہ اس زمانہ میں جناب آدم و حوا اور ان کے دونوں فرزند ھابیل و قابیل کے علاوہ کوئی تھا ھی نھیں کس طرح غریب، مزدور اور مالدار طبقہ کا تصور کیا جاسکتا ھے، اور اس طرح کی طبقاتی تقسیم اس زمانہ کے لئے معنی نھیں رکھتی بھر حال مارکسسٹ "Marxist" نظریہ کے رواج اور اس الحادی نظریہ کے طرفداروں کی وجہ سے یہ سمبلیک تفسیر قابل قبول قرار پائی )
قارئین کرام ! مذکورہ مقرر نے ھابیل وقابیل کے بارے میں تو یہ سمبلیک تفسیر بیان کردی لیکن یہ نھیں بتایا کہ کوّا کس چیز کا نمونہ تھا؛ یھاں تک کہ اس کے ایک شاگرد نے اس کے بارے میں ایک نظریہ پیش کیا کہ وہ کالا کوّا مولویوں کا نمونہ تھا جو مجلس پڑھتے ھیں اور عزاداری کرتے ھیں جو منبر پر جاکر روزی کے سیاہ وسفید کے بارے میں بیان کرتے ھیں اور مالداروں اور سرمایہ داروں کی حمایت کرتے ھیں اور مزہ کی بات یہ ھے کہ اس سلسلہ میں خداوندعالم ارشاد فرماتا ھے : ( وَاتْلُ عَلَیْھمْ نَبَاٴَ ابْنَیْ آدَمَ بِالْحَقِّ إِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا )یعنی(اے رسول) اس واقعہ کی حقیت لوگوں کے لئے بیان کریں، گویا خداوندعالم یہ خبر دے رھاھے کہ ایک روز ایسا بھی آئے گا جب اس واقعہ کے سلسلہ میں غلط بیانی سے کام لیا جائے گا، لھٰذا آپ پھلے ھی اس واقعہ کی حقیقت کو بیان فرمادیں۔
جی ھاں، ان چند سالوں میں بعض مغربی ممالک کے کلچر سے متاثر افراد قرآن مجید سے اس طرح کی تفسیر بیان کرتے ھیں اور آج کل دین اور قرآن کے بارے میں اس طرح کی باتیں اپنے زوروں پر ھے اور ان کی تبلیغ و ترویج ھو رھی ھے، یھاں تک کہ بعض علماء بھی اس نظریہ سے متاثر ھوچکے ھیں اور یہ کھتے ھوئے نظر آتے ھیں کہ (نعوذ باللھ) قرآن کی زبان واقع نما نھیں ھے اور ایسا نھیں کہ قرآن مجید کی آیات کے ذریعہ ھمیں کسی حقیقت کے بارے میں پتہ چلتا ھو ، ھمارے پاس قرآنی آیات کی تفسیر کے سلسلہ میں قطعی، برھانی اور مسلم معیار نھیں ھیں تاکہ ان کی بنا پر ھم یہ دعویٰ کریں کہ قرآن مجید کی فلاں آیت سے یہ نتیجہ ھے اور دوسری تفسیریں باطل اور نادرست ھیں بلکہ ھر شخص اپنے ذھن اور علم کی بنا پر قرآن کے بارے میں سمبلیک تفسیر بیان کرسکتا ھے، چاھے اس کی تفسیر دوسری تفاسیر سے بالکل مخالف اور متضاد ھو۔!!
۶۔ دین کی زبان واقع نما نہ ھونا یا دین کی ایک مبھم تصویر
دینی مسائل اور قرآن کریم کی زبان کو غیر واقع نما قرار دینے کے سلسلہ میں وضاحت کے لئے عرض کرتے ھیں کہ ماڈرن ھنری میوزیم "Museum" میں بھت سی مختلف ھندسی اور مبھم چیزوں کی تصویر ھوتی ھیں جس کو دیکہ کر واضح طور پر معلوم نھیں ھوپاتا کہ یہ کس چیز کی تصویر ھے جس کی بنا پر مختلف احتمالات دئے جاتے ھیں اور ھر شخص اپنے ذوق کے لحاظ سے ان کی توضیح و تفسیر کرتا ھے اور ان کو کسی خاص چیز کا سمبل (اشارھ) بتایا جاتا ھے شاید ان کا مصور دوسروں کے مختلف نظریات کی طرف متوجہ بھی نہ ھو اسی طرح بعض نفسیاتی لیباریٹری"Laboratory"میں ایک کاغذ پر تھوڑی روشنائی ڈال دی جاتی ھے اور اس کو پھیلاکر بعض لوگوں سے سوال کیا جاتا ھے کہ یہ کس چیز کی شکل ھے؟ تو وہ تھوڑی دیر غور وفکر کے بعداپنے ذھن کے لحاظ سے کوئی شکل کھہ دیتے ھیں ، مثلاً کھتے ھیں کہ یہ ایک عورت کے بال ھیںاور یہ اس کا ھاتہ ھے اور اپنے ذھنی خیالات کی بنا پر اس کو ایک عورت کی تصویر کھہ ڈالتے ھیں جبکہ اس کام کے کرنے والے نے کسی خاص تصویر کے لئے یہ کام نھیں کیا ھوتا اور ناھی اس کام کو منظم طریقہ سے کیا جاتا ھے بلکہ یونھی روشنائی ڈال دی جاتی ھے کہ ھر شخص اپنے ذھن کے لحاظ سے اس کے بارے میں فیصلہ کرے۔
