www.Ishraaq.in (The world wide of Islamic philosophy and sciences)

وَأَشۡرَقَتِ ٱلۡأَرۡضُ بِنُورِ رَبِّهَا

903493
4 ھجری میں شعبان المبارک کی تین تاریخ کو مدینۃ النبیﷺ میں تاریخ بشریّت کے ایک ایسے بچے نے جنم لیا، جس نے مفکرین کے افکار اور دنیا کی اقدار کو بدل دیا، اس نے فتح و شکست اور بھادری و بزدلی کے پیمانے تبدیل کر دیئے۔ اس نے مقتول کو قاتل پر، مظلوم کو ظالم پر، پیاسے کو سیراب پر، اسیر کو آزاد پر اور محکوم کو حاکم پر غلبہ عطا کر دیا۔
یہ نومولوداس لئے بھی انوکھا تھا کہ بظاھر شھنشاہِ دو عالم ﷺ کا نواسہ تھا، لیکن اس کی فضیلت فقط اسی پر ختم نھیں ھوتی، یہ مولود کعبہ کا لخت جگر تھا، خاتونِ قیامت کے دل کا ٹکڑا تھا، حسنِ مجتبٰی کا بھائی تھا، لیکن نھیں نھیں پھر بھی اس کی فضیلت کو بیان نھیں کیا جا سکتا۔۔۔ اس کے دائیں کان میں اذان اور بائیں میں اقامت رسولِ خدا ﷺ نے خود دی، بعض روایات کے مطابق ولادت کے ساتویں روز جبرائیل نے حضور اکرمﷺ سے فرمایا کہ اس بچے کا نام حضرت ھارونؑ کے چھوٹے بیٹے شبیر کے نام پر رکھیں، جسے عربی میں حسین کھا جاتا ہے۔ سات سال تک یہ بچہ رحمۃ للعالمین ﷺ کے سائے میں پروان چڑھا، سائے میں نھیں بلکہ سینے پر پروان چڑھا، ان سات سالوں میں رسول اعظم ﷺ بار بار یہ اعلان کرتے رھے، میں حسینؑ سے ھوں اور حسین مجھ سے ہے۔
ھمارے رسول کی آغوشِ تربیت کا کمال دیکھئے کہ جو بھی اس آغوش میں پروان چڑھا، وہ دنیا میں بے نظیر و بے مثال بن گیا، اگر حضرت علی کرم اللہ وجہ کو پروان چڑھایا تو وہ کل ایمان ٹھہرے، اگر سیّدہ فاطمہ کو پروان چڑھایا تو وہ سیّدۃ النساء العالمین قرارپائیں اگر امام حسن مجتبٰیؑ کو پروان چڑھایا تو وہ سیرت و کردار میں شبیہ پیغمبر بنے اور اگر حسین ابن علی کو اپنی آغوش میں لیا تو جنت کے سردار بنے۔
ان مذکورہ شخصیات میں سے ھر شخصیت نےعالم بشریت کی ھدایت کے لئے ناقابل فراموش کردار ادا کیا ہے۔ تعلیمات اسلام کی روشنی اور سیرت نبوی کے آئینے میں یہ سب رسول گرامی ﷺ کی تربیت کا نتیجہ ھی ہے کہ ان ھستیوں کی مادی اور معنوی زندگی میں کوئی فرق نھیں، بلکہ ان کی مادی زندگی ھی عین معنوی زندگی ہے، ان کی سیاست ھی عین دین ہے، ان کی زندگی کے آداب، قرآن مجید کی آیات کی عملی تفسیر ہیں اور ان کے فرمودات، حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کا ھی تسلسل ہیں۔ دنیا میں اگر آج تک ان کے فضائل کا ڈنکا بج رھا ہے تو یہ دراصل رسولِ اسلام کی فضیلت کا ڈنکا ہے، چونکہ ان کی تعلیمات عین تعلیمات رسالت ہیں۔
رسول اکرم ﷺ نے متعدد احادیث میں ان کے فضائل کو بیان کیا ہے اور اس حقیقت کا اعلان کیا ہے کہ یہ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ھوں، ان کا دشمن میرا دشمن ہے اور ان کا دوست میرا دوست ہے، اللہ کے رسولﷺ نے کئی مرتبہ ان کے دشمنوں پر لعنت اور ان سے بیزاری کا اظھار کیا ہے۔
تاریخ اسلام شاھد ہے کہ رسول گرامی ﷺ کی ان ھستیوں سے محبت، محض جذباتی نوعیت کی نھیں تھی بلکہ یہ ھستیاں اپنے عمل و کردار کے اعتبار سے اس قابل تھیں کہ ان سے رسولِ دو عالم اسی طرح والھانہ محبت کرتے۔ کفر کی ظلمت میں رسولِ اسلام ﷺ نے توحید کے جس نور کی شمع جلائی تھی، اسے رسولﷺ کے بعد انھی ھستیوں نے اپنے عمل و کردار سے فروزاں رکھا۔
