www.Ishraaq.in (The world wide of Islamic philosophy and sciences)

وَأَشۡرَقَتِ ٱلۡأَرۡضُ بِنُورِ رَبِّهَا

(١)حکومت اور عوام کے حقوق:

حکومت و عوام کے باھمی حقوق بھت زیادہ ہیں اگر  تفصیل کے ساتھ لکھا جائے تو ایک ضخیم کتاب بن جائے گی ، لیکن ھمارا مقصد صرف حضرت علی علیہ السلام کے اقوال کی روشنی میں

 حکومت و عوام کے ایک دوسرے پر حقوق کا مختصر جائزہ لینا ہے ۔

حضرت علی علیہ السلام نے حکومت اور عوام کے باہمی حقوق کے بارے میں نہج البلاغہ میں ایک طویل خطبے میں جو کچھ ارشاد فرمایا ہے وہ یہاں پیش کیا جا رہا ہے۔

اما م اس خطبے میں سب سے پہلے فرماتے ہیں:

''اماّ بعد فقد جعل اﷲ لی علیکم حقا بولایة امرکم ، و لکم علیّ من الحقّ مثل الذّی لیعلیکم فالحقّ اوسع الاشیاء فی التّواصف و اضیقہا فی التّناصف، لا یجری لاحد الّا جرٰی علیہ ولا یجری علیہ الّا جرّی لہ۔''(١)

اﷲ سبحانہ نے مجھے تمہارے امور کا اختیار دے کر میرا حق تم پر قائم کر دیا ہے ۔ تمہارا بھی مجھ پر حق ہے اسی  طرح جس طرح میرا حق تمہارے اوپر ہے۔یوں تو حقوق کے بارے میں باہمی اوصاف گنوانے میں  بہت وسعت ہے۔ آپس میں حق و انصاف کرنے کا دائرہ بہت تنگ ہے۔ دو آدمیوں میں ایک کا حق دوسرے پر اس وقت ہوتا ہے جب دوسرے کا حق بھی اسی پر ہو اور اس کا حق اس پر تب ہی ہوتا ہے جب اس کا بھی حق اس پر ہو۔


(٢)صرف اﷲ پر کسی کا حق نہیں:

صرف اﷲ تعالیٰ کی ہی ذات اتنی عظیم ہے کہ اس پر کسی کا حق نہیںفقط اسی کا حق ساری مخلوق پر ہے

"ولو کان لاحد ان یجری لہ ولا یجری علیہ لکان ذالک خالصا ِﷲِ سبحانہ دون خلقہ لقدرتہ علی عبادہ و لعدلہ فی کلّ ما جرت علیہ صروف قضائہ ولٰکنَّہ جعل حقّہ علی العبادِ ان یطیعوہ، وجعل جزائہم علیہ مضاعفةَ الثّوابِ تفضلاً منہ و توسُّعًابما ہو من المزید اہلہ"( ٢)

اگر ایسا ہو سکتا ہے کہ اس کا حق تو دوسروں پر ہو لیکن اس پر کسی کا حق نہ ہو ،تو یہ امر صرف اﷲ کی ذات کے لیے مخصوص ہے نہ کہ اس کی مخلوق کے لیے ،کیونکہ وہ اپنے بندوں پر پورا اقتدار رکھتا ہے اور اس نے تمام ان چیزوں میں کہ جن پر اُس کے فرمانِ قضا جاری ہوئے ہیں ،عدل کرتے ہوئے ہر حقدار کو اس کا حق دیدیا ہے۔ اس نے بندوں پر اپنا یہ حق رکھا ہے کہ وہ اس کی اطاعت کریں اور اس نے محض اپنے فضل اور اپنے احسان کو وسعت دینے کی بنا پر کہ جس کا وہ اہل ہے، ان کا کئی گنا اجر قرار دیا ہے۔

جتنے بھی حقوق ہیں سارے کے سارے اﷲ تعالیٰ کے حقوق میں سے ہی نکلے ہیں:۔

''ثمَّ جعل سبحانہ من حقوقہ حقوقًا افترضہا لبعض النّاسِ علی بعضٍ ۔فجعلہا تتکافَا فی وجوہِہَا،و یجَبُ بعضُہا بعضًا و لایستوجبُ بعضُہا الّا ببعض۔''(٣)

پھر اﷲ سبحانہ نے، ان حقوقِ انسانی کو بھی جنہیں ایک کے لیے دوسرے پر فرض قراردیا ہے، اپنے ہی حقوق میں سے قرار دیا ہے۔ ان حقوق کواس طرح ٹھرایا ہے کہ وہ ایک دوسرے کے مقابلے میں برابرہو جاتے ہیں ۔ اور ان حقوق میں سے بعض حقوق بعض دوسرے حقوق کا باعث بنتے ہیں، اور اس وقت تک واجب نہیں ہوتے جب تک ان کے مقابلے میں حقوق ثابت نہ ہو جائیں۔


(۱)سب سے بڑا حق :

ان حقوق میں سب سے بڑا حق حکمران اور عوام کا ایک دوسرے پر ہے:

''و اعظمُ ما افترضَ سبحانہ من تلک الحقوق حقُّ الوالی علی الرعیّةِ و حقُّ الرَّعیّةِ علی الوالی فریضةً فرضہا اﷲُ سبحانہ لکلٍّ علی کلٍّ ، فجعلہا نظامًا لاُلفتہم و عزًّا لدینہم ، فلیست تصلحُ الرَّعیّةُ الّا بصلاح الوُلاة،ولا یصلح الوُلاةُ الّا باستقامةِ الرّعیَّةِ۔'' (٤)

اور سب سے بڑا حق کہ جسے اﷲ سبحانہ نے فرض کیا ہے ،وہ ہے حکمران کا حق رعیت پر اور رعیت کا حق حکمران پر ، کہ جسے اﷲ نے حکمران اور رعیت میں سے ہر ایک پر فرض کیا ہے۔ پس حکمران اور رعیت کے حق کو اس  لیے بڑا قرار دیا ہے کہ اسے رابطہ محبت قائم کرنے اور ان کے دین کو سرفرازی بخشنے کا ذریعہ قرار دیا ہے ۔پس رعیت کی اصلاح اس وقت تک ممکن نہیں جب تک حکام صالح نہ ہو۔ اور حکام بھی اُسی وقت اصلاح سے آراستہ ہو سکتے ہیں جب رعیت ان کے احکام کی انجام دہی کے لیے آمادہ ہو۔

(٢)حقوق ادا کرنے کے فوائد:

جب حکومت اور عوام ایک دوسرے کے حقوق ادا کریں گے تو اس کے بہت سے فائدے ہوں گے جن میں سے ایک یہ ہے کہ حق کو عزت اور عظمت ملے گی:۔

" فاِذا ادّت الرّعیّةُ الی الوالی حقّہ و ادّی الوالی الیھا حقّھا عزّالحقُّ بینھم، وقامت مناھج الدّینِ، واعتدلت معالمُ العدلِ و جرت علی اذلالھا السُّنن، فصلح بذالک الزّمان، و طمعَ فی بقآئِ الدّولةِ و یئست مطامع الاعداء"۔)

پس جب رعیت حکمران کے حقوق پورے ادا کرے اور حاکم رعیت کے حقوق پورے کرے تو ان میں حق باوقارہوگا،دین کی راہیں قائم ہونگی ، عدل اور انصاف کے نشانات برقرار ہو جائیں گے، سنتیں اپنے ڈھرے پر چل نکلیں گی، زمانہ سدھر جائے گا،بقائے سلطنت کی توقعات پیدا ہو جائیں گی اور دشمنوں کی حرص اور طمع مایوسی میں بدل جائے گی۔


(٣)حقوق ادا نہ کرنے کے نقصانات :

جب حکومت اور عوام ایک دوسرے کے حقوق ادا نہیں کریں گے تو اس وقت بہت سے نقصانات ہوجائیں گے جن میں سے بڑا نقصان یہ ہے کہ باہمی اختلافات بڑھ جائیں گے :۔

''وَ اذا غلبت الرّعیّةُ والیھا واجحفَ الوالی برعیّتہ اختلفت ہنالک الکلمة، و ظھرت معالمُ الجور، و کثر الادغالُ فی الدّینِ ، و ترکت محاجُّ السُّننِ، فعملَ بالھوٰی ،و عطّلت الاحکامُ و کثرت عللُ النُّفوسِ ،فلا یستوحشُ لعظیم حقٍّ عطّلَ ، ولا لعظیمٍ باطلٍ فُعلَ ،ہنالک تذلّ الاَبرارُ،و تَعزُّ الاشرار و تعظمُ تبعات اﷲِ عند العبادِ۔''(٦)

اور جب رعیت اپنے حاکم پر مسلط ہو جائے یا حاکم اپنی رعیت پر ظلم ڈھانے لگے تو اس موقعہ پر ہر بات میں اختلاف ہو گا،اور ظلم کے نشانات ابھرآئیں گے،دین میں فسادات بڑھ جائیں گے، شریعت کی راہیں متروک ہو جائیں گی ، خواہشوں پر عمل درآمد ہو گا،شریعت کے احکام ٹھکرا دیئے جائیں گے ، نفسانی بیماریاں بڑھ جائیں گی ، بڑے سے بڑے حق کو ٹھکرادینے سے بھی کوئی نہیں گھبرائے گا،بڑے سے بڑے باطل پر عمل پیرا ہونے سے بھی کوئی نہیں گھبرائے گا ،ایسے موقعے پر نیکوکار ذلیل ہو جائیں گے ، بدکردار باعزت ہو جائیں گے اور بندوں پر اﷲ کی عقوبتیں بڑھ جائیں گی۔

(٤)خراب حالات میں حکومت اور عوام کی ذمہ داری:

اس وقت تمام افراد پر یہ فرض ہے کہ اپنے آپ کو اس بری حالت سے نکالنے کے لیے ایک دوسرے کو ہدایت اور نصیحت کریں:

''فعلیکمُ بالتّناصحِ فی ذالک و حسنِ التعاون علیہ فلیس احد و انِ اشتدّ علی رِضَا اﷲِ حرصہ و طال فی العمل اجتھادہ ببالغٍ حقیقة ما اﷲُ اہلہ من الطّاعةِ لہ ، و لٰکن من واجب حقوق اﷲ علی العبادِ النّصیحةُ بمبلغِ جھدِ ھم و تعاوُن علی اقامة الحقّ بینھم ۔''( ٧

