www.Ishraaq.in (The world wide of Islamic philosophy and sciences)

وَأَشۡرَقَتِ ٱلۡأَرۡضُ بِنُورِ رَبِّهَا

سارے كے سارے مسلمان ایك ایسے "مصلح" كے انتظار میں زندگی كے رات دن گذارے رھے ھیں جس كی خصوصیات یہ ھیں:۔

۱۔عدل و انصاف كی بنیاد پر عالم بشریت كی قیادت كرنا، ظلم و جور، استبداد و فساد كی بساط ھمیشہ كے لئے تہ كرنا۔
۲۔مساوات و برادری كا پرچار كرنا۔
۳۔ایمان و اخلاق، اخلاص و محبّت كی تعلیم دینا۔
۴۔ایك علمی انقلاب لانا۔
۵۔انسانیت كو ایك حیاتِ جدید سے آگاہ كرانا۔
۶۔ھر قسم كی غلامی كا خاتمہ كرنا۔
اس عظیم مصلح كا اسم مبارك مھدی (عج) ھے، پیغمبر گرامی اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم كی اولاد میں ھے۔
اس كتابچے كی تالیف كا مقصد یہ نہیں ھے كہ گزشتہ خصوصیات پر تفصیلی اور سیر حاصل بحث كی جائے، كیونكہ ھر ایك خصوصیت ایسی ھے جس كے لئے ایك مكمل كتاب كی ضرورت ھے۔
مقصد یہ ھے كہ "انتظار" كے اثرات كو دیكھا جائے اور یہ پھچانا جاسكے كہ صحیح معنوں میں منتظر كون ھے اور صرف زبانی دعویٰ كرنے والے كون ھیں، اسلامی روایات و احادیث جو انتظار كے سلسلے میں وارد ھوئی ھیں، یہ انتظار كو ایك عظیم عبادت كیوں شمار كیا جاتا ھے۔؟
غلط فیصلے
سب سے پہلے یہ سوال سامنے آتا ھے كہ انتطار كا عقیدہ، كیا ایك خالص اسلامی عقیدہ ھے یا یہ عقیدہ شكست خوردہ انسانوں كی فكر كا نتیجہ ھے۔؟ یا یوں كہا جائے كہ اس عقیدہ كا تعلق انسانی فطرت سے ھے، یا یہ عقیدہ انسانوں كے اوپر لادا گیا ھے۔؟
بعض مستشرقین كا اس بات پر اصرار ھے كہ اس عقیدے كا تعلق انسانی فطرت سے نہیں ھے بلكہ یہ عقیدہ شكست خوردہ ذھنیت كی پیداوار ھے۔
بعض مغرب زدہ ذھنیتوں كا نظریہ ھے كہ یہ عقیدہ خالص اسلامی عقیدہ نہیں ھے بلكہ یھودی اور عیسائی طرز فكر سے حاصل كیا گیا ھے۔
مادّہ پرست اشخاص كا كہنا ھے كہ اس عقیدے كی اصل و اساس اقتصادیات سے ھے۔ صرف فقیروں، مجبوروں، ناداروں اور كمزوروں كو بھلانے كے لئے یہ عقیدہ وجود میں لایا گیا ھے۔
حقیقت یہ ھے كہ اس عقیدے كا تعلق انسانی فطرت سے ھے اور یہ ایك خالصِ اسلامی نظریہ ھے، دوسرے نظریات كی وجہ یہ ھے كہ جن لوگوں نے اس عقیدہ كے بارے میں اظھار رائے كیا ھے، اگر ان كو متعصب اور منافع پرست نہ كہا جاسكے تو یہ بات بہر حال مانی ھوئی ھے كہ ان لوگوں كی معلومات اسلامی مسائل كے بارے میں بہت زیادہ محدود ھیں۔ ان محدود معلومات كی بنا پر یہ عقیدہ قائم كرلیا ھے كہ ھم نے سب كچھ سمجھ لیا ھے اور اپنے كو اس بات كا مستحق قرار دے لیتے ھیں كہ اسلامی مسائل كے بارے میں اظھار نظر كریں، اس كا نتیجہ وھی ھوتا ھے جسے آپ ملاحظہ فرما رھے ھیں۔ بدیھی بات ھے كہ محدود معلومات كی بنیادوں پر ایك آخری نظریہ قائم كرلینا كہاں كی عقلمندی ھے، آخری فیصلہ كرنے كا حق صرف اس كو ھے جو مسئلے كے اطراف و جوانب سے باقاعدہ واقف ھو۔
بعض لوگوں كا كہنا ھے كہ ھمیں اس بات سے كوئی سروكار نہیں كہ اس عقیدے كی بنیاد كیا ھے، ھمارا سوال تو صرف یہ ھے كہ اس عقیدے كا فائدہ كیا ھے؟ اور اس كے اثرات كیا ھیں؟
ھم نے جو دیكھا وہ یہ ھے كہ جو لوگ اس عقیدے كو دل سے لگائے ھوئے ھیں وہ ھمیشہ رنج و محن كا شكار ھیں اور ان كی زندگیاں مصائب برداشت كرتے گذرتی ھیں ذمہ داریوں كو قبول كرنے سے بھاگتے ھیں، فساد كے مقابل ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رھتے ھیں اور اس كی سعی و كوشش بھی نہیں كرتے كہ فساد ختم بھی ھوسكتا ھے ظلم كا ڈٹ كر مقابلہ بھی كیا جاسكتا ھے، ایسے عقیدے ركھنے والوں كو ایسی كوئی فكر ھی نہیں۔
اس عقیدے كی بنیاد جو بھی ھو مگر اس كے فوائد و اثرات خوش آیند نہیں ھیں یہ عقیدہ انسان كواورزیادہ كاھل بنا دیتا ھے۔
اگر ایك دانش ور كسی مسئلے میں فیصلہ كرنا چاھتا ھےاور صحیح نظریہ قائم كرنا چاھتا ھے تو اس كے لئے ضروری ھے كہ وہ اس مسئلے كے اطراف و جوانب كا باقاعدہ مطالعہ كرے، اس كے بعد ھی كوئی صحیح نظریہ قائم ھوسكتا ھے۔
آئیے پہلے ھم خود اس مسئلے كے مختلف پہلوؤں پر غور كریں كہ اس عقیدے كی بنیاد كیا ھے؟ كیا واقعاً یہ عقیدہ شكست خوردہ ذھنیت كے افكار كا نتیجہ ھے؟ یا اس كی بنیاد اقتصادیات پر ھے؟ یا پھر اس كا تعلق انسان كی فطرت سے ھے؟ اس عقیدے كے اثرات مفید ھیں یا نقصان رساں؟۔
انتظار اور فطرت
بعض لوگوں كا قول ھے كہ اس عقیدے كی بنیاد فطرت پر نہیں ھے بلكہ انسان كے افكار پریشاں كا نتیجہ ھے اس كے باوجود اس عقیدے كی اصل و اساس انسانی فطرت ھے، اس نظریے كی تعمیر فطرت كی بنیادوں پر ھوئی ھے۔
انسان دو راستوں سے اس عقیدے تك پہونچتا ھے۔ ایك اس كی اپنی فطرت ھے اور دوسرے اس كی عقل۔ فطرت و عقل دونوں ھی انسان كو اس نظریے كی دعوت دیتے ھیں۔
انسان فطری طور پر كمال كا خواھاں ھے، جس طرح سے فطری طور پر اس میں یہ صلاحیت پائی جاتی ھے كہ وہ جن چیزوں كو نہیں جانتا ان كے بارے میں معلومات حاصل كرے، اسی طرح وہ فطری طور پر اچھائیوں كو پسند كرتا ھے اور نیكی كو پسند كرتا ھے۔
بالكل اسی طرح سے انسان میں كمال حاصل كرنے كا جذبہ بھی پایا جاتا ھے۔ یہ وہ جذبہ ھے جو زندگی كے تمام شعبوں پر حاوی ھے، اسی جذبے كے تحت انسان اس بات كی كوشش كرتا ھے كہ وہ زیادہ سے زیادہ علم حاصل كرسكے كیونكہ وہ جتنا زیادہ علم حاصل كرے گا اتنا ھی زیادہ اس میں كمال نمایاں ھوگا۔ اسی جذبے كے تحت اس كی یہ خواھش ھوتی ھے كہ لوگوں كے ساتھ زیادہ سے زیادہ نیكی كرے، انسان فطری طور پر نیك طینت اور نیك اشخاص كو پسند كرتا ھے۔
كوئی بھی یہ نہیں كہہ سكتا كہ یہ تقاضے ایك شكست خوردہ ذھنیت كا نتیجہ ھیں، یا ان كی بنیاد اقتصادیات پر ھے، یا ان كا تعلق وراثت اور ترتیب وغیرہ سے ھے ھاں یہ ضرور ھے كہ وراثت اور ترتیب ان تقاضوں میں قوت یا ضعف ضرور پیدا كرسكتی ھیں لیكن ان جذبات كو ختم كردینا ان كے بس میں نہیں ھے كیونكہ ان كا وجود ان كا مرھونِ منّت نہیں ھے۔ ان تقاضوں كے فطری ھونے كی ایك دلیل یہ بھی ھے كہ تاریخ كے ھر دور اور ھر قوم میں یہ تقاضے پائے جاتے ھیں كیونكہ اگر یہ تقاضے فطری نہ ھوتے تو كہیں پائے جاتے اور كہیں نہ پائے جاتے۔ انسانی عادتوں كا معاملہ اس كے برعكس ھے كہ ایك قوم كی عادت دوسری قوم میں نہیں پائی جاتی، یا ایك چیز جو ایك قوم میں عزّت كی دلیل ھے وھی دوسری قوم میں ذلّت كا باعث قرار پاتی ھے۔
