www.Ishraaq.in (The world wide of Islamic philosophy and sciences)

وَأَشۡرَقَتِ ٱلۡأَرۡضُ بِنُورِ رَبِّهَا

603052
27 رجب المرجب کو ھجرت سے 13 سال قبل، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت، شرک، ناانصافی، نسلی، قومی و لسانی امتیازات، جھالت اور برائیوں سے نجات و فلاح کا نقطۂ آغاز کھی جا سکتی ہے اور صحیح معنٰی میں خدا کے آخری نبی نے انبیائے ما سبق کی فراموش شدہ تعلیمات کو از سر نو زندہ و تابندہ کرکے عالم بشریت کو توحید، معنویت، عدل و انصاف اور عزت و کرامت کی طرف آگے بڑھایا ہے۔
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دلنشین پیغامات کے ذریعے انسانوں کو مخاطب کیا کہ ”خبردار! خدا کے سوا کسی کی پرستش نہ کرنا اور کسی کو اس کا شریک قرار نہ دینا، تاکہ تم کو نجات و فلاح حاصل ھوسکے۔“
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس پرخلوص معنوی تبلیغ نے جھالت و خرافات کی دیواریں بڑی تیزی سے ڈھانا شروع کر دیں اور لوگ جوق در جوق اسلام کے گرویدہ ھوتے چلے گئے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کی بعثت، جو درحقیقت انسانوں کی بیداری اور علم و خرد کی شگوفائی کا دور ہے، آپ سب کو مبارک ھو۔
آج رسول اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کو صدیاں گزر چکی ہیں، لیکن عصر حاضر کے ترقی یافتہ طاقتور انسانوں کو، پھلے سے بھی زیادہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کے پرامن پیغامات اور انسانیت آفریں تعلیمات کی ضرورت ہے۔
اس گفتگو میں، ھم اسی موضوع کا جائزہ لینا چاھتے ہیں کہ بنیادی طور پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت آج کے انسانوں کے لئے کن پیغامات کی حامل ہے۔ اس کے جواب میں سب سے پھلے یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ختمی مرتبت، رسالت مآب حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انسانوں کو کس چیز کی دعوت دی ہے۔؟
دراصل انسان کے یھاں بعض خواھشیں اور فطری میلانات موجود ہیں، یہ فطری میلان خود انسان کے وجود میں ودیعت ھوئے ہیں اور ان کو ختم نھیں کیا جاسکتا۔ مثال کے طور پر اچھائيوں کی طرف رغبت اور پسند، تحقیق و جستجو کا جذبہ یا اولاد سے محبت وہ انسانی خصوصیات ہیں، جن کو اس کی ذات سے الگ نھیں کیا جا سکتا۔ ظاھر ہے دنیا میں آنے والا ھر وہ انسان جس نے فطرت کی آواز پر لبیک کھا ھو، حقیقی اور جاوداں انسان بن جائے گا، کیونکہ یہ وجود انسانی خواھشات کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے اور اس کی فطری ضرورتوں کی تکمیل کرتا ہے۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت، انسان کی فطری ضروریات کی تکمیل کے لئے ھوئی ہے، اس نے ایمان و معرفت، آگھی و بیداری اور برادری و انسان دوستی کے چراغ روشن کئے ہیں۔ لھذا رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کا دن انسانی زندگي میں ایک عظيم انقلاب اور تجدید حیات شمار ھوتا ہے، وہ انقلاب جو انھوں نے برپا کیا ہے، انسان کو خود اپنے اور اپنے انجام دیئے گئے برے اعمال کے خلاف جدوجھد پر آمادہ کرتا ہے اور جو بھی رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روشنی بخش پیغامات کو سنتا ہے، اپنی اور کائنات کی حقیقی شناخت پیدا کرلیتا ہے اور پھر خود کو ھی عدل و انصاف کی عدالت میں کھڑا پا کر اپنے وجود میں ایک نئے انسان کی تعمیر پر مجبور ھو جاتا ہے۔ یہ خصوصیات صرف مذھب کے ساتھ وابستہ ہیں کہ وہ آدمی کو ایک خالص مادی اور دنیوی قالب سے نکال کر سچائی اور انصاف کی معنوی دنیا تک پھنچا دیتا ہے اور ایک نفس پرست کو انصاف پسند اور نیکوکار انسان میں تبدیل کر دیتا ہے۔