تواس وقت تمہارے لیے ضروری ہے کہ تم اس حق کی ادائیگی میں ایک دوسرے کو سمجھانا بجھانا اور اس وقت ایک دوسرے کی بہترمدد کرتے رہنا ،کیونکہ کوئی بھی شخص اﷲ کی اطاعت و بندگی میں اس حد تک نہیں پہنچ سکتا کہ جس کا وہ اہل ہے ، چاہے وہ اس کی خوشنودیوں کو حاصل کرنے کے لیے کتنا ہی حریص ہو، اور اس کی عملی کوششیں بھی بڑھی چڑھی ہوئی ہوں، پھر بھی اس نے اپنے بندوں پر یہ حق واجب قرار دیا ہے کہ وہ مقدور بھرایک دوسرے کو نصیحت کریں اور اپنے درمیان حق کو قائم کرنے کے لیے ایک دوسرے کی مددکرتے ر ہیں ۔

درحقیقت حضرت علی(ع)کا یہ فرمان قرآن کریم کی سورة العصر کی وضاحت ہے کہ جس میں بھی ارشاد ہے کہ :۔

''وَالْعَصْرِ۔ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍ۔اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ۔وَتَوَاصَوْابِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ۔''(٨)

'' قسم ہے زمانے کی بے شک انسان خسارے میں ہے سوا ان کے جو ایمان لائے اور صالح اعمال انجام دیئے اور ایک دوسرے کو حق اور صبر کی وصیت کرتے رہے ''

پس خسارے سے وہی لوگ بچ سکتے ہیں جو ایمان اور عملِ صالح کے ساتھ ایک دوسرے کو حق پر عمل کرنے کی ہدایت اور نصیحت کرتے رہیں۔ حکومت اور عوام پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ حقوق کو قائم کرنے میں وہ ایک دوسرے کی مدد کریں۔

اسی طرح ایک دوسری آیت قرآن کریم میںیہ بھی ارشاد ہے کہ:۔

'' وَتَعَاوَنُوْا عَلَی الْبِرِّ وَ التَّقْوٰی۔''(٩)

نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو۔


(٥)حقوق کی ادائیگی میں تعاون:

حکومت اور عوام پر لازم ہے کہ وہ حقوق کی ادائیگی میں ایک دوسرے سے تعاون کریں :۔

''و لیس امرؤُوان عظمت فی الحقّ منزلتہ ، و تقدّمت فی الدّین فضیلتہ بفوق ان یعان علی ماحمَّلہ اﷲُ من حقّہ ، ولا امرؤ وان صّغرتْہ النّفوسُ واقتمحتہ العیونُ بدونِ ان یعین علی ذالک او یعان علیہ۔''(١٠)

کوئی شخص بھی اپنے آپ کو اس سے بے نیازقرار نہیںدے سکتا ، کہ اﷲ نے جس ذمہ داری کا بوجھ اس پر ڈالا ہے اِس میں اُس کا ہاتھ بٹایا جائے چاہے وہ حق میں کتنا ہی بلند منزلت کیوں نہ ہو اور دین میں اسے فضیلت و برتری کیوں نہ حاصل ہو۔ اور کوئی شخص اتنا بھی حقیر نہیں کہ حق میں تعاون کرے یا اس کی طرف تعاون کا ہاتھ بڑھایا جائے چاہے لوگ اسے ذلیل سمجھیں اور اپنی حقارت کی وجہ سے آنکھوں میں نہ جچے۔

مزید ارشاد فرماتے ہیں

''انّ ِمن حقِ مَن عَظُمَ جلالُ اﷲِ فی نفسہ و جلّ موعظہ من قلبہ ان یصغر عندہ لعِظمِ ذالک کل ما سواہ۔و انّ احقّ من کان کذالک لمن عظمت نعمة اﷲ علیہ و لطف احسانہ الیہ، فانّہ لم تعظم نعمة اﷲ علی احدٍ الّا ازداد حقُّ اﷲِ علیہ عظما۔''(١١)

جس شخص کے نفس میں جلالِ الٰہی کی عظمت ہو اور قلب میں منزلت ِالٰہی کی بلندی کا احساس ہو اسے سزاوار

ہے کہ اس جلالت اور عظمت کے پیش نظر اﷲ کے ماسوا ہر چیز کو حقیر جانے۔ ایسے لوگوں میںوہ شخص اور بھی اس کا زیادہ اہل ہے کہ جسے اس نے بڑی نعمتیں دی ہوں اور اچھے احسانات کیے ہوں اس لیے کہ جتنی اﷲکی نعمتیں کسی پر بڑی ہونگی اتنا ہی اﷲ کا اس پر حق بڑا ہوگا۔

)حکمرانوں کی ذلیل ترین صورت :

حکمرانوں کی ذلیل ترین صورت کو واضح کرتے ہوئے حضرت علی علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں:۔

''وانّ من اسخف حالات الولاة عند صالح النّاس ان یظنّ بہم حبّ الفخرِ و یوضعُ امرُ ھم علی الکبر۔"(١٢)

نیک بندوں کے نزدیک حاکموں کی ذلیل ترین صورت حال یہ ہے کہ ان کے متعلق یہ گمان ہونے لگے کہ وہ فخر و سربلندی کو دوست رکھتے ہیں اور ان کے حالات غرورو تکبّر پر محمول ہو سکیں۔ لہٰذا حکمرانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے آپ کو تکبر و غرور سے دور رکھیں اور اس عہد کو اﷲ کی طرف سے امانت سمجھے نہ یہ کہ وہ اس کے لئے غنیمت سمجھ کر سب کچھ لوٹ لے۔

(٧)حضرت علی علیہ السلام کا اپنی حکومت کے بارے میں نظریہ:

چونکہ حضرت علی علیہ السلام ایک حاکم کی حیثیت سے تھے لہٰذا خود اپنے لیے یہ پسند نہیں کرتے تھے کہ آپ کے سامنے آپ کی تعریف کی جائے

''و قد کرہت ان یکونَ جالَ فی ظنّھم انّی احبّ الاطراء والاستماع الثناء و لست بحمد اﷲکذالک ۔و لو کنت احبُّ ان یقال ذالک لترکتُہ انحطاطًا ﷲ سبحانہ عن تناول ما ھو احقُّ بہ مِنَ العظمة و الکبریاء ۔و ربما استحلی النّاس الثناء بعد البلاء ۔ فلا تثنوا علیّ بجمیل ثناء لاخراجی نفسی الی اﷲ و الیکم من التّقیّة فی حقوق لم افرغ من اَدآئھا ، و فرائظ لا بدّ من امضائھم۔''( ١٣)

مجھے یہ تک گوارا نہیں کہ تمہیں وہم و گمان بھی گذرے کہ میں بڑھ چڑھ کر سراہے جانے یا تعریف سننے کو پسند کرتا ہوں اور میں الحمد ﷲ ایسا نہیں ہوں ۔ اور اگر مجھے اس کی خواہش بھی ہوتی کہ ایسا کہا جائے (میری تعریف کی جائے)تو بھی اﷲ تعالیٰ کے سامنے فروتنی کرتے ہوئے اسے چھوڑ دیتا کہ ایسی عظمت و بزرگی کو اپنا یا جائے کہ جس کا وہی اہل ہے اور یوں تو لوگ اچھی کارکردگی کے بعد مدح و ثنا کو خوش گوار سمجھتے ہیں۔

میری اس پر مدح و ستائش نہ کر و کہ اﷲ کی اطاعت اور تمہارحقوق سے عہدہ برآ ہوا ہوں کیونکہ ابھی ان حقوق کا ڈر ہے کہ جنہیں پورا کرنے سے میں ابھی فارغ نہیں ہوا، اور ان فرائض کاابھی اندیشہ ہے کہ جن کا نفاذ ضروری ہے ۔


حکمرانوں کو امر با لمعروف اورنھی عن المنکر کرنا:

لوگ حاکموں ،بادشاہوں اور افسروں سے ، ان کے عہدے کی وجہ سے ، ڈرتے ہو ئے بات کرتے ہیںلِہٰذا حضرت علی علیہ السلام اپنے لیے اس طرح کے رویے لوگوں کو منع کرتے ہیں:

''فلاتکلّمونی بِما تُکلّمُ بہ الجبابرة ، ولا تتحفّظوا منّی بما یتحفّظُ بہ عند اہل البادرة، و لاتخالطونی بالمصانعة۔ولا تظنوا بی استثقالا فی حقٍّ قیل لی، ولا التماس اِعظامٍ لنفسی، فاِنّہ من استثقل الحقّ ان یقال لہ اوالعدل ان یعرض علیہ کان العمل بہما اثقل علیہ فلا تکفّوا عن مقالة بحقّ او مشورة بعدل۔"(١٤)

مجھ سے اس طرح باتیں نہ کیا کرو جس طرح جابر اور سرکش حکمرانوں سے کی جاتی ہیں، اور نہ مجھ سے اس طرح بچاؤ کرو جس طرح طیش کھانے والے حاکموں سے بچ بچاؤ کیا جاتا ہے،مجھ سے اس طرح کا میل جول نہ رکھو جس سے چاپلوسی اور خوشامد کا پہلو نکلتا ہو، میرے بارے میں یہ گمان نہ کرو کہ میرے سامنے حق بات کہی جائے گی تو مجھے گراں گذرے گی ،اور نہ یہ خیا ل کرو کہ میں یہ درخواست کروں گا کہ مجھے بڑھا چڑھا دو۔ کیونکہ جو اپنے سامنے حق کے کہے جانے یا عدل کے پیش کیے جانے کو گراں سمجھتا ہو ،اسے حق وعدل پر عمل کرنا کہیں دشوار ہوگا ۔تم اپنے آپ کو حق بات کہنے اور عدل کا مشورہ دینے سے نہ روکو ۔

ارباب اختیار اپنے آپ کو یہ نہ سمجھیں کہ وہ عوام کے سیاہ و سفید کے مالک ہیں بلکہ وہ اس امت کے امین ہیں اور اﷲ کے بندے ہیں لہٰذا ان پر بھی اور عوام پر بھی صرف اﷲ کی ذات کا اختیار ہے کسی اور کا کوئی اختیار نھیں ہے:

''فاِنّما انا و انتم عبید مملوکون لربّ لا ربّ غیرہ یملک منّا مالا نملک من انفسنا و اخرجنا ممّا کنّا فیہ الی ما صلحنا علیہ ،فابدلَناضلالة بالہدی و اعطانا البصیرة بعد العمٰی۔'' (١٥)

ہم اور تم اسی ربّ کے بے اختیار بندے ہیں کہ جس کے علاوہ کوئی ربّ نہیں ، وہ ہم پر اتنا اختیار رکھتا ہے کہ خود ہم اپنے نفسوں پر اتنا اختیار نہیں رکھتے۔ اسی نے ہمیں پہلی حالت سے نکال کر جس میں ہم تھے بہبودی کی راہ پر لگایا اور اسی نے ہماری گمراہی کو ہدایت سے بدلا اور بے بصیرتی کے بعد بصیرت عطا کی۔

(٨) منصب کی وجہ سے عوام سے بے رُخی نہ کرنا :

حضرت علی علیہ السلام اپنی فوج کے کچھ سرداروں کے نام لکھے ہوئے ایک خط میں حکومت اور عوام کے حقوق بیان کرتے ہوئے فرما تے ہیں:

''فاِنَّ حقّا علی الوالی ان الّا یغیّرَہ علی رعیّتہ فضل'' نالہ ولا طول'' خصّ بہ و ان یزیدہ ما قسم اﷲ لہ من نعمہ دنوًّا من عبادہ و عطفًا علی اخوانہ۔'' (١٦)

بے شک حاکم پر فرض ہے کہ وہ اپنے رویہ میں جو رعایا کے ساتھ ہے تبدیلی پیدا نہ کرے اس فضیلت اور برتری کی وجہ سے جس کو اس نے پایا ہے اور نہ اس خصوصیت کی وجہ سے جس کو اس نے پایا ہے۔ بلکہ اﷲ نے جونعمت اس کے نصیب میں کی ہے وہ اسے بندگان ِخدا سے نزدیکی اور اپنے بھائیوں سے ہمدردی میں اضافہ ہی کا باعث سمجھے۔


(٩)حکومت کی ذمہ داریاں:

جس طرح عوام پر حکومت کے حقوق کی انجام دہی فرض ہے اسی طرح حکومت پر بھی عوام کے حقوق کی انجام دہی فرض ہے۔ حضرت علی علیہ السلام بحیثیتِ حکمران اپنی رعیت سے خطاب کرتے ہیں:

''ایُّھالنّاسُ انّ لی علیکم حقًّا و لکم علیَّ حقّ ،فاَمّا حقُّکم علیَّ فالنّصیحةُ لکم ،و توفیرُ فیئکم علیکم ،و تعلیمکم کیلا تجھلوا ،و تادیبکم کیماتعملوا ۔''(١٧

اے لوگو! بے شک میرا تم پر حق ہے اورتمہارا مجھ پر حق ہے۔تمہارا میرے اوپر حق یہ ہے کہ میں تمہاری خیر خواہی پیش نظر رکھوں، اور بیت المال سے تمہیں پورا پورا حصہ دوں، اور تمہیں تعلیم دوں تاکہ تم جاہل نہ رہو، اور اس طرح تمہیں تہذیب سکھاؤں جس پر تم عمل کرو۔

اسی طرح آپ اپنے گورنر مالک اشتر کولکھے گئے خط میں ارشاد فرماتے ہیں:

''ھذا ما امر بہ عبداﷲ علیّ امیر المؤمنین مالک بن حارث الاشتر فی عھدہ الیہ حین ولاّہ مصر جبایة خراجھاوجھاد عدوہاواستصلاح اھلھا و عمارة بلادھا۔'' (١٨ )

یہ ہے وہ فرمان جس پر کاربند رہنے کا حکم دیا ہے خدا کے بندے علی امیر المؤمنین نے مالک بن حارث اشتر کو جب مصر کا انہیں والی بنایا تاکہ وہ خراج جمع کریں ، دشمنوں سے جہاد کریں، رعایا کی فلاح و بہبود کااور شہروں کی آبادی کا انتظام کریں۔

ان دونوں اقوال میں عوام کے آٹھ حقوق بیان کئے گئے ہیں:

١۔ عوام کی بھلائی چاہنا

٢۔ بیت المال میں مساوات کرنا

٣۔ عوام کی تعلیم و تربیت کا بندو بست کرنا

٤۔ عوام کو تہذیب و ثقافت سکھانا

٥۔ خراج جمع کرنا

٦۔ جہاد کرنا

٧۔ عوام کی فلاح و بہبود کا خاص خیال رکھنا

٨۔ شہروں کو آباد کرنا


(١٠)عوام کی ذمہ داریاں :

عوام کی ذمہ داریوں میں سے ایک ذمہ داری یہ کہ وہ حکومت کے ساتھ کئے ہوئے عہد و پیمان کو پورا کرے:۔

''وامّا حقّی علیکم فالوفآء بالبیعةِ، و النّصیحةُ فی المشہدِ والمغیبِ ،والاجابةُ حین ادعوکُمْ والطّاعةُ حینَ اٰمرُکم۔''(١٩)

اور میرا تم پر یہ حق ہے کہ بیعت کی ذمہ داریوں کی وفاداری کرو، حکومت کی سامنے اور پس پشت خیر خواہی کرو، جب بلاؤں تو میری صدا کا جواب دو اور جب کوئی حکم دوں تو اس کی تعمیل کرو ۔

پس آپ نے صالح حکام کے سامنے عوام کی چار اھم ذمہ داریوں کو بیان کیا ہے۔

١۔ بیعت کی وفاداری

٢۔ خیر خواہی

٣۔ حکومت کی مدد

٤۔ اطاعت

(١١)عوام کے طبقات اور ان کے حقوق اور ذمہ داریاں:

(الف) عوام کے طبقات:

عوام کے متعلق حکومت کی ذمہ داریوں کو زیاہ واضح کرنے کے لیے ضروری ہے کہ عوام کے تمام طبقات کو واضح کیا جائے تاکہ ہر طبقہ کے حقوق اور ان کے متعلق حکومت کی ذمہ داریوں کو بیان کیا جاسکے۔

حضرت علی علیہ السلام نہج البلاغہ میں عوام کے آٹھ طبقات بیان کرتے ہیں کہ:

''و اعلم انّ الرّعیّة طبقات، لا یصلح بعضھا الّا ببعضٍ ، ولا غنی ببعضھا عن بعضٍ فمنھا جنود اﷲو منھا کتّابُ العامّةِ والخاصّةِ و منھا قضاة العدلِ و منھا عمّالُ الانصافِ والرّفقِ ومنھا اھل الجزیة والخراجِ من اھل الذَّمّةِ و مُسلمةِ النّاسِ و منھا التّجّار و اھل الصناعات و منھا الطّبقة السفلٰی من ذوی الاجاجة و المسکنةِ۔''(٢٠)

تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ رعیت کے کئی طبقات ہوتے ہیں۔ان میں سے ہر طبقے کی فلاح و بہبود ایک دوسرے سے وابستہ ہوتی ہے اور وہ ایک دوسرے سے بے نیاز نہیں ہو سکتے، ان میںپہلا طبقہ وہ ہے جو اﷲ کی راہ میں کام آنے والے فوجیوں کا ہے ،دوسرا طبقہ :عمومی اور خصوصی تحریروں کا کام انجام دیتا ہے، تیسراطبقہ : عدل کرنے والے قاضیوں کا ہے، چوتھا طبقہ: حکومت کے وہ اعمال ہیں جن سے انصاف اور امن قائم ہوتا ہے،پانچواں طبقہ: جزیہ اور خراج دینے والوں کا ہے ،چھٹا طبقہ: جزیہ دینے والے ذمی اقلیتوں کا یا خراج دینے والے مسلمانوں کا ہے، ساتواں طبقہ: تاجروں اور صنعت گروں کاہے،آٹھواں طبقہ سب سے کمزور ترین طبقہ ہے جو فقراء اور مساکین کا ہے ۔ ان تمام طبقات میں سے ہر ایک کا بیت المال میں حصہ معیّن ہے :۔

''و کلًّا قد سمّی اﷲُ سہمہ لہ، ووضع علی حدّہ فریضتہ فی کتابہ او سنّةِ نبیّہ صلّی اﷲ علیہو اٰلہ وسلّم عہدا منہ عندنا محفوظا۔'' (٢١ )

اور اﷲ نے ہر ایک کا حق معین کردیا ہے اور اپنی کتاب یا سنت نبوی میں اس کی حد بندی کر دی ہے اور وہ دستور ہمارے پاس محفوظ ہے۔

(ب)تاجر اور صنعت گر کے حقوق:

حضرت علی علیہ السلام تاجروں اور صنعت گروں کی تین اقسام بیان کی ہیں ۔ ان میں سے ایک قسم ان تاجروں ا ور صنعت گر وں کی ہے جو ایک جگہ رہ کر تجارت کرتے ہیں۔

حضرت علی علیہ السلام مالک اشتر کو تاجروں اور صنعت گروں کے بارے میں حکم دیتے ہیں:

'' ثُمَّ استوصِ بِاالتُّجَّارِ و ذوی الصَّناعاتِ و اوصِبِھم خَیراً: المقیمُ منھم والمضطرب بمالہ والمترفِّق ببدنہ ، فاِنّھم موادّ المنافعِ و اسباب المرافق، وجلّابھا من المباعد والمطارح ، فی بَرِّک و بحرک و سھلک و جبلک و حیث لا یلتئم النّاسُ بمواضعھا ولا یجترؤن علیھا، فاِنّھم سلم لا تخاف بائقتہ و صلح لاتخشی غائلتہ و تفقّد امورھم بحضرتک و فی حواشی بلادِکَ۔'' (٢٢)