كمال، علم و دانش، اچھائی اور نیكی سے انسان كا لگاؤ ایك فطری لگاؤ ھے جو ھمیشہ سے انسانی وجود میں پایا جاتا ھے، دنیا كی تمام اقوام اور تمام ادوار تاریخ میں ان كا وجود ملتا ھے۔ عظیم مصلح كا انتظار انھیں جذبات كی معراجِ ارتقاء ھے۔
یہ كیوں كر ممكن ھے كہ انسان میں یہ جذبات تو پائے جائیں مگر اس كے دل میں انتظار كے لئے كوئی كشش نہ ھو، انسانیت و بشریت كا قافلہ اس وقت تك كمالات كے ساحل سے ھم كنار نہیں ھوسكتا جب تك كسی ایسے مصلح بزرگ كا وجود نہ ھو۔
اب یہ بات بھی واضح ھوجاتی ھے كہ یہ عقیدہ شكست خوردہ ذھنیت كا نتیجہ نہیں ھے بلكہ انسانی ضمیر كی آواز ھے اس كا تعلق انسان كی فطرت سے ھے۔
ھم یہ دیكھتے ھیں كہ انسانی بدن كا ھر حصہ انسان كے جسمی كمالات پر اثر انداز ھوتا ھے ھمیں كوئی ایسا عضو نہیں ملے گا جو اس كی غرض كے پورا كرنے میں شریك نہ ھو، ھر عضو اپنی جگہ انسانی كمالات كے حاصل كرنے میں كوشاں ھے۔ اسی طرح روحی اور معنوی كمالات كے سلسلے میں روحانی خصوصیات اس مقصد كے پورا كرنے میں برابر كے شریك ھیں۔
انسان خطرناك چیزوں سے خوف كھاتا ھے یہ روحانی خصوصیت انسان كے وجود كو ھلاكت سے بچاتی ھے اور انسان كے لئے ایك سپر ھے حوادث كا مقابلہ كرنے كے لئےغصہ انسان میں دفاعی قوت كو بڑھا دیتا ھے، تمام طاقتیں سمٹ كو ایك مركز پر جمع ھوجاتی ھیں جس كی بناء پر انسان چیزوں كو تباہ ھونے سے بچا تا ھے اور فائدہ كو تباہ ھونے سے محفوظ ركھتا ھے، دشمنوں پر غلبہ حاصل كرتا ھے۔
اسی طرح سے انسان میں روحی اور معنوی طور پر كمال حاصل كرنے كا جذبہ پایا جاتا ھے، انسان فطری طور پر عدل و انصاف، مساوات اور برادری كا خواھاں ھے، یہ وہ جذبات ھیں جو كمالات كی طرف انسان كی رھبری كرتے ھیں۔ انسان میں ایك ایسا ولولہ پیدا كردیتے ھیں، جس كی بناء پر وہ ھمیشہ روحانی و معنوی مدارج ارتقاء كو طے كرنے كی فكر میں رھتا ھے، اس كے دل میں یہ آرزو پیدا ھوجاتی ھے كہ وہ دن جلد آئے جب ساری دنیا عدل و انصاف مساوات و برادری، صدق و صفا، صلح و مروت سے بھر جائے ظلم و جور كی بساط اس دنیا سے اٹھ جائے اور ستم و استبداد رختِ سفر باندھ لے۔
یہ بات بھی سب كو معلوم ھے كہ انسان كا وجود اس كائنات سے الگ نہیں ھے بلكہ اسی نظام كائنات كا ایك حصہ ھے، یہ ساری كائنات انسان سمیت ایك مكمل مجموعہ ھے جس میں زمین ایك جزو آفتاب و ماھتاب ایك جزء اور انسان ایك جزء ھے۔
چونكہ ساری كائنات میں ایك نظام كار فرما ھے لھٰذا اگر انسانی وجود میں كوئی جذبہ پایا جاتا ھے تو یہ اس بات كی دلیل ھے كہ اس جذبے كا جواب خارجی دنیا میں ضرور پایا جاتا ھے۔
اسی بناء پر جب ھمیں پیاس لگتی ھے تو ھم خود بخود پانی كی تلاش میں نكل پڑتے ھیں اسی جذبے كے تحت ھمیں اس بات كا یقین ھے كہ جہاں جہاں پیاس كا وجود ھے وھاں خارجی دنیا میں پیاس كا وجود ضرور ھوگا۔ اگر پانی كا وجود نہ ھوتا تو ھرگز پیاس نہ لگتی۔ اگر ھم اپنی كوتاھیوں كی بناء پر پانی تلاش نہ كرپائیں تو یہ اس بات كی ھرگز دلیل نہ ھوگی كہ پانی كا وجود نہیں ھے، پانی كا وجود ھے البتہ ھماری سعی و كوشش ناقص ھے۔
اگر انسان میں فطری طور پر علم حاصل كرنے كا جذبہ پایا جاتا ھے تو ضرور خارج میں اس شے كا وجود ھوگا جس كا علم انسان بعد میں حاصل كرے گا۔
اسی بنیاد پر اگر انسان ایك ایسے عظیم مصلح كے انتظار میں زندگی بسر كر رھا ھے جو دنیا كے گوشے گوشے كو عدل و انصاف سے بھر دے گا۔ چپہ چپہ نیكیوں كا مرقع بن جائے گا، تو یہ بات واضح ھے كہ انسانی وجود میں یہ صلاحیت پائی جاتی ھے، یہ انسانی سماج ترقی اور تمدن كی اس منزلِ كمال تك پہونچ سكتا ھے تبھی تو ایسے عالمی مصلح كا انتظار انسان كی جان و روح میں شامل ھے۔
عالمی مصلح كے انتظار كا عقیدہ صرف مسلمانوں كے ایك گروہ سے مخصوص نہیں ھے بلكہ سارے مسلمانوں كا یہی عقیدہ ھے۔ اور صرف مسلمانوں ھی تك یہ عقیدہ منحصر نہیں ھے بلكہ دنیا كے دیگر مذاھب میں بھی یہ عقیدہ پایا جاتا ھے۔
اس عقیدے كی عمومیت خود اس بات كی دلیل ھے كہ یہ عقیدہ شكست خوردہ ذھنیت كا نتیجہ نہیں ھے اور نہ ھی اقتصادیات كی پیداوار ھے كیونكہ جو چیزیں چند خاص شرائط كے تحت وجود میں آتی ھیں ان میں اتنی عمومیت نہیں پائی جاتی۔ ھاں صرف فطری مسائل ایسی عمومیت كے حامل ھوتے ھیں كہ ھر قوم و ملّت اور ھر جگہ پائے جائیں۔ اسی طرح سے عیقدے كی عمومیت اس بات كی زندہ دلیل ھے كہ اس عقیدے كا تعلق انسان كی فطرت سے ھے۔ انسان فطری طور پر ایك عالمی مصلح كے وجود كا احساس كرتا ھے جب اس كا ظھور ھوگا تو دنیا عدل و انصاف كا مرقع ھوجائے گی۔


عالمی مصلح اور اسلامی روایات
ایك ایسی عالمی حكومت كا انتظار جو ساری دنیا میں امن و امان برقرار كرے، انسان كو عدل و انصاف كا دلدادہ بنائے، یہ كسی شكست خوردہ ذھنیت كی ایجاد نہیں ھے، بلكہ انسان فطری طور پر ایسی عالمی حكومت كا احساس كرتا ھے۔ یہ انتظار ضمیر انسانی كی آواز ھے ایك پاكیزہ فطرت كی آرزو ھے۔
بعض لوگوں كا نظریہ ھے كہ یہ عقیدہ ایك خالص اسلامی عقیدہ نہیں ھے بلكہ دوسرے مذاھب سے اس كو اخذ كیا گیا ھے، یا یوں كہا جائے كہ دوسروں نے اس عقیدے كو اسلامی عقائد میں شامل كردیا ھے۔ ان لوگوں كا قول ھے كہ اس عقیدے كی كوئی اصل و اساس نہیں ھے۔ دیكھنا یہ ھے كہ یہ فكر واقعاً ایك غیر اسلامی فكر ھے جو رفتہ رفتہ اسلامی فكر بن گئی ھے؟ یا در اصل یہ ایك خالص اسلامی فكر ھے۔