61 ھجری میں جب ان ھستیوں میں سے اس دنیا میں فقط حسین ابن علی باقی رہ گئے تو رسول اکرم ﷺ کی تریبت کا تقاضا یھی تھا کہ حسین ابن علی ، سیرت رسولﷺ اور پیغام رسالتؑ کے اجرا کے لئے، اپنی ماں، باپ اور بھائی کی طرح میدان عمل میں کھڑے رھیں۔
چنانچہ 61 ھجری میں جب یزید کے سامنے پورا عالمِ اسلام سرنگوں ھوگیا تھا، اس وقت فقط حسین ابن علیؑ شھکار رسالت کے طور پر ابھرے۔ جس طرح رسولِ خدا نے زمانہ جاھلیت کے معیاروں کو بدلا تھا، اسی طرح حسین ابن علی نے بھی اسی فکر کو آگے بڑھاتے ھوئے جھالت و نادانی کے خلاف قیام کیا۔ جس طرح عرب سرداروں اور دنیا کے بادشاھوں کے منصوبوں کو نبی اکرمﷺ نے خاک میں ملایا تھا، اسی طرح حسین ابن علیؑ نے بھی سرداروں اور بادشاھوں کے منصوبے ناکام کر دیئے۔ یعنی حسین ابن علی کے پیکر میں حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی تربیت اپنے کرشمے دکھا رھی تھی۔ حکام وقت کے منصوبے کے مطابق، معرکہ کربلا کو وھیں کربلا کے صحرا میں دفن ھو جانا چاھیے تھا، لیکن یہ واقعہ، سیرت النبیﷺ کے واقعات کی طرح دفن ھونے کے بجائے ھر روز زندہ اور روشن ھوتا جا رھا ہے۔
یوں تو تاریخ عرب جنگوں سے بھری پڑی ہے، لیکن ان جنگوں میں اور اس معرکے میں ایک بنیادی فرق یہ ہے کہ وھاں ظاھری اعداد و شمار اور غلبے کو فتح کا معیار سمجھا جاتا تھا، جبکہ یھاں ظاھری قلت کو حقیقی فتح کا درجہ حاصل ہے، یھاں بظاھر مر جانے والا درحقیقت فاتح ہے۔ ارباب فکر کے لئے یہ لمحہ فکریہ ہے کہ آخر وہ کونسی شئے ہے، جس نے لاو لشکر کے باوجود یزید کو سرنگوں کر دیا اور تھی دست ھونے کے باوجود امام حسین عالی مقام کو سربلند بنا دیا۔
ھمارے سامنے تاریخ بشریت، دانش مندوں کے کارناموں سے بھری پڑی ہے اور علم و دانش کا سلسہ اولاد آدم کے درمیان ابتداء آفرینش سے ھی چلتا آرھا ہے، مگر تاریخ بشریّت شاھد ہے کہ کسی بھی دانشور یا مفکّر نے اپنے علم و دانش سے امام حسینؑ جیسا کام نھیں لیا۔ ممکن ہے کہ کوئی شخص یہ کھے کہ امام حسین کا قیام ظاھری حکومت کے لئے تھا، چنانچہ امام حسین عالی مقام کی شھادت کے بعد بنو امیہ کی حکومت کو گرانے کے لئے جو تحریکیں چلیں، انھوں نے خونِ حسین کے انتقام کا نعرہ لگایا اور ان تحریکوں نے امام حسین عالی مقام کی شکست کو فتح میں تبدیل کر دیا، لیکن اس ضمن میں ھم یہ عرض کئے دیتے ہیں کہ کیا امامؑ عالی مقام نے جناب محمّد بن حنفیّہ کے نام وصیّت نامے میں طلب حکومت سے انکار نھیں کیا تھا؟ کیا امام حسین نے مکّے میں روز عرفہ کو یہ نھیں فرمایا تھا کہ میں فقط امر بالمعروف و نھی عن المنکر اور اپنے نانا کی امّت کی اصلاح کے لئے نکل رھا ھوں۔؟ اسی وصیت نامے میں یہ بھی فرمایا ہے کہ میری سیرت میرے جد محمد رسول اللہ ﷺ کی سیرت ہے۔
اگر امامؑ کا قیام حکومت کے لئے تھا تو خواتین اور بچوں کو کیوں ساتھ لے گئے۔؟ اگر امامؑ کی کوشش فقط حکومت کے لئے تھی تو جب آپؑ کو سامنے شکست نظر آرھی تھی تو صلح کیوں نھیں کی یا جنگی ساز و سامان کا بندوبست کیوں نھیں کیا؟ اور جو انتقامی تحریکیں اپنے آپ کو زیادہ عرصے تک قائم نھیں رکھ سکیں، وہ امام حسین عالی مقام کو کیا فتح عطاء کر سکتی ہیں۔