پھر تمہیں تاجروں اور صنعت گروںکے خیال رکھنے کی اور ان کے ساتھ اچھے برتاؤ کی ہدایت کی جاتی ہے، خواہ وہ ایک جگہ رہ کر بیو پار کرنے والے ہوں، یا پھیری لگا کر بیچنے والے ہوں یا جسمانی مشقت سے کمانیوالے ہوں، اور تمہیں دوسروں کو ان کے متعلق ہدایت کرنا ہے کیونکہ یہی لوگ منافع کا سرچشمہ اور ضروریات کے پورا کرنے کا ذریعہ ہوتے ہیں۔ یہ لوگ ان ضروریات کو خشکیوں، تریوں ،میدانی علاقوںاور پہاڑوں ایسے دور افتادہ مقامات سے درآمد کرتے ہیں اور ایسی جگہوں سے جہاں لوگ پہنچ نہیں سکتے اور نہ وہاں جانے کی ہمت کر سکتے ہیں ، بے شک یہ لوگ امن پسند اور صلح جو ہوتے ہیں، ان سے کسی شورش کا اندیشہ نہیں ہوتا۔ یہ لوگ تمہارے سامنے ہوں یا جہاں جہاں دوسرے شہروں میں پھیلے ہوئے ہوں تم ان کی خبر گیری کرتے رہنا ۔


(ج)ذخیرہ اندوزتاجر اورصنعت گر:

امام علی کے نزدیک ذخیرہ اندوزی کرنے والے تاجر اور صنعت گر تنگ نظر اورکنجوس ہوتے ہیں:

''و اعلم مع ذالک انّ فی کثیرٍ منہم ضیقا فاحشا و شحًا قبیحًا، و احتکارا للمنافع ،و تحکما فی البیاعات،وذَالکَ بابُ مضرّةٍ للعامّةِ،و عیب علی الولاةِ، فامنع من الاحتکارِفاِنّ رسول اﷲِ صلّی اﷲ علیہ و اٰلہ وسلّم منع منہ ولْیکنِ البیعُ بیعًا سمحًا بموازین عدلٍ و اسعارٍ لا تجحفُ بالفریقین من البائعِ والمبتاعِ فمن قارف حکرةً بعد نہیک ایّاہ فنکّل بہ، و عاقبہ فی غیرِ اسرافٍ۔''(٢٣ )

اس کے ساتھ یہ بھی یاد رکھو کہ ان میں ایسے بھی ہوتے ہیں جو انتہائی تنگ نظر اور بڑے کنجوس ہوتے ہیں ، جو زیادہ منافع حاصل کرنے کے لیے ذخیرہ اندوزی کرتے ہیں، اونچے نرخ معین کرلیتے ہیں ، یہ چیز عوام کے لیے نقصان دہ ہوتی ہے، اور حکمرانوں کی بدنامی کا باعث ہوتی ہے لہٰذا ذخیرہ اندوزی سے منع کرنا ، کیونکہ رسول(ص) اﷲنے اس سے ممانعت فرمائی ہے اور خرید و فروخت صحیح ترازو اور مناسب نرخوںکے ساتھ بسہولت ہونا چاہیے کہ نہ بیچنے والے کو نقصان ہو اور نہ خریدنے والے کو خسارہ ہواور منع کرنے کے بعد بھی کوئی ذخیرہ اندوزی کے جرم کا مرتکب ہو تو اسے مناسب حد تک سزا دینا ۔

(د)بے سھارا ، فقراء اور مساکین کے حقوق:

حضرت علی علیہ السلام اپنے گورنر مالک اشتر کو بے سہارا ، مساکین اور فقراء کے حقوق کے بارے میں ھدایات دیتے ہیں:

''اﷲ اﷲ فی الطبقہ السفلٰی من الذین لا حیلة لھم والمساکین والمحتاجین و اھل البؤسٰی والزّمنی۔فانّ فی ھذہ الطبقة قانعا و معترًّا و احفظ ﷲ ما استحفظک من حقّہ فیھم۔واجعل لھم قسما من غلّات صوافی الاسلام فی کلّ بلدٍ فاِنّ للاقصٰی منھم مثل الذی للادنی وکلّ قد استرعیت حقّہ فلا یشغلنّک عنھم بطر فاِنّک لا تُعذرُ بِتَضیِیعک التَّافِہَ لاحکام الکثیر المھمَّ فلا تشخص ھمّک عنھم ، ولا تصعّر خدّکا لھم و تفقّد امور من لا یصل الیک منھم ممّن تفتحمہ العیون و تحقرہ الرّجال۔'' (٢٤)

خصوصیت کے ساتھ اﷲ کا خوف کرنا، پس ماندہ طبقہ کے بارے میں جن کا کوئی سہارا نہیں ہوتا، وہ مسکینوں ، محتاجوں، فقیروں اور معذوروں کا طبقہ ہے۔ ان میں کچھ تو ہاتھ پھیلا کر مانگنے والے ہوتے ہیں اور کچھ کی صورت ہی سوال ہوتی ہے ۔ اﷲ کی خاطر ان بے کسوں کے بارے میں ان کے اس حق کی حفاظت کرنا جس کااﷲ نے تمہیں ذمہ دار بنایا ہے ۔ ان کے لیے ایک حصہ بیت المال سے معین کر دینا اور ایک حصہ شہر کے اس غلہ میں سے دیناجو اسلامی غنیمت کی زمینوں سے حاصل ہوا ہو، کیونکہ اس میں دور والوں کا اتنا ہی حصہ ہے جتنا نزدیک والوں کا ہے۔اور تم ان سب کے حقوق کی نگہداشت کے ذمہ دار بنائے گئے ہو ۔ لہٰذا تمہیں دولت کی سر مستی کہیں غافل نہ کردے۔پس کسی معمولی بات کو اس لیے نظر انداز نہیں کیا جائے گا کہ تم نے بہت سے اہم کاموں کو پورا کردیا ہے لہٰذا اپنی توجہ ان سے نہ ہٹانا۔ نہ تکبر کے ساتھ ان کی طرف سے اپنارخ

پھیر لینااور نہ ہی اپنی توجہ ان سے ہٹانا۔ خصوصیت کے ساتھ خبر رکھو ایسے افراد کی جو تم تک پہنچ نہ سکتے ہوں جنہیں آنکھیں دیکھنے سے کراہت کرتی ہونگی اور لوگ انہیں حقارت سے ٹھکراتے ہوں گے۔


اگرحکمرانوں کو حکومت کے دیگر معاملات کی مصروفیت کی وجہ سے دور دراز علاقوں میں جاکر ایسے افراد کی خبر گیری کرنا مشکل ہو تو اس کا م کے لیے ہر علاقہ میں باوثوق اورخوف ِخدا رکھنے والے افراد کو معین کیا جائے جو حکومت تک صحیح اطلاعات پہنچاتے رہیں :۔

'' ففرِّغْ الأولٰئک ثقتک من اہل الخشیة والتّواضح ، فلیرفع الیک امورہم ثمّ اعمل فیہم بالاعذار الی اﷲِ یوم تلقاہ۔'' (٢٥)

پس تم ان کے لیے اپنے کسی بھروسے کے آدمی کو جو خوفِ خدا رکھنے والا اور متواضع ہو مقرر کردیناکہ وہ ان کے حالات تم تک پہنچاتا رہے۔پھر ان کے ساتھ وہ طرز عمل اختیار کرنا جس سے قیامت کے دن اﷲ کے سامنے حجت پیش کر سکو۔

پھر فرماتے ہیں :یہی لوگ سب سے زیادہ انصاف کے مستحق ہیں کیونکہ ان لوگوں کا کوئی اور سہارا نہیں:

''فاِنّ ھؤلآء من بین الرعیّةِ احرج الی الانصاف من غیرھم فکلّ فاَعْذر الی اﷲ فی تاْدیةِ حقّہ الیہ۔'' (٢٦)

کیونکہ عوام میںیہ لوگ دوسروں سے زیادہ انصاف کے محتاج ہیںاور یوں تو سب ہی ایسے ہیں کہ تمہیں ان کے حقوق سے عہدہ برآ ہو کر اﷲ کے سامنے سرخرو ہونا ہے۔

(و)یتیموں اور بوڑھوں کے حقوق:

حکومت کی ذمہ داری ہے کہ عوام میں سے جو یتیم ہیں یا یتیموں کی پرورش کرنے والے ہیں اور جو بہت ہی بوڑھے ہو چکے ہیں ان کے حقوق کا خاص خیال رکھے :۔

''وتعہّدْ اہل الیُتمِ و ذوی الرِّقَّةِ فی السّنّ ممّن لا حیلة لہ و لا ینصبُ للمسألةِ نفسہ۔و ذالک علی الولاةِ ثقیل، والحقُّ کلُّ ثقیل وقد یخفِّفُہ اﷲ علی اقوامٍ طلبوا العاقبة فصبروا انفسھم وَ وَثِقوا بصدق موعودِ اﷲِ لھمْ۔''(٢٧)

اور یتیموں (اور ان کے پالنے والوں کا بھی خیال رکھنا ہوگا) اور ان کا بھی جو بہت بوڑھے ہو چکے ہیں جن کا کوئی سہارا باقی نہیں جو بھیک مانگنے کے بھی لائق نہیں رہے ،اور یہی وہ کام ہے جو حکام پر گراں گذرتا ہے۔

جبکہ حق سارے کا سارا بھاری ہوتا ہے۔ ہاں خدا ان لوگوں کے لیے جو آخرت کے طلبگار ہوتے ہیں

ان کی گرانیوںکو ہلکا کردیتا ہے وہ اسے اپنی ذات پر جھیل لے جاتے ہیں اور اﷲ نے جو ، ان سے وعدہ کیا ہے اس کی سچائی پر بھروسہ کرتے ہیں ۔

(ھ)ملازمین کی تنخواہ کا معیار :

ملازمین کی تنخواہ کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں:

''اسبغ علیھم الازداتَ فاِنّ ذالک قوّة لھم علی استصلاح انفسھم ، و غنیً لھم عن تناول ما تحت ایدیھم و حجّة علیھم ان خالفوا امرک او ثلموا امانتک۔'' (٢٨)

ان کی تنخواہوں کا معیار بلند رکھنا کیونکہ اس سے انہیں اپنے نفوس کے درست رکھنے میں مدد ملے گی ، اور اس مال سے بے نیاز رہیں گے، جو ان کے ہاتھوں میں بطور امانت ہوگا۔ اس کے بعد بھی وہ تمہارے حکم کی خلاف ورزی یا امانت میں رخنہ اندازی کریں ، توتمہاری حجت ان پر تمام ہو گی۔


(ی)خائن ملازمین اور ان کی سزا:

خائن افسروں کی جانچ پڑتال کے لیے ضروری ہے کہ ان پر کچھ امین اور دیندار لوگوں کو مقرر کیا جائے تاکہ وہ ان کی خیانت کی خبر دیتے رہیں اور جو وہ خبر دیں وہ ان کے لیے کافی ہے:

''فاِن احد منہم بسط یدہ الی خیانةٍ اجتمعت بھا علیہ عندک اخبارُ عیونک اکتفیْتَ بذالکشاھدا، فبستتَ علیہ العقوبة فی بدنہ، واخذتَہ بما اصاب من عملہ،ثمّ نصبتَہ بمقامِ المذلَّةِ، و سمتْہ بالخیانةِ و قلّدْتَہ عار الثھمةِ۔''(٢٩ )

اگر ان میں سے کوئی خیانت کی طرف اپنا ہاتھ بڑھائے اور متفقہ طور پر جاسوسوں کی اطلاعات تم تک پہنچ جائیں ، تو شہادت کے لیے بس اسے کافی سمجھ لینا ، اسے جسمانی طور پر سزا دینااور جو کچھ اس نے اپنے عہدہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سمیٹا ہے اسے واپس لینااوراسے ذلت کی منزل پر کھڑا کر دینا ، خیانت کی رسوائیوں کے ساتھ اسے روشناس کرانااور رسوائی کا طوق اس کے گلے میں ڈال دینا۔

(١٨) حکمرانوں کے بارے میں عوام کی سیاسی ذمہ داریاں :

(الف) ظالم حکام کا مقابلہ:

عوام کی اہم ذمہ داریوں میں سے ایک ذمہ داری یہ ہے کہ وہ ظالم حکام کا مقابلہ کرے:۔

''وافضل من ذالک کلّہ کلمةُ عدلٍ عند امامٍ جائرٍ۔'' (٣٠)

ان سب سے بہتر وہ حق بات ہے جو کسی جابر حکمران کے سامنے کہی جائے۔

ظالم حکام کی صفات میں سے ایک صفت یہ ہے کہ وہ متکبر ہوگا لہٰذا ایسے متکبّر حکام کا مقابلہ کرناعوام کی ذمہ داریوں میں سے ہے

''فالحذرْ الحذر من طاعة ساداتکم و کبرائم الذین تکبّروا عن حسبھم ترفّعوا فوق نسبھم و القوا الھجینةَ علی ربّھم وجاحدوا اﷲ ما صَنَعَ بھم مکابرةً لقضائہ و مغالبةً لآلائہ۔'' (٣١ )

خبردار اپنے اُن سرداروں اور بڑوں کا اتباع کرنے سے ڈرو جو اپنے حسب پر تکبّر کرتے ہوں ۔ اپنے نسب کی بلندیوں پر فخر کرتے ہوں ۔اور بد نما چیزوں کو اﷲ کے سر ڈال دیتے ہوں ،اور اس کی قضاء و قدر سے ٹکر لینے اور اس کی نعمتوں پر غلبہ پانے کے لیے اس کے احسانات سے یکسر انکار کردیتے ہوں۔

جب پتا چل جائے کہ یہ ظالم حاکم ہے تو اس کا مقابلہ کرنے کی کم سے کم صورت یہ ہے کہ اس کے ظلم کو دل سے بُرا سمجھا جائے اور اس سے نفرت کی جائے

'' ایُّھا المؤمِنونَ !اِنّہ مَن رَأٰی عدوانا یُعمَلُ بہ و منکَرا یُدعٰی الیہ فانکر بقلبہ فقد سلم و بریَٔ و من انکرہ بلسانہ فقد اُجِرَ وھو افضل من صاحبہ۔و من انکرہ بالسّیفِ لتکون کلمةُ اﷲ ہی العُلیَاوکلمةُ الظالمین ہی السُّفلیٰ فذالک الذی اساب السّبیل الھدٰی وقام علی الطّریق و نوّرَ فی قلبہ الیقینُ۔''(٣٢)

اے مؤمنو!جو شخص دیکھے کہ ظلم پر عمل ہو رہا ہے اور برائی کی طرف دعوت دی جا رہی ہے اور وہ دل سے اسے برا سمجھے تو وہ محفوظ اور بَری ہو گیا،اور جو زبان سے اسے برا کہے وہ ماجور ہے اور صرف دل سے برا سمجھنے والے سے افضل ہے۔اور جو شخص تلوار سے اس برائی کو روکے تاکہ اﷲ کے کلمہ کا بول بالا ہو اور ظالموں کی بات گر جائے تو یہی وہ شخص ہے جس نے ہدایت کی راہ کو پالیا اور سیدھے راستے پر قائم ہو گیا اور اس کے دل میں یقین نے روشنی پھیلا دی۔


(ب) صالح حکمرانوں کی مدد:

نیک اور صالح حکام کی مدد کرنا عوام کی اہم ذمہ داریوں میں سے ایک ہے جو اس ذمہ داری کو بخوبی انجام دیتا ہے وہ ایسا ہے جیساکہ اس نے حق کو قائم کرنے میں مدد کی ہے۔ حضرت علی علیہ السلام اپنے مددگاروں کی صفات بیان کرتے ہیں:

''وانتم الانصارُ علیٰ الحق ،والاخوانُ فی الدّین ،والجننُ یوم الباْسِ ، والبِطانةُ دون النّاسِ بکم اضربُ المدبر و اَرْجوطاعة المقْبلَ فاعینونی بمناصحة خلیَّة من الغشِّ سلیمة من الرّیبِ فَوَاﷲِ انِّی لاَوْلنّاسِ بالنّاسِ۔'' (٣٣ )

تم حق کے قائم کرنے میں میرے مددگار ہو، دین میں بھائی بھائی ہو،اور سختیوں میں سپر ہو،اور تمام لوگوں کو چھوڑ کر تم ہی میرے رازدار ہو۔ہماری مدد سے روگردانی کرنے والے کو مارتا ہوںاور پیش قدمی کرنے والے کی اطاعت کی توقع رکھتا ہوں، ایسی خیر خواہی کے ساتھ میری مدد کرو کہ جس میں دھوکہ اور فریب کاشائبہ نہ ہو ، اﷲکی قسم میںتمام لوگوں میں سب سے زیادہ اولیٰ و مقدم ہوں۔

 

(ج)صالح حکام سے دوری کے نتائج:

 

نیک اور صالح حکام سے علیحدہ ہو جانے والے خود مصیبتوں کا شکار ہوجاتے ہیں اور اپنی بداعمالیاں انہیں گھیر لیتی ہیں نتیجے میں وہ اپنے آپ کو ملامت ہی کرتے رہتے ہیں

''ایُّہا النّاسُ القوا ھذہ الازِمَّةُ الّتی تحملُ ظھورہا الاثقال من ایدیکم ولا تصدّعوا علی سلطانکم فتذمّوا غبّ فِعالِکُم۔ولا تقتحموا ما استقبلتم من فورنار الفتنة وامیطوا عن سَنَنِھاخَلُّوا قصد السَّبِیْلِ لھا لعمری یَھلِکُ فی لھبِھا المؤمنُ و سَلِم فیھا غیر المسلم۔'' (٣٤)

اے لوگو! ان سواروں کی باگیں اتار پھینکو کہ جن کی پشت نے تمہارے ہاتھ گناہوں کے بوجھ اٹھائے ہیں اپنے حاکم سے کٹ کر علیحدہ نہ ہو جاؤ ، ورنہ بد اعمالیوں کے انجام میں اپنے ہی نفسوں کو برا بھلا کہو گے۔

اور جو آتشِ فتنہ تمہارے آگے شعلہ ور ہے اس میں اندھا دھند کود نہ پڑو ، اس کی راہ سے مڑ کر چلو۔اور راہ کو اس کے لیے خالی کردو کیوں کہ میری جان کی قسم ! یہ وہ آگ ہے کہ مؤمن اس کی لپٹوں میں تباہ و برباد ہو جائے گا اور کافر اس میں محفوظ رہے گا۔

حضرت علی علیہ السلام لوگوں کے سامنے نیک اورصالح حاکم کی مثال کے طور پر اپنے آپ کو پیش کرتے ہوئے فرماتے ہیں

''انَّما مِثلی بینکم مَثلُ السّراجِ فی الظلمةِ یَستضِیئُ بہ مَنْ وَلَجَھا فَاسْمَعُوا ایُّھا النّاسُ وَعُوْا واَحْضِرُوا اٰذانَ قُلوبِکم تَفْھمُوا ۔''(٣٥ )

تمہارے درمیان میری مثال ایسی ہے جیسے اندھیرے میں چراغ کی کہ جو اس میں داخل ہو گا وہ اس سے روشنی حاصل کرے گا ، اے لوگو! سنو اور یاد رکھو اور دل کے کانوں کو سامنے لاؤ تاکہ سمجھ سکو۔


(٢١)صالح حکمران سے انحراف کے نقصانات:

جو اپنے صالح حکام سے انحراف کرے گا اسے ذلت و خواریوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ حضرت علی ـ اپنی رعیت کو، جو آپ علیہ السلام کی مدد سے منحرف ہونے کے نتیجے میں آنے والے وقت کی ابتلاؤں کے بارے میں خبردار کرتے ہیں

''امّا انّکم ستلقون بعدی ذُلّاً شامِلاً ، و سیفاً قاطعاً۔و اثرةًیتّخِذُہا الظالمون فیکم سنّةً ۔''(٣٦ )

یاد رکھو کہ تمہیں میرے بعد چھا جانے والی ذلت سے دوچار ہونا پڑے گا،اور کاٹنے والی تلوار سے بھی دوچارہونا پڑے گا ۔اور اس طریقہ کار کامقابلہ کرنا ہوگا جسے ظالم تمہارے بارے میں اپنی سنت بنا لیں گے۔

حضرت علی ـ ایسے افراد کے لیے بنی اسرائیل کی مثال دیتے ہیںجو کئی سالوں تک صحرائے تیہ میں بھٹک رہی تھی صرف اس وجہ سے کہ وہ بار بار انبیاء علیہم السلام کی نافرمانی کر رہی تھی :