اس سوال كا جواب كس سے طلب كیا جائے۔ آیا ان مستشرقین سے اس كا جواب طلب كیا جائے جن كی معلومات اسلامیات كے بارے میں نہایت مختصر اور محدود ھیں۔ یہیں سے مصیبت كا آغاز ھوتا ھے كہ ھم دوسروں سے اسلام كے بارے میں معلومات حاصل كریں۔ یہ بالكل ایسا ھی ھے جیسے كوئی شخص اس آدمی سے پانی طلب نہ كرے جو دریا كے كنارے ھے بلكہ ایك ایسے شخص سے پانی طلب كرے جو دریا سے كوسوں دُور ھے۔
یہ بات بھی درست نہیں ھے كہ مستشرقین كی باتوں كو بالكل كفر و الحاد تصور كیا جائے اور ان كی كوئی بات مانی ھی نہ جائے، بلكہ مقصد صرف یہ ھے كہ "اسلام شناسی" كے بارے میں ان كے افكار كو معیار اور حرفِ آخر تصور نہ كیا جائے۔ اگر ھم تكنیكی مسائل میں علمائے غرب كا سہارا لیتے ھیں تو اس كا مطلب یہ تو نہیں كہ ھم اسلامی مسائل كے بارے میں بھی ان كے سامنے دستِ سوال دراز كریں۔
ھم علمائے غرب كے افكار كو اسلامیات كے بارے میں معیار اس لیے قرار نہیں دے سكتے كہ ایك تو ان كی معلومات اسلامی مسائل كے بارے میں نہایت مختصر اور محدود ھے، جس كی بنا پر ایك صحیح نظریہ قائم كرنے سے قاصر ھیں۔ دوسری وجہ یہ ھے كہ یہ لوگ تمام اسلامی اصول كو مادی اصولوں كی بنیاد پر پركھنا چاھتے ھیں، ھر چیز میں مادی فائدہ تلاش كرتے ھیں۔ بدیہی بات ھے كہ اگر تمام اسلامی مسائل كو مادیت كی عینك لگا كر دیكھا جائے تو ایسی صورت میں اسلامی مسائل كی حقیقت كیا سمجھ میں آئے گی۔
اسلامی روایات كا مطالعہ كرنے كے بعد یہ بات واضح ھوجاتی ھے كہ "انتظار" كا شمار ان مسائل میں ھے جن كی تعلیم خود پیغمبر اسلام (ص) نے فرمائی ھے۔
حضرت امام مہدی علیہ السلام كی انقلابی مہم كے سلسلے میں روایات اتنی كثرت سے وارد ھوئی ھیں كہ كوئی بھی انصاف پسند صاحبِ تحقیق ان كے "تواتر" سے انكار نہیں كرسكتا ھے۔ شیعہ اور سُنّی دونوں فرقوں كے علماء نے اس سلسلے میں متعدد كتابیں لكھی ھیں اور سب ھی نے ان روایات كے "متواتر" ھونے كا اقرار كیا ھے۔ ھاں صرف "ابن خلدون" اور "احمد امین مصری" نے ان روایات كے سلسلے میں شك و شبہ كا اظھار كیا ھے۔ ان كی تشویش كا سبب روایات نہیں ھیں بلكہ ان كا خیال ھے كہ یہ ایسا مسئلہ ھے جسے اتنی آسانی سے قبول نہیں كیا جاسكتا ھے۔
اس سلسلہ میں اس سوال و جواب كا ذكر مناسب ھوگا جو آج سے چند سال قبل ایك افریقی مسلمان نے مكہ معظمہ میں جو عالمی ادارہ ھے، اس سے كیا تھا۔ یہ بات یاد رھے كہ یہ ارادہ وھابیوں كا ھے اور انھیں كے افكار و نظریات كی ترجمانی كرتا ھے۔ سب كو یہ بات معلوم ھے كہ وھابی اسلام كے بارے میں كس قدر سخت ھیں، اگر یہ لوگ كسی بات كو تسلیم كرلیں تو اس سے اندازہ ھوگا كہ یہ مسئلہ كس قدر اھمیت كا حامل ھے اس میں شبہ كی كوئی گنجائش نہیں ھے۔ اس جواب سے یہ بات بالكل واضح ھوجاتی ھے كہ حضرت امام مہدی (ع) كا انتظار ایك ایسا مسئلہ ھے جس پر دنیا كے تمام لوگ متفق ھیں، اور كسی كو بھی اس سے انكار نہیں ھے۔ وھابیوں كا اس مسئلہ كو قبول كرلینا اس بات كی زندہ دلیل ھے كہ اس سلسلہ میں جو روایات وارد ھوئی ھیں ان میں كسی قسم كے شك و شبہ كی گنجائش نہیں ھے۔ ذیل میں سوال اور جواب پیش كیا جاتا ھے۔
حضرت امام مہدی (عج) كے ظھور پر زندہ دلیلیں
چند سال قبل كینیا (افریقہ) كے ایك باشندے بنام "ابو محمد" نے "ادارہ رابطہ عالم اسلامی" سے حضرت مہدی (ع) كے ظھور كے بارے میں سوال كیا تھا۔
اس ادارے كے جنرل سكریٹری "جناب محمد صالح اتغزاز" نے جو جواب ارسال كیا، اس میں اس بات كی باقاعدہ تصریح كی ھے كہ وھابی فرقے كے بانی "ابن تیمیہ" نے بھی ان روایات كو قبول كیا ھے جو حضرت امام مھدی علیہ السلام كے بارے میں وارد ھوئی ھیں۔ اس جواب كے ذیل میں سكریٹری موصوف نے وہ كتابچہ بھی ارسال كیا ھے جسے پانچ جید علمائے كرام نے مل كر تحریر كیا ھے۔ اس كتابچے كے اقتباسات قارئین محترم كی خدمت میں پیش كئے جاتے ھیں: ۔۔۔۔
"عظیم مصلح كا اسم مبارك مھدی (ع) ھے۔ آپ كے والد كا نام "عبد اللہ" ھے اور آپ مكّہ سے ظھور فرمائیں گے۔ ظھور كے وقت ساری دنیا ظلم و جور و فساد سے بھری ھوگی۔ ھر طرف ضلالت و گمراھی كی آندھیاں چل رھی ھوں گی۔ حضرت مہدی (ع) كے ذریعہ خداوندعالم دنیا كو عدل و انصاف سے بھر دے گا، ظلم و جور و ستم كانشان تك بھی نہ ھوگا۔"
"رسول گرامی اسلام (ص) كے بارہ جانشینوں میں سے وہ آخری جانشین ھوں گے، اس كی خبر خود پیغمبر اسلام (ص) دے گئے ھیں، حدیث كی معتبر كتابوں میں اس قسم كی روایات كا ذكر باقاعدہ موجود ھے۔"
حضرت مہدی (ع) كے بارے میں جو روایات وارد ھوئی ھیں خود صحابۂ كرام نے ان كو نقل فرمایا ھے ان میں سے بعض كے نام یہ ھیں:۔
(۱)علی ابن ابی طالب (ع)، (۲) عثمان بن عفان، (۳) طلحہ بن عبیدہ، (۴) عبد الرحمٰن بن عوف، (۵) عبد اللہ بن عباس، (۶) عمار یاسر، (۷) عبد اللہ بن مسعود، (۸) ابوسعید خدری، (۹) ثوبان، (۱۰) قرہ ابن اساس مزنی، (۱۱) عبد اللہ ابن حارث، (۱۲) ابوھریرہ، (۱۳) حذیفہ بن یمان، (۱۴) جابر ابن عبد اللہ (۱۵) ابو امامہ، (۱۶) جابر ابن ماجد، (۱۷) عبد اللہ بن عمر (۱۸) انس بن مالك، (۱۹) عمران بن حصین، (۲۰) ام سلمہ۔
پیغمبر اسلام (ص) كی روایات كے علاوہ خود صحابہ كرام كے فرمودات میں ایسی باتیں ملتی ھیں جن میں حضرت مہدی (ع) كے ظھور كو باقاعدہ ذكر كیا گیا ھے۔ یہ ایسا مسئلہ ھے جس میں اجتہاد وغیرہ كا گذر نہیں ھے جس كی بناء پر بڑے اعتماد سے یہ بات كہی جاسكتی ھے كہ یہ تمام باتیں خود پیغمبر اسلام (ص) كی روایات سے اخذ كی گئی ھیں۔ ان تمام باتوں كو علمائے حدیث نے اپنی معتبر كتابوں میں ذكر كیا ھے جیسے:۔
سنن ابی داؤد، سنن ترمذی، ابن ماجہ، سنن ابن عمر والدانی، مسند احمد، مسند ابن یعلی، مسند بزاز، صحیح حاكم، معاجم طبرانی (كبیر و متوسط)، معجم رویانی، معجم دار قطنی، ابو نعیم كی "اخبار المھدی"۔ تاریخ بغداد، تاریخ ابن عساكر، اور دوسری معتبر كتابیں۔
علمائے اسلام نے حضرت مھدی (ع) كے موضوع پر مستقل كتابیں تحریر كی ھیں جن میں سے بعض كے نام یہ ھیں:
اخبار المھدی؛ تالیف: ابو نعیم القول المختصر فی علامات المھدی المنتظر؛ تالیف: ابن ھجر ھیثمی التوضیح فی تواتر ماجاء فی المنتظر والد جال والمسیح؛ تالیف: شوكانی المھدی؛ تالیف: ادریس عراقی مغربی الوھم المكنون فی الرد علی ابن خلدون؛ تالیف: ابو العباس بن عبد المومن المغربی مدینہ یونییورسٹی كے وائس چانسلر نے یونیورسٹی كے ماھنامہ میں اس موضوع پر تفصیل سے بحث كی ھے، ھر دور كے علماء نے اس بات كی باقاعدہ تصریح كی ھے كہ وہ حدیثیں جو حضرت مھدی (ع) كے بارے میں وارد ھوئی ھیں وہ متواتر ھیں جنھیں كسی بھی صورت سے جھٹلایا نہیں جاسكتا۔ جن علماء نے حدیثوں كے متواتر ھونے كا دعویٰ كیا ھے ان كے نام اور كتابوں كے نام حسب ذیل ھیں، جن میں تواتر كا ذكر كیا گیا ھے:۔
۱۔ السخاوی اپنی كتاب فتح المغیث میں۔
۲۔محمد بن السنادینی اپنی كتاب شرح العقیدہ میں۔
۳۔ ابو الحسن الابری اپنی كتاب مناقب الشافعی میں۔
۴۔ ابن تیمیہ اپنے فتوؤں میں۔
۵۔ سیوطی اپنی كتاب الحاوی میں۔
۶۔ ادریس عراقی مغربی اپنی كتاب المھدی میں۔
۷۔ شوكانی اپنی كتاب التوضیح فی تواتر ماجاء میں۔
۸۔ شوكانی اپنی كتاب فی المنتظر والدجال والمسیح میں۔
۹۔ محمد جعفر كنانی اپنی كتاب نظم المتناثر میں۔
۱۰۔ ابو العباس عبد المومن المغربی اپنی كتاب الوھم المكنون میں۔
ھاں ابن خلدون نے ضرور اس بات كی كوشش كی ھے كہ ان متواتر اور ناقابل انكار حدیثوں كو ایك جعلی اور بے بنیاد حدیث لا مھدی الا عیسیٰ (حضرت عیسیٰ كے علاوہ اور كوئی مھدی نہیں ھے) كے ھم پلّہ قرار دے كر ان حدیثوں سے انكار كیا جائے۔ لیكن علمائے اسلام نے اس مسئلہ میں ابن خلدون كے نظریے كی باقاعدہ تردید كی ھے خصوصاً ابن عبد المومن نے تو اس موضوع پر ایك مستقل كتاب الوھم المكنون تحریر كی ھے۔ یہ كتاب تقریباً ۳۰برس قبل مشرق اور مغرب میں شائع ھوچكی ھے۔
حافظان حدیث اور دیگر علمائے كرام نے بھی ان حدیثوں كے متواتر ھونے كی صراحت فرمائی ھے۔
ان تمام باتوں كی بنا پر ھر مسلمان پر واجب ھے كہ وہ حضرت مھدی كے ظھور پر ایمان و عقیدہ ركھے۔ اھل سنت والجماعت كا بھی یہی عقیدہ ھے اور ان كے عقائد میں سے ایك ھے۔
ھاں وہ اشخاص تو ضرور اس عقیدے سے انكار كرسكتے ھیں جو روایات سے بے خبر ھیں، یادین میں بدعت كو رواج دینا چاھتے ھیں، (ورنہ ایك ذی علم اور دیندار كبھی بھی اس عقیدے سے انكار نہیں كرسكتا۔سكریٹری انجمن فقۂ اسلامی،محمد منتصر كنانی)۔
اس جواب كی روشنی میں یہ بات كس قدر واضح ھوجاتی ھے كہ حضرت مھدی (ع) كے ظھور كا عقیدہ صرف ایك خالص اسلامی عقیدہ ھے كسی بھی دوسرے مذھب سے یہ عقیدہ اخذ نہیں كیا گیا ھے۔
ایك بات ضرور قابل ذكر ھے وہ یہ كہ اس جواب میں حضرت امام مھدی (ع) كے والد بزرگوار كا اسمِ مبارك عبد اللہ ذكر كیا گیا ھے۔ جب كہ اھل بیت علیہم السلام سے جو روایات وارد ھوئی ھیں۔ ان میں بطور یقین حضرت كے والد بزرگوار كا اسم مبارك حضرت امام حسن عسكری علیہ السلام ھے۔
اس شبہ كی وجہ وہ روایت ھے جس كے الفاظ یہ ھیں "اسم ابیہ اسم ابی" (ان كے والد كا نام میرے والد كا نام ھے) جبكہ بعض دوسری روایات میں ابی (میرے والد) كے بجائے ابنی (میرا فرزند) ھے، صرف نون كا نقطہ حذف ھوجانے یا كاتب كی غلطی سے یہ اختلاف پیدا ھوگیا ھے۔ اسی بات كو "گنجی شافعی" نے اپنی كتاب "البیان فی اخبار صاحب الزمان" میں ذكر كیا ھے، اس كے علاوہ
۱۔ یہ جملہ اھل سنت كی اكثر روایات میں موجود نہیں ھے
۲۔ ابن ابی لیلیٰ كی روایت كے الفاظ یہ ھیں: اسمہ اسمی اسم ابیہ اسم ابنی۔ (اس كا نام میرا نام ھے، اس كے والد كا نام میرے فرزند كا نام ھے) فرزند سے مراد حضرت امام حسن علیہ السلام ھیں۔
۳۔اھل سنت كی بعض روایات میں اس بات كی تصریح كی گئی ھے كہ امام زمانہ كے والد بزرگوار كا نام حسن ھے۔
۴۔ اھلبیت علیہم السلام سے جو روایات وارد ھوئی ھیں جو تواتر كی حد كو پہونچتی ھیں ان میں صراحت كے ساتھ یہ بات ذكر كی گئی ھے كہ حضرت امام مھدی علیہ السلام كے والد بزرگوار كا اسم مبارك حسن ھے۔


انتظار كے اثرات
گذشتہ بیانات سے یہ بات روشن ھوگئی كہ عظیم مصلح كا انتظار ایك فطری تقاضہ ھے اور انسان دیرینہ آرزو كی تكمیل ھے۔ یہ عقیدہ ایك خالص اسلامی عقیدہ ھے یہ عقیدہ صرف فرقہ شیعہ سے مخصوص نہیں ھے بلكہ اسلام كے تمام فرقے اس میں برابر كے شریك ھیں۔ اس سلسلے میں جو روایات وارد ھوئی ھیں وہ "تواتر" كی حد تك پہونچی ھوئی ھیں۔ (۱)
ھاں وہ حضرات جن كی معلومات كا دائرہ محدود ھے اور ھر بات كو مادیت اور اقتصادیات كی عینك لگاكر دیكھنا چاھتے ھیں، یہ حضرات ضرور یہ بات كہہ سكتے ھیں كہ یہ ایك اسلامی عقیدہ نہیں ھے، یا یہ طرز فكر ایك شكست خوردہ ذھنیت كا نتیجہ ھے۔
ایك بات باقی رہ جاتی ھے۔ وہ یہ كہ اگر قبول بھی كرلیا جائے كہ یہ عقیدہ ایك خالص اسلامی عقیدہ ھے اور خالص اسلام كے انداز فكر كا نتیجہ ھے مگر اس عقیدے كا فائدہ كیا ھے، عظیم مصلح كے انتظار میں زندگی بسر كرنے سے انسان كی زندگی پر كیا اثرات رونما ھوتے ھیں۔۔؟ انسان كے طرز فكر میں كون سی تبدیلی واقع ھوتی ھے۔؟
یہ عقیدہ انسان كو ایك ذمہ دار شخص بناتا ھے یا لا اُبالی؟
یہ عقیدہ انسان میں ایك جوش پیدا كرتا ھے یا اس كے احساسات پر مایوسی كی اوس ڈال دیتا ھے۔؟
انسانی زندگی كو ایك نیا ساز عطا كرتا ھے یا اس كی زندگی كو بے كیف بنا دیتا ھے۔؟
یہ عقیدہ انسان كو ایك ایسی قوت عطا كرتا ھے جس سے وہ مشكلات كا ڈٹ كر مقابلہ كر سكے یا انسان كو ضعیف و كمزور بنا دیتا ھے۔؟
یہ بات بھی توجہ كے قابل ھے كہ ذوق اور سلیقے كے مختلف ھونے كی بنا پر ھوسكتا ھے كہ ایك ھی چیز سے دو مختلف نتیجے اخذ كئے جائیں۔ ایك آدمی ایسے نتائج برآمد كرلے جو واقعاً مفید اور كار آمد ھوں اور دوسرا آدمی اسی چیز سے ایسے نتائج اخذ كرے جو بے كار اور مضر ھوں۔ ایٹمی توانائی كو انسان ان چیزوں میں بھی استعمال كرسكتا ھے جو حیات انسانی كے لئے مفید اور ضروری ھیں اور اسی ایٹمی توانائی كو انسانیت كی ھلاكت كے لئے بھی استعمال كرسكتا ھے بلكہ كررھا ھے۔
