www.Ishraaq.in (The world wide of Islamic philosophy and sciences)

وَأَشۡرَقَتِ ٱلۡأَرۡضُ بِنُورِ رَبِّهَا

(٣)حقوق ادا نہ کرنے کے نقصانات :

جب حکومت اور عوام ایک دوسرے کے حقوق ادا نہیں کریں گے تو اس وقت بہت سے نقصانات ہوجائیں گے جن میں سے بڑا نقصان یہ ہے کہ باہمی اختلافات بڑھ جائیں گے :۔

''وَ اذا غلبت الرّعیّةُ والیھا واجحفَ الوالی برعیّتہ اختلفت ہنالک الکلمة، و ظھرت معالمُ الجور، و کثر الادغالُ فی الدّینِ ، و ترکت محاجُّ السُّننِ، فعملَ بالھوٰی ،و عطّلت الاحکامُ و کثرت عللُ النُّفوسِ ،فلا یستوحشُ لعظیم حقٍّ عطّلَ ، ولا لعظیمٍ باطلٍ فُعلَ ،ہنالک تذلّ الاَبرارُ،و تَعزُّ الاشرار و تعظمُ تبعات اﷲِ عند العبادِ۔''(٦)

اور جب رعیت اپنے حاکم پر مسلط ہو جائے یا حاکم اپنی رعیت پر ظلم ڈھانے لگے تو اس موقعہ پر ہر بات میں اختلاف ہو گا،اور ظلم کے نشانات ابھرآئیں گے،دین میں فسادات بڑھ جائیں گے، شریعت کی راہیں متروک ہو جائیں گی ، خواہشوں پر عمل درآمد ہو گا،شریعت کے احکام ٹھکرا دیئے جائیں گے ، نفسانی بیماریاں بڑھ جائیں گی ، بڑے سے بڑے حق کو ٹھکرادینے سے بھی کوئی نہیں گھبرائے گا،بڑے سے بڑے باطل پر عمل پیرا ہونے سے بھی کوئی نہیں گھبرائے گا ،ایسے موقعے پر نیکوکار ذلیل ہو جائیں گے ، بدکردار باعزت ہو جائیں گے اور بندوں پر اﷲ کی عقوبتیں بڑھ جائیں گی۔

(٤)خراب حالات میں حکومت اور عوام کی ذمہ داری:

اس وقت تمام افراد پر یہ فرض ہے کہ اپنے آپ کو اس بری حالت سے نکالنے کے لیے ایک دوسرے کو ہدایت اور نصیحت کریں:

''فعلیکمُ بالتّناصحِ فی ذالک و حسنِ التعاون علیہ فلیس احد و انِ اشتدّ علی رِضَا اﷲِ حرصہ و طال فی العمل اجتھادہ ببالغٍ حقیقة ما اﷲُ اہلہ من الطّاعةِ لہ ، و لٰکن من واجب حقوق اﷲ علی العبادِ النّصیحةُ بمبلغِ جھدِ ھم و تعاوُن علی اقامة الحقّ بینھم ۔''( ٧

تواس وقت تمہارے لیے ضروری ہے کہ تم اس حق کی ادائیگی میں ایک دوسرے کو سمجھانا بجھانا اور اس وقت ایک دوسرے کی بہترمدد کرتے رہنا ،کیونکہ کوئی بھی شخص اﷲ کی اطاعت و بندگی میں اس حد تک نہیں پہنچ سکتا کہ جس کا وہ اہل ہے ، چاہے وہ اس کی خوشنودیوں کو حاصل کرنے کے لیے کتنا ہی حریص ہو، اور اس کی عملی کوششیں بھی بڑھی چڑھی ہوئی ہوں، پھر بھی اس نے اپنے بندوں پر یہ حق واجب قرار دیا ہے کہ وہ مقدور بھرایک دوسرے کو نصیحت کریں اور اپنے درمیان حق کو قائم کرنے کے لیے ایک دوسرے کی مددکرتے ر ہیں ۔

درحقیقت حضرت علی(ع)کا یہ فرمان قرآن کریم کی سورة العصر کی وضاحت ہے کہ جس میں بھی ارشاد ہے کہ :۔

''وَالْعَصْرِ۔ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍ۔اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ۔وَتَوَاصَوْابِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ۔''(٨)

'' قسم ہے زمانے کی بے شک انسان خسارے میں ہے سوا ان کے جو ایمان لائے اور صالح اعمال انجام دیئے اور ایک دوسرے کو حق اور صبر کی وصیت کرتے رہے ''

پس خسارے سے وہی لوگ بچ سکتے ہیں جو ایمان اور عملِ صالح کے ساتھ ایک دوسرے کو حق پر عمل کرنے کی ہدایت اور نصیحت کرتے رہیں۔ حکومت اور عوام پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ حقوق کو قائم کرنے میں وہ ایک دوسرے کی مدد کریں۔

اسی طرح ایک دوسری آیت قرآن کریم میںیہ بھی ارشاد ہے کہ:۔

'' وَتَعَاوَنُوْا عَلَی الْبِرِّ وَ التَّقْوٰی۔''(٩)

نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو۔

Add comment


Security code
Refresh