" ایّہا النّاسُ لو لَمْ تتخاذلوا عن نَّصر الحقِّ ، ولم تَھنوا عن توہینِ الباطِلِ لم یطمعْ فیکم من لیس مثلکم ، ولم یقْوَ مَن قویَ علیکم لٰکنَّکم تِھتُم متاة بنی اسرائیلَ ولعمری لیُضَّعَفنَّ لکم التِّیہَ من بعدی اضعافاً بِما خَلّفتمْ الحقَّ ورآء ظھورِکم و قطعْتُم الادنیٰ ووصلتم الابعدواعلموا انّکم ان اتّبعتم الدّاعی لکم سلک بکم منھاجَ الرسولِ صلّی اﷲ علیہ و آلہ وسلّم و کُفِیتم مؤونَةَ الاعْتِسافِ و نبذتم الثِّقْلَ الفادِحَ عن الاعْناقِ۔'' (٣٧ )

اے لوگو! اگر تم حق کی نصرت سے پہلو نہ بچاتے اور باطل کو کمزور کرنے سے سستی نہ دکھاتے تو جو تمہارا ہم پایہ نہ تھا وہ تم پر دانت نہ رکھتا اور جس نے تم پر قابو پالیا وہ تم پر قابو نہ پاتا۔لیکن تم تو بنی اسرائیل کی طرح صحرائے تیہ میں بھٹک گئے ہو۔اور اپنی جان کی قسم میرے بعد تمہاری سرگردانی و پریشانی بڑھ جائے گی ۔

کیونکہ تم نے حق کو پسِ پشت ڈال دیاہے اور قریبوں سے قطع تعلق کرلیا ہے اور دور والوں سے رشتہ جوڑ لیاہے۔ یقین رکھو کہ اگر تم دعوت دینے والے کی پیروی کرتے تو وہ تمہیں رسول اﷲ صلّی اﷲ علیہ و آلہ وسلّم کے راستے پر لے چلتا اور تم بے راہ روی کی زحمتوں سے بچ جاتے اور اپنی گردنوں سے بھاری بوجھ اتار پھینکتے۔


صالح حکام سے انحراف کا نتیجہ حسرت و اندوہ کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوتا:

" فانّ معصیة النّاصح الشّفیق العالم المجرب تورثُ الحسرة و تعقب النّدامة و قد کنت امرتکم فی ہٰذہ الحکومة امری و نخلت لکم مخزون رأیی لو کان یطاع لقصیر امرہ فابیتم علی اباء المخالفین الجفاة والمنابذین العصات ، حتّی ارتاتت النّاصح بنصحہ و ظنّ الزند بقدحہ۔'' (٣٨ )

تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ شفیق خیر خواہ اور تجربہ کار عالم کی مخالفت کا نتیجہ حسرت و افسوس ہوتا ہے اور اس کا انجام ندامت کی شکل میں برآمد ہوتا ہے۔ میں نے تمہیں اس تحکیم کے بارے میں تمہیں اپنا حکم سنا دیا اور اپنی رائے کا نچوڑ تمہارے سامنے رکھ دیا تھا لیکن کان ہی کون دھرتا ہے ، بلکہ تم نے جفا کار مخالفوں اور عہد شکن نافرمانوں کی مانند مجھ سے منہ پھیر لیا یہاںتک کہ خود ناصح اپنی نصیحت کے متعلق سوچ میں پڑ گیا اور طبیعت اس چقماق کی طرح بجھ کر رہ گئی جس سے چنگاری نکلنا بند ہو گئی ہو۔

پھر فرماتے ہیں دشمن ان پر باآسانی غالب آجائے گا :۔

''امّا والذّی نفسی بیدہ لیظھرنّ ھؤلائِ القوم علیکم لیس لانّھم اَولَی بالحقِّ منکم ولٰکن لاسراعھم الی باطل صاحبھم وابطائکم عن حقی و لقد اصبحتْ الاممُ ظلمَ رعاتِھا و اصبحتُ اخاف ظلم رعیّتی۔''(٣٩)

اس کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے یہ قوم تم پر کامیاب ہو جائے گی اس لیے نہیں کہ یہ لوگ حق کی نسبت تم سے زیادہ نزدیک ہیں بلکہ اس لیے کہ وہ اپنے باطل کی طرف تیزی سے بڑھ رہے ہیں اورتم اپنے حق کے سلسلے میں سستی دکھاتے ہو ۔ بلا شبہ قومیں اپنے حکام کے ظلم سے ڈرتی ہیں لیکن میں اپنی رعایا کے ظلم سے خوف زدہ ہوں۔

صالح حاکم سے انحراف کرنے والے کی مثال اس شخص کی سی ہے جو اﷲ کی مددکرنے سے انحراف کر رہا ہو''اللّٰہمَّ ایُّما عبدٍ من عبادِکَ سمع مقالَتَنَا العادِلةَ غیرَ الجائِرةِ ، والمةصْلِحَةَ غیرَ المُفسِدةِ فی الدِّینِ والدُّنیا فاَبٰی بعدَ سمعِہ لھا الّا النُّکوصَ عن نصْرتِکَ والابطائِ عن اعزازِ دِینِکَ فَاِنّا نستشھدُکَ علیہِ بِاکْبرِ الشَّاھدینَ شھادةً ۔و نستشھدُ علیہِ جَمیعَ مَن اسکَنْتَہ ارضَکَ و سمٰواتِک ثُمَّ انتَ بعدَہ المُغْنی عن نصْرِہ والاٰخِذُ لہ بِذنبہ۔'' (٤٠)

خدایا تیرے بندوں میں سے جو بندہ ہماری ان باتوں کو سنے کہ جو عدل کے تقاضوں سے ہمنوا ، اور ظلم اور جور سے الگ ہیں ، اور جو دین و دنیا کی اصلاح کرنے والی ہیں اور شر انگیزی سے دور ہیں اور سننے کے بعد انہیں ماننے سے انکار کردے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ تیری نصرت سے منہ موڑنے والا ہے اور تیرے دین کو ترقی دینے سے کوتاہی کرنے والا ہے۔ اے گواہوں میں سب سے بڑے گواہ !ہم تجھے اِس شخص کے خلاف گواہ کرتے ہیںاور ہم ان سب کو جنہیں تو نے زمین اور آسمانوں میں بسایا ہے اس شخص کے خلاف گواہ کرتے ہیں،پھر اس کے بعد تو ہی اس نصرت سے بے نیاز کرنے والا ہے اور اس کے اس گناہ کا مواخذہ کرنے والا ہے۔


(٥)حکومت کا عوام کے ساتھ حسن سلوک:

حکومت اور عوام کے درمیان موجود روابط و تعلقات میں سے اہم تعلق اخلاقی تعلق ہے جو انسانی ہمدردی اور ایمانی اصولوں پر استوار ہے اور سیاسی ہم آہنگی کو زیادہ سے زیادہ مضبوط کرتا ہے۔ حضرت علی علیہ السلام نہج البلاغہ میں حکام اور عہدیداروں کو عوام سے مہربانی ، نرمی اورخندہ پیشانی کا سلوک کرنے کی تاکید کرتے ہیں،جسے خود حکومت اور عوام کے درمیان بہترین تعلق و ربط کاراز کہا جا سکتا ہے :۔

''املک حمیّة انفک و سورة حدّک و وسطوة یدک و غرب لسانک ۔واحترس من کلّ ذالک بکفّ البادرة، و تاخیر السطوة حتٰی یسکنَ غَضَبُکَ فتملک الاختیار، و لن تحکم ذالک من نفسک حتّٰی تکثر ہمومک بذکر المعاد الٰی ربِّکَ۔''(٤١)

غضب کی تندی، سرکشی کے جوش ، ہاتھ کی جنبش اور زبان کی تیزی پر اپنے آپ کو قابو میں رکھو ، اور ان سب چیزوں سے بچنے کے لیے جلد بازی نہ کرو، اور سزا دینے میں دیر کرویہاں تک کہ تمہارا غصہ کم ہوجائے اور تم اپنے اوپر قابو پالو، اور کبھی یہ بات تم اپنے نفس میں پورے طور پر پیدا نہیں کر سکتے جب تک اﷲ کی طرف اپنی بازگشت کو یاد کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ ان تصورات کو قائم نہ رکھو۔

امام علیہ السلام کے ارشاد کے مطابق ، جلد بازی ،جذبات اورنفسانی خواہشات پر قابو پالینا ہی پسندیدہ اخلاق کا اصل سرچشمہ ہے اور نفس پرقابو پانے کی اساس اﷲ تعالیٰ اور قیامت پر ایمان ہے ۔ ایسا اخلاقی نظام ہی پائدار ہوسکتا ہے یہی وہ چیز ہے جس پر حکومت اور عوام کے سیاسی روابط و تعلقات کے سلسلے میں انحصار کیا جا سکتا ہے ۔

حضرت علی ـ نے جب حضرت محمد بن ابی بکر کو مصر کا گورنر مقرر کیاتو انہیں عوام کے ساتھ اخلاقی رویہ اختیار کرنے کی تاکید کرتے ہوئے ہد ایات ارشاد فرمائیں:

''فاخفض لھم جناحک، و اَلِن لھم جانبک ، وابسط لھم وجھک ۔ وآس بینھم فی اللحظةِ والنّظرةِ حتّٰی لا یطمع العظماء فی حیفک لھم ولا ییئس الضعفاء من عدلک بھم فاِنَّ اﷲ تعالی یسائلکم معشر عبادہ عن الصغیرةِ من اعمالکم والکبیرةِ والظّاھرةِ والمستورةِ فاِن یعذب فانتم اظلمُ، واِن یَعُف فھواکرم۔''۔(٤٢

لوگوں سے تواضع و انکساری کے ساتھ ملنا۔ لوگوں سے نرمی کا برتاؤ کرنا۔ ان سے کشادہ روئی سے پیش آنا،اور سب کو ایک نظر سے دیکھنا تاکہ بڑے لوگ تم سے اپنی ناحق طرفداری کی امید نہ رکھیںاور چھوٹے لوگ تمہارے عدل اور انصاف سے ان کے مقابلے میں نا امید نہ ہو جائیں ۔بیشک اﷲ تعالی چھوٹے ، بڑے ،ظاہری اور پوشیدہ اعمال کی تم سے باز پرس کرے گا اور اس کے بعد اگر وہ عذاب کرے تویہ خود تمہارے ظلم کا نتیجہ ہے، اور اگر وہ معاف کردے تو وہ اس کے کرم کا تقاضا ہے۔