یہ بھی ممکن ہے کوئی شخص یہ کھے کہ یہ دو شھزادوں یا دو خاندانوں یا دو قبیلوں یعنی بنی ھاشم اور بنی امیّہ کی جنگ تھی، چنانچہ بنی ھاشم کی سیاست بنو امیہ پر غالب آگئی اور یہ شکست فتح میں بدل گئی تو اس سلسلے میں ھم یہ کھیں گے کہ کسی انسان کا یہ سوچنا ھی اسلام فھمی سے دوری کی علامت ہے۔ چونکہ جس شخص کو ذرا سی بھی اسلامی معارف سے آگاھی ھو، اس پر یہ واضح ہے کہ امام حسین محبوب رسول اور سردارِ جنّت کا درجہ رکھتے ہیں، لھذا حضرت امام حسین سے بغض اور لڑائی کسی شھزادے یا قوم یا قبیلے کے ساتھ لڑائی نھیں بلکہ رسولِ خدا ﷺ کی سیرت و کردار کے ساتھ جنگ ہے۔
کربلا میں ظالم پر مظلوم کی فتح کے حقیقی سبب کو جاننے کے لئے ضروری ہے کہ ہم تحریکِ کربلا کا تحلیلی مطالعہ کریں اور جب ھم تحلیلی مطالعہ کرتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ امام حسین عالی مقام نے کتابِ کربلا کے ورق ورق کو سیرت النبیﷺ کے ساتھ مرتب کیا ہے۔ بلاشبہ کربلا کی عسکری جنگ کا نقشہ یزید اور اس کے حواریوں نے تیار کیا تھا، لیکن کربلا کی فکری جنگ کا نقشہ امام عالی مقام نے تیار کیا ہے۔
آپ نے مدینے میں حاکم مدینہ کی طلب بیعت سے لے کر قیام مکہ تک اور قیامِ مکہ سے لے کر میدان کربلا تک لمحہ بہ لمحہ واقعات کو اپنے جد رسولِ خداﷺ کی طرح، حسنِ تدبر کے ساتھ ترتیب دیا ہے۔ حاکم مدینہ کے دربار میں آپ کی گفتگو اور اس کے بعد شھادت تک کے تمام تر خطبات اور واقعات کو سامنے رکھ کر تجزیہ و تحلیل کرنے سے صاف طور پر پتہ چلتا ہے کہ وہ شئے جس نے کربلا کو ایک ابدی فتح میں تبدیل کر دیا، وہ امام عالی مقام کا خدا کی ذات اور رسولِ اسلام ﷺ سے عشق اور لگاو تھا اور اسی عشق نے اس تحریک کو جاویداں بنا دیا ہے۔ آج اگر ھم مسلمان دنیا میں ناکام ہیں تو اس کی ایک اھم وجہ سیرت النبیﷺ سے گریز ہے۔
اپنی زندگیوں میں سیرت النبیﷺ کے عملی نہ ھونے کے باعث آج ھم یزیدان عصر اور اسلام دشمن طاقتوں سے ٹکرانے کے بجائے آپس میں ٹکرا رھے ہیں، دین کی خاطر جان نثاری اور فدا کاری کو نہ سمجھنے کے باعث ھمارے جان نثاری کے جذبے سے، اسلام دشمن طاقتیں فائدہ اٹھا رھی ہیں اور ھم اپنے ھی ھم وطنوں کو خاک و خون میں غلطاں کر رھے ہیں۔
اگر ملت اسلامیہ خلوص دل کے ساتھ امام حسینؑ کی طرح اپنے پیغمبرﷺ کی سیرت پر عمل پیرا ھو جائے تو دنیا کے کسی بھی خطے میں کوئی بھی باطل قوت مسلمانوں کو شکست نھیں دے سکتی اور ھم آج بھی عددی قلت اور وسائل کی کمی کے باوجود فاتح بن سکتے ہیں۔
حضرت امام حسین مسلمانوں کے کسی ایک فرقے کے رھبر یا پیشوا نھیں ہیں بلکہ آپ اپنے نانا حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی مانند پورے عالم اسلام کے لئے نمونہ عمل ہیں، آپ کی عظیم شخصیت شھکار رسالت ہے، لھذا شمع رسالت ﷺ کے پروانوں کو زندگی کے تمام پھلووں میں آپ کی ذات کا طواف کرتے رھنا چاھیے۔
تحریر: نذر حافی

Add comment


Security code
Refresh