چنانچہ یہ لوگ کھتے ھیں کہ قرآن کی زبان واقع نما نھیں ھے، بلکہ قرآن مجید میں بیان شدہ مسائل کا مقصد یہ ھوتا ھے کہ ھر شخص اپنے لحاظ سے اس کو سمجھے، اور کسی شخص کو یہ حق حاصل نھیں ھے کہ قرآن مجید سے اپنے حاصل کردہ نظریہ کو مطلق قرار دے، اور یہ کھے کہ میری بیان کردہ ھی تفسیر قرآن ھی درست اور صحیح ھے اور دوسروں کی بیان کردہ تفسیریں غلط ھیں جس طرح ایک مبھم تصویر کودیکہ کر کوئی یہ فیصلہ کرے کہ صرف میرا ھی نظریہ صحیح ھے اور دوسروں کا نظریہ غلط ھے؛ یہ کھنا اس کے لئے صحیح نھیں ھے، کیونکہ جس طرح وہ اپنے ذاتی خیالات اور تصورات کے ذریعہ کوئی خاص تفسیر کرنے کا حق رکھتا ھے اسی طرح دوسرے بھی اپنے ذھن اور موقع محل کے لحاظ سے تفسیر کرسکتے ھیں، جن میں سے کسی ایک کو صحیح اور دوسری کو غلط قرار نھیں دیا جاسکتا کیونکہ اس طرح کی چیزوں میں صحیح اور غلط ھونا ثابت نھیں ھے، یہ نھیں کھا جاسکتا کہ فلاں صاحب کا حاصل کردہ نتیجہ صحیح ھے اور فلاں صاحب کا نتیجہ غلط ھے!
قارئین کرام! کیا قرآن مجید بھی (نعوذ باللھ) ایک ماڈرن میوزیم کی تصویروں کی طرح ھے کہ ھر شخص کو اس کی تفسیر کرنے کا حق ھے؟ لیکن حقیقت یہ ھے کہ جو لوگ آسمانی کتابوں کے بارے میں اس طرح کا نظریہ رکھتے ھیں غالباً وہ لوگ خدا اور وحی پر عقیدہ نھیں رکھتے، اور اگر زبان سے مسلمان ھونے کا دعویٰ بھی کرتے ھیں، تو ان کا یہ مسلمان ھونے کا دعویٰ صرف دکھاوے کے لئے ھوتا ھے اس وقت اختلاف قرائت کا نظریہ رکھنے والے کتاب مقدس کی تفسیر کے بارے میں کھتے ھیں: بالفرض اگر خدا بھی ھو، وحی بھی نازل ھوئی ھو اور انبیاء نے وحی کو صحیح سمجھا ھو (اگرچہ ان باتوں میں بھی شک ھے)، تو چونکہ انبیاء بھی انسان ھیں اور انسانی درک و فھم رکھتے ھیں اور انسانی درک وفھم؛ غلطی سے خالی نھیںھے،لھٰذا بھت ممکن ھے کہ نبی نے خدا کی باتوں کو صحیح نہ سمجھا ھو اور اگر یہ بھی مان لیں کہ پیغمبر نے وحی کو حاصل کرنے میں غلطی نھیں کی ھے، تو بھی قرآن مجید کی یقینی تفسیر بیان کرنے کے لئے کوئی راستہ نھیں ھے، تاکہ اسی معیار کی بنا پر کسی ایک تفسیر کو یقینی قرار دیں ا ور دوسری تفاسیر کو غلط سمجھیں لھٰذا قرآن مجید سے کوئی بھی شخص اپنے لحاظ سے نتیجہ نکال سکتا ھے اور اپنے نظریہ اور نتیجہ کو صحیح و معتبر قرار دے سکتا ھے اور کسی دوسرے کو یہ حق نھیں ھے کہ اس کے حاصل کردہ نظریہ کو ردّ کرے ھم کتاب مقدس کی تفسیر کے بارے میں بالکل انھیں افراد کی طرح ھیں جن کے سامنے نفسیاتی لیباریٹری "Laboratory" میں ایک مبھم تصویر پیش کی جاتی ھے جس کے بارے میں ھر شخص کو اپنا اپنا نظریہ دینا پڑتا ھے مثلاً کوئی شخص کھتا ھے کہ یہ شکل تو میری معشوقہ کے بالوں کی طرح ھے اور کوئی کھتا ھے کہ یہ رستم کی شکل ھے، اور اس سلسلہ میں ھر ایک شخص کی نظر محترم ھے اور کسی دوسرے کو اعتراض کا حق نھیں ھے، اگرچہ یہ بھی ممکن ھے کہ اس مبھم تصویر کو سمجھنے میں سب نے غلطی کی ھو اور کسی نے بھی صحیح نہ بتایا ھو بلکہ اس طرح سے کاغذ پر روشنائی ڈالنے والے کا ھدف بھی صرف یھی ھو کہ ھر شخص اپنے لحاظ سے اس کے بارے میں اپنا تصور بیان کرے!

Add comment


Security code
Refresh