جب حضرت علی علیہ السلام نے عبد اﷲ بن عباس کو بصرے کا گورنر بنا کر بھیجا تو ان کو عوام کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آنے کی تاکید کرتے ہوئے مندرج ذیل ہدایات ارشاد فرمائیں:

''سع النّاس بوجہک و مجلسک و حکمک ، و ایّاک والغضب فاِنّہ طیرة من الشیاطین۔واعلم ان ما قرّبک من اﷲ یباعدک من النّاروما باعدک من اﷲ یقرّب من النّار۔'' (٤٣ )

لوگوں سے کشادہ روئی سے پیش آؤ، اور اپنی مجلس میں لوگوں کو راہ دو اور حکم میں تنگی روا نہ رکھو۔غصہ سے پرہیز کرو کیونکہ یہ شیطان کے لیے شگون نیک ہے،اور اس بات کو جانوکہ جو چیز تمہیں اﷲ کے زیادہ قریب کرتی ہے وہ دوزخ سے دور کرتی ہے۔ اور جو چیز اﷲ سے دور کرتی ہے وہ دوزخ سے قریب کرتی ہے۔


حضرت امیر المؤمنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے مالک اشتر کو عوام کے ساتھ اخلاق سے پیش آنے کی تاکید کرتے ہوئے فرمایا:

''وایّاک والمنَّ علیٰ رعیّتک باحسانک ، فاِنّ المنّ یبطل الاحسان او التّزّید فیما کان من فعلک والتّزّید یذہب بنور الحقاو ان تعد ہم فتتبع موعدک بخلفک والخلف یوجب المقت عنداﷲ والنّاس۔'' (٤٤)

اور عوام کے ساتھ نیکی کر کے کبھی نہ جتا نا کیونکہ احسان جتانا نیکی کو اکارت کردینا ہے۔ جو ان سے حسن سلوک کرنا اسے زیادہ نہ سمجھنا کیونکہ اپنی بھلائی کو زیادہ خیال کرنا حق کی روشنی کو ختم کردینا ہے اور ان سے وعدہ کر کے بعد میں وعدہ خلافی نہ کر نا کیونکہ وعدہ خلافی سے اﷲ بھی ناراض ہوتا ہے اور بندے بھی ،عوام کے ساتھ روابط و تعلقات میں اخلاقی اصولوں کی رعایت اس حد تک ضروری ہے کہ حاکم کو ایک معلم اخلاق کی حیثیت سے اپنے ہم نشینوں اور تمام رعایا کے لیے نمونہ عمل ہونا چاہیے ، وہ حاکم جس کی سیرت یا طرز عمل لوگوں پر براہ راست یا بالواسطہ اثر انداز ہوتی ہے اسے لوگوں کے ساتھ ایسی معاشرت رکھنی چاہیے کہ لوگ اس کے عمل سے اخلاق کا سبق حاصل کریں۔

حضرت علی علیہ السلام، مالک اشتر کوایسے افراد سے، جو لوگوں کی عیب جوئی میں لگے رہتے ہیں،دوری اختیار کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

''ولیکن ابعد رعیّتک منک و اشنئہم عندک اطلبہم لمعایب النّاس فانّ فی النّاس عیوبا الوالی احق من سترہا فلا تکشفنّ عمّا غاب منہا فاِنّما علیک تطہیرما ظہر لک واﷲ یحکم علی ما غاب عنک فاستر العورة مااستطعت یستراﷲ منک ما تحبُّ سترہ من رعیّتک اطلق عن النّاس عقدة کلّ حقد واقطع عنک سبب کل وتر و تغاب عن کل ما لا یضح لک و لاتعجلنّ الی تصدیق صاع فاِنّ الساعی غاش وان تشبہ بالنّٰصحین۔''(٤٥ )

تم سے سب سے زیادہ دُور اور ناپسندیدہ وہ شخص ہونا چاہیے جو لوگوں کی عیب جوئی میں لگا رہتا ہے کیونکہ لوگوں میں عیب تو ہوتے ہی ہیںاور حاکم ان کی پردہ پوشی کا سب سے زیادہ سزاوار ہے۔ پس پوشیدہ عیوبکو برملا نہ کرو،اور جو عیب ظاہر ہو گئے ہیں ان کی بھی صفائی اور توجیہ کردو اور جو عیب چھپے ہوئے ہیں ان کا فیصلہ خدا کے حوالے کردینا اور جہاں تک ہو سکے دوسروں کے رازوں کو پوشیدہ رکھو تاکہ تم اپنے جن اسرار کو چھپانا چاہتے ہو اﷲ انہیں پوشیدہ رکھے ۔ لوگوں سے کینہ کی ہر گرہ کوکھول دو اور اپنے انتقام کی ہر رسی کو کاٹ دو، جو چیز تمہاری نظر میں درست نہ ہو اس سے دوری اختیار کرو۔ چغل خور کی باتوں کی جلدی سے تصدیق نہ کیا کرو کیونکہ چغل خور خود فریب کار ہوتا ہے چاہے وہ نصیحت کرنے والوں میںسے ہی کیوں نہ ہو۔


(٦)اقلیتوں کے ساتھ حکومت کے روابط و تعلقات :

حکومت اور عوام کے درمیان روابط و تعلقا ت میں سے ایک خاص اور اہم بحث یہ ہے کہ اسلامی حکومت کا اقلیتوں کے ساتھ تعلق کس نوعیت کا ہونا چاہیے۔ اس کوواضح کرتے ہوئے حضرت علی علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں:

'' فانّہم صنفان امّا اخ لک فی الدین و امّا نظیر لک فی الخلق ،یفرط منہم الزّلل ، و تعرض لہم العلل و یؤتیٰ علی ایدیہم فی العمد والخطاء فاَعطہم من عفوک و صفحک مثل الذی تحبّ ان یعطیَک اﷲ من عفوہ و صفحہ۔'' (٤٦)

عوام میں دو قسم کے لوگ ہیں یا تو تمہارے دینی بھائی ہیںیا تمہاری جیسی مخلوق جو اقلیتی غیر مسلم ہیں۔

ان سے لغزشیں بھی ہونگی اورخطاؤں سے بھی انہیں سابقہ پڑے گا اور ان کے ہاتھوں سے عمداً یا سہواً غلطیاں بھی ہوں گی تم ان سے اسی طرح عفو و درگذر سے کام لینا جس طرح اﷲ سے اپنے لیے عفو و درگذر کو پسند کرتے ہو۔

اس مکتوب میں حضرت علی علیہ السلام واضح طور پرمسلمان اورغیر مسلمان دونوں کو برابری کا درجہ دیتے ہوئے ایک ہی صف میں کھڑا کرتے ہیں ، اور دونوں کے ساتھ ایک ہی طرح کے تعلق روا رکھنے کی تاکید کرتے ہیں کہ آخر غیر مسلمان بھی تو انسان ہی ہیں وہ جس معاشرے میں رہتے ہیں اسی معاشرے کا حصہ ہیں لہٰذا ان سے تعلق بھی اس طرح کا ہی ہونا چاہیے۔ایک اور مقام پر اپنے ایک گورنر کو جس نے اقلیتوں پر زیادہ سختی کی تھی ارشاد فرماتے ہیں:

''فاِنّ دہاقین اہل بلدک شکوا منک غلظة و قسوة واحتقارا و جفوة و نظرت فلم ارہم اہلا لان یدونوا لشرکہم ولا ان یقصوا و یجفوا لعہدہم فالبس لہم جلبابا من اللین تشوبہ بطرف من الشدّة وداول لہم بین القسوة والّرافة وامزج لہم بین التّقریب والادناء والابعاد والاقصاء ان شاء اﷲ۔'' (٤٧ )

بے شک تمہارے شہر کے کاشتکاروں نے تمہاری سختی ،سنگدلی حقارت آمیز برتاؤ اور ظلم و تشدد کے رویہ کی شکایت کی ہے میں نے اس کی تحقیق کی تو ان کو ان کے شرک کی بنا پر اس لائق بھی نہیں سمجھا کہ انہیں نزدیک کرلیا جائے۔ نہ انہیں دھتکارا جاسکتا ہے اور نہ ہی انہیں لائق ظلم قرار دیا جا سکتا ہے، اس معاہدے کے پیشنظر جو انہوں نے کر رکھا ہے۔۔ لہٰذا ان کے لیے نرمی کا ایسا شعار اختیار کرو جس میں کہیں کہیں سختی کی جھلک ہو۔ قرب و بعد اور دور ی و نزدیکی کو سمو کر درمیانہ راستہ اختیار کروانشاء اﷲ ایسا ہی کروگے۔

اس مکتوب کی وضاحت کرتے ہوئے علامہ مفتی جعفر حسین لکھتے ہیں:۔''یہ لوگ مجوسی تھے اس لیے حضرت کے عامل کا رویہ ان کے ساتھ ویسا نہ تھا جو عام مسلمانوں کے ساتھ تھا جس سے متاثر ہو کر ان لوگوں نے امیرالمؤمنین ـ کو شکایت کا خط لکھا اور اپنے حکمران کے تشدد کا شکوہ کیا جس کے جواب میں حضرت علیہ السلام نے اپنے عامل کو تحریر فرمایا کہ وہ ان سے ایسا برتاؤ کرے کہ جس میں نہ تشدد ہو اور نہ اتنی نرمی کہ وہ اس سے نا جائز فائدہ اٹھا کر شرانگیزی پر اتر آئیں۔'' (٤٨

اس خط میں چند نکتے قابل ذکر ہیں:

(١) امام علیہ السلام نے اس شکایت کا بھر پور اثر لیا اور اس سے لاتعلقی و بے اعتنائی کا اظہارنہیں فرمایا اور یہ بات خود حکومت کے ذمہ دار افراد کے لیے راہ نما ثابت ہو سکتی ہے کہ وہ اپنے شرکائے کارا ور ماتحتوں پر اعتماد رکھنے کی وجہ سے لوگوں کی درخواستوں اور شکایتوں پر کان ہی نہ دھریں اور انہیں خاطر میں نہ لائیں اس طرح وہ عوام کے جذبات و احساسات کی توہین نہ کریں چاہے شکایت کرنے والے آتش پرست ہی کیوں نہ ہوں۔