یھی حال ان رواتیوں كا ھے جو انتظار كے سلسلے میں وارد ھوئی ھیں جن میں سے بعض بے خبر یا خود غرض لوگوں نے ایسے نتائج اخذ كئے ھیں جس كی بنا پر اعتراضات كی ایك دیوار قائم ھوگئی۔
انتظار كے اثرات بیان كرنے سے پہلے قارئین كی خدمت میں چند روایتیں پیش كرتے ھیں جن سے انتظار كی اھمیت كا اندازہ ھوجائے گا۔ بعد میں انھیں روایات كو اساس و بنیاد قرار دیتے ھوئے فلسفۂ انتظار كے بارے میں كچھ عرض كریں گے۔ ان روایات كا ذرا غور سے مطالعہ كیجئے تاكہ آئندہ مطالب آسان ھوجائیں۔
۱۔ایك شخص نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے سوال كیا۔ وہ شخص جو ائمہ كی ولایت كا قائل ھے اور حكومت حق كا انتظار كر رھا ھے ایسے شخص كا مرتبہ اور مقام كیا ھے۔؟
امام علیہ السلام نے ارشاد فرمایا ھے: "ھو بمنزلۃ من كان مع القائم فی فسطاطہ۔" ( وہ اس شخص كے مانند ھے جو امام كے ساتھ اس ان كے خیمے میں ھو)۔
امام نے تھوڑی دیر سكوت كے بعد پھرمایا:۔ "ھو كمن كان مع رسول اللہ"۔ وہ اس شخص كے مانند ھے جو رسول اللہ كے ھمراہ (جنگ میں) شریك رھا ھو۔ (۲)
اسی مضمون كی متعدد روایتیں ائمہ علیہم السلام سے نقل ھوئی ھیں۔
۲۔بعض روایات میں ھے: "بمنزلۃ الضارب بسیفہ فی سبیل اللہ۔" اس شخص كے ھم رتبہ ھے جو راہ خدا میں شمشیر چلا رھا ھو۔ (۳)
۳۔بعض روایات میں یہ جملہ ملتا ھے: :كمن قارع معہ بسیفہ۔" (۴) اس شخص كے مانند ھے جو رسول خدا (ص) كے ھمراہ دشمن كے سرپر تلوار لگا رھا ھو۔
۴۔بعض میں یہ جملہ ملتا ھے: "بمنزلۃ من كان قاعداً تحت لوائہ۔" اس شخص كے مانند ھے جو حضرت مھدی علیہ السلام كے پرچم تلے ھو۔ (۵)
۵۔بعض روایات میں یہ جملہ ملتا ھے:۔ "بمنزلۃ مجاھدین بین یدی رسول اللہ۔" اس شخص كے مانند ھے جو پیغمبر اسلام (ص) كے سامنے راہ خدا میں جہاد كر رھا ھو۔ (۶)
۶۔بعض دوسری روایتوں میں ھے:۔ "بمنزلۃ من استشھد مع رسول اللہ" اس شخص كے مانند ھے جو خود پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم كے ھمراہ درجۂ شھادت پر فائز ھوا ھو۔ (۷)
ان روایتوں میں جو سات قسم كی تشبیہات كی گئی ھیں ان میں غور وفكر كرنے سے انتظار كی اھمیت كا باقاعدہ انداز ھوجاتا ھے اور یہ بات بھی واضح ھوجاتی ھے كہ انتظار اور جہاد میں كس قدر ربط ھے۔ انتظار اور شھادت میں كتنا گہرا تعلق ھے۔
بعض دوسری روایتوں میں ملتا ھے كہ "انتظار كرنا بہت بڑی عبادت ھے۔" اس مضمون كی روایتیں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام سے نقل ھوئی ھیں۔ جیسا كہ پیغمبر اسلام (ص) كی ایك حدیث كے الفاظ ھیں: آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "افضل اعمال امتی انتظار الفرج من اللہ عزوجل"۔ (۸)
ایك دوسری روایت میں آں حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منقول ھے: "افضل العبادة انتظار الفرج۔" (۹)
یہ تمام روایتیں اس بات كی گواہ ھیں كہ انتظار اور جھاد میں كتنا گہرا لگاؤ ھے۔ اس لگاؤ اور تعلق كا فلسفہ كیا ھے، ا سكے لئے ذرا صبر سے كام لیں۔


انتظار كا مفھوم
انتظار اس حالت كو كہتے ھیں جب انسان اپنی موجودہ حالت سے كبیدہ خاطر ھو اور ایك تابناك مستقبل كی تلاش میں ھو، جیسے ایك مریض جو اپنے مرض سے عاجز آچكا ھو صحت و سلامتی كی امید میں رات دن كوشاں ھے، ایك تاجر جو كساد بازاری سے پریشان ھواس كی ساری تجارت ٹھپ ھو كر رہ گئی ھو، وہ اس انتظار میں ھے كہ كس طرح یہ كساد بازاری ختم ھو اور اس كی تجارت كو فروغ حاصل ھو، اسی امید میں وہ ھمیشہ سعی و كو شش كرتا رھتا ھے۔
انتظار كے دو پہلو ھیں، اور دونوں پہلو غور طلب ھیں:
۱۔منفی: انسان كا اپنی موجودہ حالت سے كبیدہ خا طر ھونا۔
۲۔مثبت: تابناك مستقبل كے لئے كو شاں رھنا۔
جب تك انسان كی ذات میں یہ دونوں پہلو نہ پائے جاتے ھوں، اس وقت تك اسے یہ كہنے كا حق نہیں ھے كہ وہ كسی كا منتظر ھے۔ كیونكہ جو شخص موجودہ حالت پر راضی و خوشنود ھوگا اسے مستقبل كے بارے میں كیا فكر ھوسكتی ھے اور اگر وہ موجودہ حالت سے تو راضی نہیں ھے مگر اسے مستقبل كی بھی كوئی فكر نہیں ھے تو ایسی صورت میں یہ شخص كس چیز كا انتظار كرے گا۔
جس قدریہ دونوں پہلو انسانی وجود میں جڑ پكڑتے جائیں گے اسی اعتبار سے اس كی عملی زندگی میں فرق پڑتا جائے گا، كیونكہ جو بات دل كی گہرائیوں میں اتر جاتی ھے اعضاء و جوارح اپنے عمل سے اس كا اظھار ضرور كرتے ھیں۔
انتظار كے دونوں پہلو انسان كی زندگی كے لئے مفید ھیں جب انسان زمانے كی موجودہ حالت سے كبیدہ خاطر ھوگا تو اس بات كی كوشش كرے گا كہ اپنے كو ھر قسم كے گناہ سے دور ركھے، ظلم و فساد سے كنارہ كشی اختیار كرلے، جور و استبداد كے ختم كرنے كی ھر امكانی كوشش كرے۔ اسی كے ساتھ ساتھ نیكی كی طرف قدم بڑھا رھا ھو اپنے كو نیك صفات سے آراستہ كرنے كی فكر میں ھو۔
اب آپ خود ھی فیصلہ كرلیں انتظار كا یہ مفہوم انسان سے احساس ذمہ داری كو چھین لیتا ھے یا احساس ذمہ داری كو اور بڑھا دیتا ھے۔ اس بیان كی روشنی میں گذشتہ روایتوں میں ذكر شدہ باتیں كس قدر روشن ھوجاتی ھیں، انسان میں جس قدر آمادگی پائی جاتی ھے اور جس قدر وہ اپنے كو انقلاب عظیم كے لئے تیار كرچكا ھے اسی اعتبار سے وہ فضیلت كے مرتبہ پر فائز ھے آمادگی كے مراتب كو دیكھتے ھوئے روایتوں میں فضیلت و عظمت كو بیان كیا گیا ھے
جس طرح سے ایك جنگ میں شركت كرنے والوں كے مراتب مختلف ھیں كوئی وہ ھے جو رسول خدا (ص) كے ساتھ ان كے خیمے میں ھے، كوئی جنگ كے لئے آمادہ ھورھا ھے۔ كوئی میدانِ جنگ میں كھڑا ھے، كوئی تلوار چلا رھا ھے كوئی دشمن سے برسر پیكار ھے اور كوئی جنگ كرتے كرتے شھید ھوچكا ھے۔ انھیں مراتب كے اختلاف كی بنا پر جنگ میں شركت كرنے والوں كے ثواب اور مراتب میں بھی اختلاف ھے۔
یہی صورت ان لوگوں كی بھی ھے جو ایك عظیم مصلح كے انتظار میں زندگی كے شب و روز گذار رھے ھیں، ایك عالمی انقلاب كی امید لگائے ھوئے ھیں جس كے بعد دنیا امن و امان، سكون و اطمینان كا گہوارہ ھوجائے گی۔ ظلم و جور و استبداد كی تاریكی كافور ھوجائے گی اب جس میں جتنی آمادگی، جذبۂ فدا كاری، شوق شھادت اور عزم و استقلال پایا جاتا ھے اسی اعتبار سے روایتیں اس كے شاملِ حال ھوتی جائیں گی۔
