www.Ishraaq.in (The world wide of Islamic philosophy and sciences)

وَأَشۡرَقَتِ ٱلۡأَرۡضُ بِنُورِ رَبِّهَا

 

س۳۵۸۔ شیعہ فرقہ نماز پنجگانہ کے وقت کے بارے میں کس دلیل پر اعتماد کرتا ھے؟ جیسا کہ آپ جانتے ھیں اھل سنت وقت عشاء کے داخل ھونے کو نماز مغرب کے قضا ھونے کی

 دلیل قرار دیتے ھیں ، ظھر و عصر کی نماز کے بارے میں بھی ان کا یھی نظریہ ھے۔ اسی لئے وہ معتقد ھیں کہ جب وقت عشاء داخل ھو اور پیش نماز ، نماز عشاء پڑھنے کے لئے کھڑا ھو تو مامومین اس کے ساتھ مغرب کی نماز نھیں پڑھ سکتے ، اس لئے کہ ( اس طرح ) مغرب اور عشاء ایک ھی وقت میں پڑھ لی جائے گی؟

ج۔ دلیل ، آیات قرآنیہ اور سنت نبویہ کا اطلاق ھے ، اس کے علاوہ بھت سی روایتیں ھیں جو خاص طور سے دو نمازوں کو ملا کر پڑھنے کے جواز پر دلالت کرتی ھیں اور ظاھر ھے کہ اھل سنت کے یھاں بھی ایسی روایتیں ھیں جو دو نمازوں کو کسی ایک نماز کے وقت میں ادا کرنے پر دلالت کرتی ھیں۔

س۳۵۹۔ اس بات کو پیش نظر رکھتے ھوئے کہ نماز عصر کا آخری وقت مغرب ھے اور نماز ظھر کا آخری وقت مغرب سے اتنا پھلے تک ھے جتنی دیر میں صرف نماز عصر پڑھی جاسکے۔ یھاں میں یہ سوال کرنا چاھتا ھوں کہ مغرب سے کیا مراد ھے؟ کیاغروب آفتاب ھے یا اس شھر کے افق کے اعتبار سے اذان مغرب کا بلند ھونا ھے؟

ج۔ غروب آفتاب مراد نھیں ھے۔ بلکہ مراد، وقت اذان مغرب ھے یعنی جب مشرق کی سرخی زائل ھوجاتی ھے تو وہ نماز عصر کا آخری وقت ھے جو نماز مغرب کے اول وقت سے متصل ھوجاتا ھے۔

س۳۶۰۔ غروب آفتاب اور اذان مغرب میں کتنے منٹ کا فاصلہ ھوتا ھے؟

ج۔ بظاھر یہ فاصلہ موسموں کے اختلاف کے ساتھ ساتھ گھٹتا بڑھتا رھتاھے۔

س۳۶۱۔ میں تقریباً گیارہ بجے رات ڈیوٹی سے گھر پلٹتا ھوں اور لوگوں کی زیادی آمد و رفت کی وجہ سے ڈیوٹی کے دوران نماز مغربین نھیں پڑھ سکتا، تو گویا گیارہ بجے رات کے بعد نماز مغربین کا پڑھنا صحیح ھے؟

ج۔ کوئی حرج نھیں ھے بشرطیکہ نصف شب نہ گذرنے پائے، لیکن کوشش کیجئے کہ گیارہ بجے رات سے زیادہ تاخیر نہ ھو بلکہ نماز کو اول وقت پڑھنے کی کوشش کیجئے۔

س۳۶۲۔ کتنی رکعتی نماز وقت میں ادا ھونا چاھئیے جس کے بعد ادا کا اطلاق صحیح ھو اور اگر شک ھو کہ اتنی مقدار وقت میں پڑھی گئی یا نھیں تو اس کا کیا حکم ھے؟

ج۔ نما زکی ایک رکعت کا آخر وقت کے اندر انجام پانا ادا کے لئے کافی ھے ، اور شک ھو کہ کمازکم ایک رکعت کے لئے وقت ھے یا نھیں، تو پھر ما فی الذمہ کی نیت سے نماز پڑھے اور ادا اور قضا کی نیت نہ کرے۔