(٢) اس شکایت کے بعد امام علیہ السلام مسئلہ کا جائزہ لیتے ہیں اورتحقیق فرماتے ہیں اور ان تحقیقات و اطلاعات کی روشنی میں ضروری اقدام فرماتے ہیں۔

(٣) امام علیہ السلام کی ہدایت کے مطابق شکایت کرنے والے چونکہ مشرک ہیں لہٰذا حاکم سے اتنا زیادہ قریب نہ ہونے پائیں کہ نظام حکومت کا اعتبار ہی خطرہ میں پڑ جائے ، لیکن چونکہ '' ذمی '' بھی ہیں اور مسلمانوں سے ایک معاہدہ رکھتے ہیں لہٰذا اسلامی حکومت پر لازم ہے کہ ان کی حمایت کرے اور انہیں ان کے عمومی اور مشترک حقوق دلائے ، منجملہ ان کے کام کی آزادی ،اجتماعی و اخلاقی عزت و وقار کا تحفظ وغیرہ ۔

(٤) اس ہدایت کے مطابق ، اسلامی نظام کے ذمہ دار افراد کو بہت ہی نپا تلا، معتدل اور اخلاقی رویہ اختیار کرنا چاہیے اور امام علیہ السلام کی فرمائش کے پیش نظر نہ لوگوں کو اتنی چھوٹ دے دیں کہ وہ حکومت اور اس کے محترم قوانین کے سلسلہ میں لا پرواہ ہو جائیں اور نہ سب سے اس قدر قطع تعلق کر لیں کہ اس سے عوام بد دل اور نا امید ہو جائیں اور ان دلوں میں حاکم کے لیے بغض اور کینہ پیدا ہو جائے ۔

حجۃ الاسلام عالی جناب مولانا روشن علی صاحب قبلہ


حوالہ جات

١۔ خطبہ نمبر٢١٦۔

٢۔ ایضا ً۔

٣۔ ایضا ً۔

٤۔ ایضا ً۔

٥۔ ایضا ً۔

٦۔ ایضا ً۔

٧۔ نھج البلاغہ (شارح مفتی محمد عبدہ) ، خطبہ نمبر: ٢١٦، جلد نمبر:٢ ، ص١٩٨ تا١٩٩۔

علامہ محمد باقر مجلسی (متوفی): ''بحار الانوار'' ، جلد ٢٧، ص ٢٥١۔٢٥٢۔

٨۔ سورة العصر،آیت ١۔٣۔

٩۔ سورة المائدہ، آیت ٢۔

١٠تا ١٥۔ نہج البلاغہ (شارح مفتی محمد عبدہ) ، خطبہ نمبر: ٢١٦، جلد نمبر:٢ ، ص٢٠٠ تا٢٠١۔

علامہ محمد باقر مجلسی (متوفی): ''بحار الانوار'' ، جلد ٢٧، ص ٢٥٢۔٢٥٣۔

١٦۔ نہج البلاغہ ، مکتوب ٥٠، جلد ٣، ص٧٩، علامہ محمد باقر مجلسی (متوفی): ''بحار الانوار'' ، جلد ٣٣، ص٧٦۔

١٧۔ نہج البلاغہ ،خطبہ:٣٤، جلد١، ص ٨٤، ابراہیم ابن محمد الثقفی (متوفی ٢٨٣ھ)، ''الغارات''، جلد ٢، ص٦٩٢، طبع ثانی

١٨۔ نہج البلاغہ ، مکتوب ٥٠، جلد ٣، ص٧٩، تحفول العقول ، ص ١٢٦

١٩۔ نہج البلاغہ ،خطبہ:٣٤، جلد١، ص ٨٤، ابراہیم ابن محمد الثقفی (متوفی ٢٨٣ھ)''الغارات''، جلد ٢، ص٦٩٢، طبع ثانی۔

٢٠۔ نہج البلاغہ ، مکتوب ٥٣، جلد ٣، ص٨٩تا ٩٠، تحف العقول ، ص ١٣١۔

٢١۔ نہج البلاغہ ، مکتوب ٥٣، جلد ٣، ص ٩٠، تحف العقول ، ص ١٣١۔

٢٢۔ نہج البلاغہ ، مکتوب ٥٣، جلد ٣، ص٩٩ تا ١٠٠، مستدرک الوسائل ، جلد ١٣، ص١٦٧

٢٣۔ نہج البلاغہ ، مکتوب ٥٣، جلد ٣، ص ١٠٠،مستدرک الوسائل ، جلد ١٣،ص ١٦٧ تا ١٦٨۔

٢٤۔ نہج البلاغہ ، مکتوب ٥٣، جلد ٣، ص ١٠٠ تا ١٠١، مستدرک الوسائل ، جلد ١٣،ص ١٦٨۔

٢٥۔ نہج البلاغہ ، مکتوب ٥٣، جلد ٣، ص ١٠١، مستدرک الوسائل ، جلد ١٣،ص ١٦٨۔

٢٦۔ نہج البلاغہ ، مکتوب ٥٣، جلد ٣، ص ١٠١،مستدرک الوسائل ، جلد ١٣،ص ١٦٨۔

٢٧۔ نہج البلاغہ ، مکتوب ٥٣، جلد ٣، ص ١٠١، مستدرک الوسائل ، جلد ١٣،ص ١٦٨۔

٢٨۔ نہج البلاغہ ، مکتوب ٥٣، جلد ٣، ص ٩٥ تا ٩٦۔

٢٩۔ نہج البلاغہ ، مکتوب ٥٣، جلد ٣، ص ٩٦۔

٣٠۔ نہج البلاغہ ، قول ٣٧٤، جلد ٤، ص ٩٠۔

٣١۔ نہج البلاغہ ، خطبہ ١٩٢، جلد ٢، ص١٤٢۔

٣٢۔ نہج البلاغہ ، قول ٣٧٣، جلد ٤، ص٨٩۔

٣٣۔ نہج البلاغہ ، خطبہ ١١٨، جلد ١، ص٢٣١۔

٣٤۔ نہج البلاغہ ، خطبہ ١٨٧، جلد ٢، ص١٢٧۔

٣٥۔ نہج البلاغہ ، خطبہ ١٨٧، جلد ٢، ص١٢٧۔

٣٦۔ نہج البلاغہ ، خطبہ ٥٨، جلد ١، ص١٠٧۔

٣٧۔ نہج البلاغہ خطبہ ١٦٦، جلد نمبر ٢، ص ٧٩۔

٣٨۔ نہج البلاغہ ، خطبہ٣٥ ، جلد نمبر ١ ، ص٨٥۔٨٦۔

٣٩۔ نہج البلاغہ ، خطبہ :٧٩، جلد نمبر:١، ص:١٨٧۔

٤٠۔ نہج البلاغہ ، خطبہ :٢١٢، جلد نمبر:٢، ص:١٩٣۔

٤١۔ نہج البلاغہ ، مکتوب نمبر٥٣ ، جلد نمبر٣، ص١٠٩۔

٤٢۔ نہج البلاغہ ، مکتوب نمبر٢٧ ، جلد نمبر٣، ص٢٧۔

٤٣۔ نہج البلاغہ ، مکتوب نمبر٧٦، جلد نمبر٣، ص١٦٣۔

٤٤۔ نہج البلاغہ ، مکتوب نمبر٥٣ ، جلد نمبر٣، ص١٠٩۔

٤٥۔ نہج البلاغہ ، مکتوب نمبر٥٣ ، جلد نمبر٣، ص٨٦) ابن شعبہ الحرانی ابو محمد الحسن ابن علی ابن الحسین (متوفی٤ھ)، تحف العقول عن آل الرسول ۖ ، الطبع الثانی: ١٤٠٤ھ، موسسة النشر الاسلامی، قم، ایران،ص ١٢٨۔

٤٦۔ نہج البلاغہ ، مکتوب ٥٣ ، جلد نمبر٣، ص٨٦)، ابن شعبہ الحرانی (متوفی ٤ھ)، تحف العقول عن آلالرسول ۖ ، الطبع الثانی: ١٤٠٤ھ، موسسة النشر الاسلامی، قم، ایران،ص ١٢٧۔

٤٧۔ نہج البلاغہ ، مکتوب نمبر١٩ ، جلد نمبر٣، ص١٨۔

٤٨۔ مفتی جعفر حسین، مترجم نہج البلاغہ، ص٦٧٩۔


المراجع و المصادر

(١) القرآن الکریم

(٢) امام علی :نہج البلاغہ، شارح : مفتی محمد عبدہ ، ٤ جلد، ناشر :دار المعرفت بیروت لبنان

(٣) امام علی : نہج البلاغہ(مترجم مفتی جعفر حسین)، امامیہ پبلی کیشنز لاہور

(٤) ابراہیم ابن محمد الثقفی (متوفی ٢٨٣ھ)، ''الغارات''، المطبعة : بہمن

(٥) ابن شعبہ الحرانی ابو محمد الحسن ابن علی ابن الحسین (متوفی ٤ھ)، تحف العقول عن آل الرسول ۖ ، الطبع

الثانی: ١٤٠٤ھ، موسسة النشر الاسلامی، قم، ایران

(٦) ابن شہر آشوب(متوفی ٥٨٨ھ) :''مناقب آل ابی طالب''، مطبعة الحیدریة النجف الشرف۔

(٧) الشیخ الصدوق(٣٨١ھ):''من لا یحضر الفقیہ''،طبع الثانیہ ١٣٠٣ھ ایران۔

(٨) الشیخ محمد یعقوب الکلینی(متوفی ٣٢٩ھ)، طبع الثالث ١٣٦٧ھ، دارالکتب الاسلامیہ، ایران

(٩) عبد الواحد آمدی متوفی(٥٥٠): ''غرر الحکم و دررالکلم'' ، ناشر مکتبة الاعلام الاسلامی قم، سنة ١٣٦٦ھ ش

(١٠) علامہ محمد باقر مجلسی (متوفی ١١١١ھ): ''بحار الانوار'' ، مؤسسة الوفاء بیروت لبنان، طبع ثانی سال

١٤٠٣ھ ش

(١١) میرزا حسین نوری الطبرسی (متوفی: ١٣٢٠ھ)،''مستدرک الوسائل ''، الطبع الثانی : ١٤٠٨ھ

موسسہ آل بیت لاحیاء التراث ، بیروت لبنان۔

 

Add comment


Security code
Refresh