وہ شخص جو پیغمبر اسلام (ص) كے ھمراہ خیمے میں موجود ھے وہ كبھی بھی حالات سے غافل نہیں رہ سكتا، وہ ھمیشہ حالات پر نگاہ ركھے گا، ماحول كو باقاعدہ نظر میں ركھے گا، كیوں كہ وہ ایسی جگہ پر ھے جہاں غفلت اور لاپروائی سے دامن چھڑا كر یہاں آیا ھے۔ اسے اس بات كا احساس ھے كہ اس كی غفلت سے كیا نتائج برآمد ھوں گے، اس كی معمولی سی چوك كس قدر تباھی اور بربادی كا پیش خیمہ ھوسكتی ھے۔
وہ شخص جو میدان جنگ میں برسرِ پیكار ھے اسے كس قدر ھوشیار ھونا چاھئے، معمولی سے معمولی چیز سے بھی فائدہ اٹھانا چاھئے، ھر لمحہ كو غنیمت شمار كرنا چاھئے۔ فتح حاصل كرنے كے لئے ھر امكانی كوشش كرنی چاھیئے، اگر یہی شخص غافل ھوجائے، فرصت سے استفادہ نہ كرے، لمحات كو غنیمت نہ شمار كرے اس كا لازمی نتیجہ ھزیمت اور شكست ھوگی۔
یہی صورت ان لوگوں كی ھے جو "انتظار" میں زندگی بسر كررھے ھیں اور منتظر كو مجاھد كا جو درجہ دیا گیا ھے اس كی وجہ یہی ھے كہ منتظر كو مجاھد كی طرح ھمیشہ ھوشیار رھنا چاھیئے۔ ماحول پر فتح حاصل كرنے كے لئے ھر امكانی كوشش كرنا چاھئے۔ فساد كی بساط تہ كرنے كے لئے ھمیشہ كوشاں رھنا چاھیئے۔ تاكہ انقلاب عظیم كے مقدمات فراھم ھوسكیں۔
یہ بات بھی یاد ركھنے كے قابل ھے كہ انسان اسی وقت میدان جنگ میں ایك بہادر اور دلیر ثابت ھوگا جب باطنی اور روحی طور پر بھی اس میں شجاعت اور دلیری پائی جاتی ھو ورنہ اگر دل ھی بُزدل ھے تو تیغ بُراں بھی بیكار ھے، حقیقی انتظار كرنے والے كے لئے ضروری ھے كہ اپنے كو باطنی طور پر اس قدر آمادہ كرلے كہ وقتِ انقلاب اس كا شمار مجاھدین میں ھو۔
اس بیان كی روشنی میں "ھر سچّا منتظر" روایات میں اپنی جگہ ڈھونڈھ لے گا۔
قارئین خود ھی فیصلہ كرلیں كہ انتظار كا یہ مفہوم انسانی زندگی كے لئے ضروری ھے یا نہیں، اس كے ضمیر كی آواز ھے كہ نہیں۔؟
انتظار، یا آمادگی
اگر میں خود ھی ظالم اور ستم گر ھوں تو كیونكر ایسے انقلاب كا متمنی ھوسكتا ھوں جس میں ظالم اور ستم گر پہلے ھی حملے میں نیست و نابود ھوجائیں گے۔
اگر میں خود ھی گناھگار، بدكار اور بداخلاق ھوں تو كیونكر ایسے انقلاب كی آرزوكرسكتا ھوں جس میں گناھگاروں كے لئے كوئی خاص گنجائش نہ ھو۔
وہ فوج جو آمادۂ جنگ ھے كیونكر اس كے سپاھی غافل اور بے پروا ھوسكتے ھیں، فوج ھمیشہ اس فكر میں رھتی ھے كہ معمولی سے معمولی كمزوری كو جلد از جلد دور كیا جائے اور ھماری فوج میں كوئی بھی ضعف باقی نہ رھے اور جو ضعف ھیں ان كی فوراً اصلاح كرلی جائے۔
انسان كو جس چیز كا انتظار ھوتا ھے اسی اعتبار سے وہ خود كو آمادۂ استقبال كرتا ھے۔
اگر كسی مسافر كے آنے كا انتظار ھے تو ایك قسم كی تیاری ھوگی، اگر بہت ھی قریبی، اور جگری دوست آرھا ھے تو دوسرے قسم كی تیاریاں ھوں گی۔ اور اگر كسی طالب علم كو اپنے امتحان كا انتظار ھے تو اب اس كی تیاریاں ایك خاص قسم كی ھوں گی، اگر صحیح معنوں میں اسے امتحان كا انتظار ھے، ایسا ھرگز نہیں ھے جسے امتحان كا انتظار ھو وہ گھر كی صفائی اور اس كے نظم و ضبط میں منہمك ھو اور جسے ایك مسافر كا انتظار ھو وہ اپنی كاپی، كتاب كی اصلاح اور ترتیب میں مصروف و مشغول ھو، اب دیكھنا یہ ھے كہ ھم كس كا انتظار كر رھے ھیں اور كس انقلاب كی آس لگائے ھیں۔
انقلاب ۔۔۔۔۔۔۔۔ جو زمین كے كسی خطے سے مخصوص نہیں۔
انقلاب ۔۔۔۔۔۔۔۔ جس میں جغرافیائی حدود كی كوئی قید و شرط نہیں۔
انقلاب ۔۔۔۔۔۔۔۔ جو زندگی كے خاص شعبے میں محدود نہیں۔
انقلاب ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور اتنا عظیم انقلاب جس كی مثال تاریخ بشریت كے دامن میں نہ ھو۔
انقلاب۔ اور اتنا
انقلاب ۔۔۔۔۔۔۔۔ جو سیاست كو ایك نیا رخ دے، جو علم و ھنر میں ایك تازہ روح پھونك دے۔
انقلاب ۔۔۔۔۔۔۔۔ جو اقتصادی الجھنوں كو دور كردے
انقلاب ۔۔۔۔۔۔۔۔ جو اخلاقی قدروں كو سرفراز كردے
اب دیكھنا یہ ھے كہ ایسے انقلاب كے انتظار میں زندگی گزارنے كے اثرات كیا ھیں۔ یہ بات پہلے ذكر كی جاچكی ھے كہ انتظار كے دو پہلو ھیں:۱۔ منفی ۲۔ مثبت
انتظار كی طرح انقلاب كے بھی دو پہلو ھیں: ۱۔ منفی۲۔ مثبت
۱۔منفی: موجودہ حالت كو ختم كرنا، فساد و تباھی كو ان كی آخری حد تك پہونچانا۔
۲۔مثبت: ایك جدید اور زندگی بخش نظام كو پرانے اور فرسودہ نظام كا جانشین قرار دینا۔
اب جو لوگ واقعاً منتظر ھیں اور صحیح معنوں میں ایك "عالمی انقلاب" كی اُمّید لگائے ھوئے ھیں، صرف زبانی اور خیالی جمع خرچ میں مبتلا نہیں ھیں، تو ان لوگوں میں كچھ صفات ضرور پائے جائیں گے ان میں سے چند صفتیں نذر قارئین ھیں۔
۱۔انفرادی اصلاح ۔ اِصلاحِ نفس
اس عظیم انقلاب كے لئے ایسے افراد كی ضرورت ھے جن كا ذھن عالمی اصلاحات كو قبول كرنے كی صلاحیت ركھتا ھے، ضرورت ھے ایسے افراد كی جو میدان علم كے شھسوار ھوں، افكار میں گہرائی ھو، دل میں وسعت ھو كہ دشمن كو بھی جگہ مل سكے، ضمیر زندہ اور بیدار ھو، اخلاق و مروت كے پرستار ھوں، ایسے افراد كی ضرورت ھے، جو تنگ نظر نہ ھوں، كج فكر اور كج خلق نہ ھوں، كینہ و حسد سے دور ھوں، اختلاف كی خانماں سوز آگ كو صلح و صفا و اخوت كے پانی سے بُجھا چكے ھوں۔
كیوں ۔۔۔ اس لئے كہ اگر كوتاہ فكر ھوں گے تو عالمی اصلاحات كو قبول كرنے سے انكار كردیں گے یا پھر اسے ایك دشوار گذار مرحلہ تصوّر كریں گے، اگر دل میں وسعت اور قلب میں محبّت نہ ھوگی، تو اپنے علاوہ دوسرے كے فائدے كو پسند نہیں كریں گے اگر آپس میں نفاق اور اختلاف ھوگا تو ایك عالمی حكومت سے تعاون نہیں كریں گے، اور دنیا میں افراتفری پھیلائیں گے۔
ایسا بھی نہیں ھے كہ انتظار كرنے والے كی حیثیت صرف ایك تماشہ دیكھنے والے كی حیثیت ھو، اور اس كو انقلاب سے كوئی سروكار نہ ھو، یا تو وہ اس عالمی انقلاب كا موافق ھوگا یا پھر مخالف۔ كسی تیسری صورت كی گنجائش نہیں ھے۔