س۳۶۳۔ غیر مسلم ملکوں میں اسلامی جمھوریہ کے سفارت خانوں اور کونسل خانوں کی طرف سے اداروں اور بڑے بڑے مراکز اور شھروں کے لئے اوقات نما زکے نقشے شائع ھوتے ھیں ان پر کس حد تک اعتبار کیا جاسکتاھے ؟ اور دوسرے یہ کہ ان ملکوں کے دوسرے شھروں میں رھنے والوں کا کیا فریضہ ھے؟

ج۔ معیار یہ ھے کہ مکلف کو اطمینان حاصل ھوجائے اور اگر مکلف کو ان نقشوں کے وقت کے مطابق ھونے کا یقین نہ ھو، تو اس پر واجب ھے کہ احتیاط کرے، اور اس وقت تک انتظار کرے کہ اسے وقت شرعی کے داخل ھونے کا یقین حاصل ھوجائے۔

س۳۶۴۔ صبح صادق اور صبح کاذب کے مسئلہ میں آپ کی کیا رائے ھے؟ اور اس سلسلہ میں نمازی کی شرعی ذمہ داری کیا ھے؟

ج۔ نماز اور روزے کے وقت کا شرعی معیار ، صبح صادق ھے اور اس کی تعیین و تشخیص کی ذمہ داری ھے۔

س۳۶۵۔ ایک مدرسہ جس میں پورے دن کلاسیں ھوتی ھیں۔ اس کے ذمہ دار حضرات ظھرین کی جماعت کو تقریباً ۲بجے ظھر کے بعد اور عصر کی کلاسیں شروع ھونے سے پھلے منعقد کراتے ھیں۔ تاخیر کی وجہ یہ ھے کہ صبح کی کلاسوں کے دروس اذان ظھر سے تقریباً پون گھنٹہ پھلے ختم ھوجاتے ھیں اور ظھر شرعی تک طلاب کا ٹھھرنا مشکل ھے۔ اس بنا پر اول وقت نماز ادا کرنے کی اھمیت کو مدنظر رکھتے ھوئے (ا س نماز کے بارے میں ) آپ کا کیا حکم ھے؟

ج۔ اگر نماز کے اول وقت طلاب حاضر نھیں ھوسکتے تو نماز گزاروں کی خاطر تاخیر میں کوئی مضائقہ نھیں ھے۔

س۳۶۶۔ کیا اذان ظھر کے بعد نماز ظھر کا پڑھنا اور نماز عصر کاوقت شروع ھونے کے بعد نماز عصر کا پڑھنا واجب ھے اور کیا اسی طرح نماز مغرب و عشا کا پڑھنا بھی واجب ھے؟

ج۔ وقت کے داخل ھونے کے بعد نمازی کو اختیار ھے کہ وہ دونوں کو ملا کر پڑھے یا جدا جدا۔

س۳۶۷۔ کیا چاندنی راتوں میں نماز صبح کے لئے ۱۵منٹ سے ۲۰منٹ تک انتظار کرنا واجب ھے؟ جبکہ ھم جانتے ھیں کہ وقت کافی ھے اور طلوع فجر کا یقین حاصل کیا جاسکتاھے؟

ج۔ طلوع صبح صادق ،وقت نماز صبح اور ترک سحر کے وجوب کے سلسلے میں چاندنی راتوں یا اندھیری راتوںمیں کوئی فرق نھیں ھے اگرچہ اس سلسلے میں احتےاط بھتر ھے ۔

س۳۶۸۔صوبوں اور شھروں میں افق کے اختلاف کی وجہ سے اوقات شرعےہ میں جو اختلاف ھوتا ھے کےا دن رات کی واجب تمام نمازوں میں وھی وقت معےاد ھے ؟مثال کے طور پر اگر دو شھروں میں ظھر کے شرعی وقت میں ۲۵منٹ کا اختلاف ھو تو کےا دوسرے اوقات میں بھی اتناھی اختلاف ھو گا ےا صبح و عشاء میں اس سے مختلف ھے ؟