مذھب انسان کی حیات کے لامتناھی چشمے کی طرف رھنمائی کرتا ہے اور وحی دنیا کی باتیں اس کے دل و جان میں جگہ بنا لیتی ہیں۔ وحی کی باتیں انسان کو زندگی، کیف و نشاط اور بیداری و آگھی عطا کرتی ہیں، وحی کی باتیں معرفت کا چراغ ہیں، جو انسان کو حقائق محض سے آشنا بنا دیتی ہیں۔
ھر عھد اور ھر زمانے کا انسان اس جاوداں نور سے روشنی حاصل کر کے اپنے اندر معنویت کی نئی جوت جگا سکتا ہے اور پھر ترقی و کمال کی اعلٰی معراج طے کر سکتا ہے۔ قرآن کریم میں انبیاء (ع) کی بعثت کا فلسفہ، انسان کی تعلیم و تربیت، عدل و انصاف کی برقراری، تاریکیوں سے رھائی اور جبر و استبداد سے انسان کو آزادی دلانا بتایا گیا ہے۔
سورۂ انفال کی 24 ویں آيت میں بھی بعثت کو زندگی اور حیات سے تعبیر کیا گيا ہے، جو معاشروں کو ترقی عطا کرکے تقاضوں کی تکمیل کی راہ دکھاتی ہے۔ ارشاد ھوتا ہے: اے ایمان لانے والو! خدا اور اس کے پیغمبر کی دعوت پر لبیک کھو، وہ جب بھی تم کو اس پیغام کی طرف بلائیں، جو تمھارے لئے سرچشمۂ حیات ہے۔
بعض لوگ خیال کرتے ہیں کہ جھالت، تاریخ کے محض کسی خاص دور سے مخصوص ہے، اس کو دور جھالت کا نام دیا گيا ہے اور عالم بشریت اس دور سے گزر چکا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ھر وہ زمانہ جب انسان، انسانیت کی حدوں سے دور ھو جاتا ہے اور نفسانی خواھشات کی پیروی کرنے لگتا ہے، جھالت کے دائرے میں پھنچ جاتا ہے اور دنیا اسے اپنا اسیر بنا لیتی ہے، چاھے وہ کوئی بھی دور اور زمانہ ھو اور کسی بھی نئی شکل میں کیوں نہ جلوہ گر ھوا ھو۔
اس وقت بھی، دنیا جس بحران سے دوچار ہے اور افغانستان و عراق میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے جو المیہ برپا کیا ہے، کیا اس کو عصر حاضر کے انسان کی جھالت، خود غرضي اور وحشت کے علاوہ کوئی اور نام دیا جاسکتا ہے؟ اور آيا وہ مظالم جو فلسطین کے مظلوم عوام اور بچوں پر جاری ہیں، انسانی علم و تمدن کا ثمرہ کھے جاسکتے ہیں؟ یا اس کے جھل اور اقتدار طلبی کا نتیجہ ہیں!!
بلاشبہ دنیا کو انسانیت و معرفت کے دائرے میں ایک نئے انقلاب اور تغییر کی ضرورت ہے، وہ انقلاب جو چودہ سو سال قبل، خدا کے رسول محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شروع کیا تھا اور جس کے راہ نما پیغامات آج بھی اضطراب و بے چینی کے شکار انسان کو عدل و انصاف اور اخلاق کی راہ دکھا سکتے ہیں۔ اس کے پیغامات میں ھمیشہ زندگی اور تازگی موجود رھی ہے۔
ایک مسلمان عالم و دانشور کے بقول: جس طرح ایک درخت کے لئے پھلے انسان کسی مناسب زمین پر بیج ڈالتا ہے اور پھر پودا ٹھنیوں و پتیوں میں تبدیل ھو کر جب بڑھتا ہے تو پھول اور پھل وجود میں آئے ہیں اور اس میں ویسے ھی دانے اگتے ہیں کہ جیسے بیج کی صورت میں انسان نے زمین کے حوالے کئے تھے۔ اسی شکل میں پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیغام کا ایک دائرہ ہے، جو گھومتا رھتا ہے اور ھمیشہ اس سے پھول اور پھل شگوفہ آور ھوتے رھتے ہیں۔
بھرحال پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تاریخ بعثت ھر سال اس اھم حقیقت کی یاد دلاتی ہے کہ ھر انسان کا فریضہ ہے کہ اسی روز سے اپنے اندر ایک دوسرے انسان کی تعمیر شروع کر دے اور عشق خدا و رسول کے ساتھ سچائی اور معنویت کی راہ پر قدم بڑھانے کے لئے تیار ھو جائے۔
تحریر: محمد جان حیدری

Add comment


Security code
Refresh