بیدار ضمیر اور روشن فكر شخص جب كبھی اس انقلاب كے بارے میں فكر كرے گا اور اس كے نتائج پر نظر ركھے گا تو كبھی وہ مخالفین كی صف میں نہ ھوگا، كیونكہ اس انقلاب كے اصول اس قدر فطرت اور ضمیر كے نزدیك ھیں كہ ھر وہ شخص جس كے پہلو میں انسان كا دل ھے وہ ان اصولوں كو ضرور قبول كرے گا۔ مخالفت صرف وھی كریں گے جو ظلم و فساد كے دلدادہ ھوں، یا مظالم ڈھاتے ڈھاتے ظلم كرنا ان كی فطرت ثانیہ بن گئی ھو۔
جب انسان اس "عالمی انقلاب" كے طرفداروں میں ھوگا اور ھر انصاف پسند طرفدار ھوگا، ان لوگوں كے لئے ناگزیر ھے كہ انفرادی طور پر اپنی اصلاح كرلیں اور نیك اعمال بجالانے كے خوگر بنیں، عمل سے زیادہ نیت میں پاكیزگی ھو، تقویٰ دل كی گہرائیوں میں جاگزیں ھو علم و دانش سے سرشار ھو۔
اگر ھم خود فكری یا عملی طور پر ناپاك ھیں تو كیونكر ایسے انقلاب كے متمنی ھیں جس كی پہلی ھی لپیٹ ایسے لوگوں كو نگل جائے گی۔ اگر ھم خود ظالم اور ستم گر ھیں تو كیونكر ایسے انقلاب كا انتظار كررھے ھیں جس میں ظالم اور ستم گر كے لئے كوئی جگہ نہ ھوگی۔
اگر ھم خود مفسد ھیں اور فساد پھیلانے میں لگے رھتے ھیں تو كیوں ایسے انقلاب كی امید میں زندگی كے شب و روز گذار رھے ھیں جس میں مفسد اور فساد پھیلانے والے نیست و نابود ھوجائیں گے۔
خود فیصلہ كرلیجئے كیا اس عالمی انقلاب كا انتظار انسان كو باعمل اور باكردار بنا دینے كے لئے كافی نہیں ھے۔؟ یہ انتظار كی مدّت كیا اس بات كی مہلت نہیں ھے كہ انسان آمد انقلاب سے پہلے خود اپنی اصلاح كرلے اور خود كو انقلاب كے لئے آمادہ كرلے۔
وہ فوج جو ایك قوم اور ملّت بلكہ ایك ملك كو ظلم و ستم سے آزادی دلانا چاھتی ھے اس كے لیے ضروری ھے كہ وہ ھمیشہ مستعد رھے، اپنے اسلحوں كو پركھ لے، اگر كوئی اسلحہ خراب ھوگیا ھے یا زنگ آلود ھوگیا ھے تو اس كی فوراً اصلاح كرلے، حفاظتی اقدام میں كوئی كسر نہ اُٹھا ركھے، اپنی چوكیوں كو مضبوط كرلے، اور جو مضبوط ھیں انھیں مضبوط تر بنالے سپاھیوں كا شمار كرلے، ان كی قوت آزمالے، ان كے جذبات كا جائزہ لے لے، جن كی ھمتیں پست ھوں ان میں ایك تازہ روح پھونكی جائے۔ ھر ایك كو اس كی ھمت اور جذبہ كے مطابق كام سونپا جائے۔ اگر فوج ان خصوصیات كی حامل ھے تب تو اس بات كی امید كی جاسكتی ھے كہ وہ اپنے مقاصد میں كامیاب ھوگی، ورنہ اس كے تمام دعوے جھوٹے اور تمام منصوبے محض خواب و خیال ھوں گے۔
اسی طرح وہ لوگ جو اپنے كو حضرت امام زمانہ علیہ السلام كا منتظر كہتے ھیں اور یہ كہتے ھوئے فخر محسوس كرتے ھیں كہ ایك امام غائب كے انتظار میں زندگی بسر كر رھے ھیں ان كے لئے ضروری ھے كہ وہ اپنے كو اس عالمی انقلاب كے لئے آمادہ كریں۔ اپنے نفوس كا خود امتحان لے لیں، اپنے جذبات كو حقائق كی كسوٹی پر پركھ لیں، كیونكہ ایك قوم جو ھمیشہ اپنی اصلاح میں منہمك ھو، نہایت شوق و ولولے كے ساتھ نیك اعمال بجا لارھی ھو، سچے جذبات اور خلوص نیت كے ساتھ كردار كے اعلیٰ مراتب طے كر رھی ھو وہ قوم اور سماج كس قدر عالی اور بلند ھوگا، وہ ماحول كس قدر روح افزا اور وہ فضا كس قدر انسانیت ساز ھوگی، وہ صبح كس قدر تابناك ھوگی جس میں ایك ایسی عظیم قوم جنم لے گی۔ وہ قوم كوئی اور نہیں ھوگی بلكہ ھم اور آپ ھی ھوں گے بشرطیكہ متوجہ ھوجائیں اور اصلاحات میں لگ جائیں۔
یہ ھیں اس انتظار كے معنی جس كے بارے میں روایتیں وارد ھوئی ھیں، اور یہ ھے وہ "سچّا منتظر" جس كو روایت میں "مجاھد" اور "شھید" كا درجہ دیا گیا ھے۔
ضرورت ھے ایسے افراد كی جن كے ارادے كے سامنے مصائب كا طوفان خود چكر میں آجائے، جن كے عزم كے سامنے پہاڑ اپنی جگہ چھوڑ دیں، جن كی امید كے سامنے مایوسی كی چٹانیں پاش پاش ھوجائیں۔ فكر اس قدر وسیع ھوكہ آسمان اور زمین كی وسعتیں كم ھوں، اخلاق اس قدر بلند ھوكہ دشمن بھی كلمہ پڑھیں۔ كردار اتنا مستحكم ھوكہ ملائك بھی سجدہ ریز ھوں۔
۲۔سماج كی اصلاح
سچّا منتظر وہ ھے جو صرف اپنی اصلاح پر اكتفا نہ كرے بلكہ اس كے لیے ضروری ھے كہ دوسروں كی بھی اصلاح كی فكر كرے۔
كیونكہ جس انقلاب كا انتظار ھم كررھے ھیں، اس میں صرف جزوی اصلاحات نہیں ھوں گی بلكہ سماج كے سبھی افراد اس میں برابر كے شریك ھوں گے، لھذا سب مل كر كوشش كریں، ایك دوسرے كے حالات سے آگاہ رھیں، ایك دوسرے كے شریك رھیں اور شانے سے شانہ ملاتے ھوئے انقلاب كی راہ پر گامزن رھیں۔
جب كام سب مل كر انجام دے رھے ھوں تو اس میں كوئی ایك دوسرے سے غافل نہیں رہ سكتا۔ بلكہ ھر ایك كا فریضہ ھے كہ دوسروں كا بھی خیال ركھے۔ اطراف و جوانب كا بھی علم ركھتا ھو، جہاں پر كوئی معمولی سی كمزوری نظر آئے، فوراً اس كی اصلاح كرے۔ كوئی كمی ھوتو فوراً اس كو پورا كیا جائے۔
اسی بناء پر جہاں ھر انتظار كرنے والے كا یہ فریضہ ھے كہ خود كی اصلاح كرے، كردار كے جوھر سے آراستہ ھو وھاں اس كا یہ بھی فریضہ ھے كہ دوسروں كی بھی اصلاح كرے، سماج میں اخلاقی قدروں كو اجاگر كرے۔
صحیح انتظار كرنے كا یہ دوسرا فلسفہ ھے، ان باتوں كو پیش نظر ركھ كر روایات كا مطالعہ كیا جائے تو معنی كس قدر صاف اور روشن ھوجاتے ھیں۔ منتظر كو كہیں مجاھد كا درجہ، كہیں راہ خدا میں شمشیر بكف كا درجہ، اور كہیں پر فائز بہ شھادت كا درجہ دیا گیا ھے۔ بدیہی بات ھے اپنی اصلاح یا دوسروں كی اصلاح، انفرادی زندگی كے ساتھ حیات اجتماعی كو بھی سنوارنا كس قدر دشوار گذار مرحلہ ھے۔ ان مراحل میں وھی ثابت قدم رہ سكتا ھے جو عزم و عمل كا شاھكار ھو، جس كے قدم ثبات و استقلال كی آپ اپنی مثال ھوں۔


ایك اعتراض
دنیا كے بارے میں ھماری معلومات محدود ھیں، اور نہ ھمیں موجودہ حكم فرما نظام كی حقیقت معلوم ھے اور نہ ھم اس كے نتائج سے باخبر ھیں، اس بناء پر ھم خیال كرتے ھیں كہ ظلم و فساد میں ابھی كچھ كمی ھے۔ اگر صحیح طور سے دیكھا جائے تو آج بھی دنیا فساد سے بھری ھوئی ھے آج بھی دنیا ظلم و ستم كی آما جگاہ بنی ھوئی ھے"۔