ج: فجر ،ظھر ےا غروب آفتاب کے وقت کا اندازہ اےک جےسا ھونے کا لازمی نتےجہ ےہ نھیں ھے کہ دوسرے اوقات میںبھی اتناھی فرق اور فاصلہ ھو بلکہ مختلف شھروںمیںاکثرتینوںاوقات کااختلاف متفاوت ھوتاھے۔

س۳۶۹:اھل سنّت نماز مغرب کو غروب شرعی سے پھلے پڑھتے ھیں، کیا ھمارے لئے ایام حج یا دوسرے ایام میں ان کی اقتدا میں نماز پڑھنا اور اسی نماز پر اکتفا کرلینا جائز ھے؟

ج۔ یہ معلوم نھیں ھے کہ ان کی نماز وقت سے پھلے ھوتی ھے، لیکن ان کی جماعت میں شرکت کرنے اور ان کی اقتداء کرنے میں کوئی حرج نھیں ھے اور وہ نماز کافی ھے، لیکن وقت نماز کا درک کرنا ضروری ھے۔ مگر یہ کہ وقت کے بارے میں بھی تقیہ کیا جائے۔

س۳۷۰۔ ڈنمارک اور ناروے میں صبح کے سات بجے سورج نکلتا ھے اور اس وقت تک آسمان میں چمکتا رھتا ھے۔ جبکہ دوسرے نزدیکی ملکوں میں رات کے بارے بج چکے ھوتے ھیں۔ ایسی صورت میں میری نماز و روزہ کا کیا حکم ھے؟

ج۔ نماز پنجگانہ کے لئے اس جگہ کے افق کا خیال رکھنا واجب ھے ، اور اگر دن کے طولانی ھونے کی وجہ سے روزہ رکھنا شاق ھو تو اس وقت روزہ ساقط ھے اور بعد میں اس کی قضا واجب ھے۔

س۳۷۱۔ سورج کی شعاعیں تقریباً سات منٹ میں زمین تک پھنچ جاتی ھیں، آیا نماز صبح کے وقت کے ختم ھونے کی معیار طلوع آفتاب ھے یا اس کی شعاعوں کا زمین تک پھونچنا ھے؟

ج۔ معیار طلوع آفتاب اس کا اس افق میں دیکھا جانا ھے جھاں نماز گزار موجود ھے ۔

س ۳۷۲۔ ذرائع نشر و اشاعت ھر روز آنے والے دن کے شرعی اوقات کا اعلان کرتے ھیں کیا ان پر اعتماد کرنا جائز ھے اور ریڈیو و ٹیلی ویژن کے ذریعہ نشر کی جانے والی اذان کو وقت کے داخل ھوجانے کا معیار بنایا جاسکتا ھے؟

ج۔ معیار یہ ھے کہ مکلف کو وقت کے داخل ھوجانے کا اطمینان حاصل ھوجائے۔

س۳۷۳۔ کیا اذان کے شروع ھوتے ھی نماز کا وقت شروع ھوجاتا ھے یا اذان کے ختم ھونے کاانتظار کرنا واجب ھے اور اس کے بعد نماز کو شروع کرنا چاھئیے؟ اور اسی طرح کیا اذان کے شروع ھوتے ھی روزہ دار کے لئے افطار کرنا جائز ھے یا یہ کہ یھاں بھی آخر اذان تک انتظار کرنا واجب ھے؟

ج۔ اگر اس بات کا یقین ھو کہ وقت داخل ھوجانے کے بعد اذان شروع ھوئی ھے تو آخر اذان تک انتظار کرنا واجب نھیں ھے۔

س۳۷۴۔ کیا اس شخص کی نماز صحیح ھے جس نے دوسری نماز کو پھلی نماز پر مقدم کردیا ھو جیسے عشاء کو مغرب پر؟

ج۔ اگر غلطی یا غفلت کی وجہ سے مقدم کیا ھو اور پوری نماز پڑھ ڈالی ھو تو اس کے صحیح ھونے میں کوئی اشکال نھیں ھے لیکن اگر اس نے جان بوجہ کر ایسا کیا ھے تو وہ نماز باطل ھے۔

Add comment


Security code
Refresh