دنیا میں كچھ ایسے بھی موجودہ ھیں جو ھمیشہ اس فكر میں رھتے ھیں كہ كس طرح ایك اصلاحی بات سے بھی فساد كا پہلو نكالا جائے۔ ان كی كوشش یہ ھوتی ھے كہ ھر چیز میں اس كا منفی پہلو اُبھارا جائے، اصلاح كو بھی فساد كا جامہ پہنا دیا جائے، تاكہ ان كی دُكان ٹھپ نہ ھونے پائے۔ زیر بحث مسئلہ بھی ان لوگوں كی سازش سے محفوظ نہ رہ سكا۔
ان لوگوں كا كہنا ھے كہ حضرت مھدی علیہ السلام كے ظھور میں شرط یہ ھے كہ آپ اس وقت ظھور فرمائیں گے جب دنیا ظلم و جور سے بھر چكی ھوگی، دور دور تك كہیں اچّھائیوں كا نام تك نہ ھوگا، نیكی كی شمع كوسوں دور بھی نظر نہ آتی ھوگی۔
اگر ھم لوگ اصلاح كے راستے پر قدم بڑھائیں گے، ظلم و جور كو مٹانے كی كوشش میں لگے رھیں گے تو حضرت كے ظھور میں خواہ مخواہ تاخیر ھوگی، لھذا كیوں نہ ھم لوگ مل كر فساد كی آگ كو اور بھڑكادیں، ظلم و ستم كے شعلوں كی لپك كو اور تیز كردیں، استبداد كی بھٹی كو كیوں نہ اور گرم كردیں، جو كچھ تھوڑی بہت كسر رہ گئی ھے، اسے جلد از جلد پورا كریں تاكہ حضرت كا ظھور جلد ھوسكے۔
اسی اعتراض كو ان الفاظ میں بیان كیا جاسكتا ھے:
وہ حضرات جو ظھور حضرت مھدی علیہ السلام كے انتظار میں زندگی بسر كر رھے ھیں، انھیں یہ انتظار كوئی تقویت نہیں پہونچاتا بلكہ رھی سہی قوت ارادی كو بھی چھین لیتا ھے گنے چُنے جو نیك لوگ ھیں انھیں بھی یہ انتظار نیك باقی نہیں رھنے دیتا۔ فقر و فاقہ كی زندگی میں روز بہ روز اضافہ ھی ھوتا چلا جاتا ھے، كیونكہ جو لوگ كم مایہ اور فقیر ھیں وہ اس امید میں ھاتھ پر ھاتھ دھرے بیٹھے ھیں كہ جب حضرت كا ظہور ھوگا، اس وقت ھماری حالت "خود بخود" بدل جائے گی، فقر و فاقہ دور ھوجائے گا، زندگی كا ایك حصہ تو گذر چكا ھے بقیہ بھی اسی امید میں گذر جائے گا۔ سرمایہ داروں كو تو چاندی ھوجائے گی۔ وہ اسی بہانے اپنی تجوریاں بھرتے چلے جائیں گے، لوگوں كو اپنا دست نگر بنانے میں كامیاب ھوتے رھیں گے۔ یہ عقیدہ انسانی زندگی كے لئے آبِ حیات ھے یا صحیح معنوں میں زھر ھلاھل۔؟
یہ ھے وہ اعتراض جسے مخالفین كافی آب و تاب سے بیان كرتے ھیں۔ ھوسكتا ھے
خود دل سے اس اعتراض كو قبول نہ كرتے ھوں، مگر اپنے ناپاك مقاصد كے لئے، اپنی شخصیت كو چھپانے كے لئے اس اعتراض كو "بطور نقاب" استعمال كرتے ھوں۔
جو بھی صورت حال ھو، اس اعتراض كے جواب كے لئے ان باتوں كی طرف توجہ فرمایئے:
۱۔صف بندی اور تشخیص
اس عالمی انقلاب میں یا تو لوگ موافقین كی فہرست میں ملیں گے یا پھر مخالفین كی فہرست میں، تماشائی كی حیثیت كوئی معنی نہیں ركھتی ھے۔ دنیا میں جتنے بھی انقلاب آتے ھیں سب كی صورت حال یہی ھے۔ كیونكہ دنیا میں جتنے بھی انقلاب آئے ھیں وہ دو صورتوں سے خالی نہیں ھیں۔ انقلاب سماج كے لئے فائدہ مند ھوگا یا فائدہ مند نہیں ھوگا اگر انقلاب سماج كے لئے فائدہ مند ھے تو ھر آدمی كا فریضہ ھے كہ اس میں شركت كرے، اگر یہ انقلاب سماج كے لئے نقصان كا باعث ھے تو سب كا فریضہ ھے كہ مل كر اس كی مخالفت كریں اور اس كو كامیاب نہ ھونے دیں۔ یہ بات دور از عقل ھے كہ انقلاب تو آئے لیكن سماج كے لئے نہ فائدہ مند ھو نہ باعثِ نقصان۔
جب یہ بات تو ھمیں چاھیئے كہ ھم ابھی سے یہ طے كرلیں كہ ھمیں كس صف میں رھنا ھے ھم اپنے كو خود آزمالیں كہ ھمیں كس كا ساتھ دینا ھے۔
اگر آج ھم فساد كی آگ كو ھوا دے رھے ھیں تو كل كیونكر اصلاح كرنے والوں كی صف میں آجائیں گے اور فساد كو آگ بجھا رھے ھوں۔؟ اگر آج ھمارا دامن ظلم و جور سے آلودہ ھوگا تو كل یقیناً ھمارا شمار مخالفین كی فہرست میں ھوگا۔ كیونكہ یہ بات تو سبھی تسلیم كرتے ھیں كہ حضرت مھدی علیہ السلام كے ظھور كے بعد جو انقلاب آئے گا اس میں ظلم و جور كا نشان تك باقی نہ رھے گا۔ ھم كو ان ظالموں كی صف میں اپنے كو شمار كرنا چاھئے جن كی گردنوں كا بوسہ عدل و انصاف كی شمشیر لے گی۔ فساد پھیلانا تو بالكل ایسا ھی ھے كہ ھم ایك ایسی آگ بھڑكائیں جس كا پہلا شعلہ ھمیں ھی خاكستر كردے۔
اگر اس اعتراض كو قبول بھی كرلیا جائے تو اس كا مطلب یہ ھوگا كہ ھم جس قدر اپنے اعمال بد كے ذریعہ حضرت مھدی علیہ السلام كے ظھور كو نزدیك كریں گے اتنا ھی ھم اپنی نابودی اور فنا سے بھی قریب تر ھوجائیں گے، اپنے ھی ھاتھوں اپنے پیروں پر كلہاڑی مار لیں گے۔
اگر ھم باقی رھنا چاھتے ھیں اور اس عالمی انقلاب كے نتائج سے لطف اندوز اور بہرہ مند ھونا چاھتے ھیں تو اپنے دامن كو آلودگیوں سے دور ركھیں، ظلم و جور سے تمام رشتوں كو توڑدیں، ضلالت و گمراھی كے سمندر سے نكل كر ھدایت كے ساحل پر آجائیں۔
۲۔ مقصد آمادگی ھے، فساد نہیں
جو چیز حضرت مھدی علیہ السلام كے ظھور كو كسی حد تك نزدیك كرسكتی ھے وہ ھے وہ ظلم وجور و فساد نہیں ھے بلكہ ھماری آمادگی ھے، ھمارا اشتیاق ھے۔ كیا ھمیں حضرت كا اسی طرح انتظار ھے جس طرح سے ایك پیاسے كو پانی كا۔
ھاں یہ اور بات ھے، جس قدر ظلم و جور، فساد اور بربادی میں اضافہ ھوتا جائے گا اتنا ھی لوگ موجودہ نظام اور ضابطۂ حیات سے عاجز ھوتے جائیں گے۔ رفتہ رفتہ لوگوں كو اس بات كا یقین ھوتا جائے گا كہ موجودہ ضابطۂ حیات میں سے كوئی ایك بھی ھماری مشكلات كا حل پیش نہیں كرسكتا بلكہ جتنے بھی نظام رائج ھیں وہ سب كے سب ھماری مشكلات میں اضافہ تو كرسكتے ھیں مگر كمی نہیں كرسكتے۔ یہی یقین اس بات كا سبب ھوگا كہ لوگ ایك ایسے نظام كے منتظر ھوں گے جو واقعاً ان كی مشكلات كا حل پیش كرسكتا ھے جس قدر یہ یقین مستحكم ھوتا جائے گا، اتنا ھی انسان كا اشتیاق بڑھتا جائے گا۔
دھیرے دھیرے یہ بات بھی روشن ھوتی جائے گی اور لوگوں كو یقین ھوتا جائے گا كہ دنیا كی جغرافیائی تقسیم مشكلات كا سر چشمہ ھے۔ یہی جغرافیائی تقسیم ھے جس كی بنا پر بے پناہ سرمایہ اسلحہ سازی میں خرچ ھورھا ھے، انسان كی گاڑھی كمائی كے پیسے سے خود اس كی تباھی كے اسباب فراھم كئے جارھے ھیں۔ جغرافیائی تقسیم اور حد بندی كا نتیجہ ھے جس كی بنا پر ھر قوی اور طاقت ور ملك ضعیف اور فقیر ملك كو اپنے قبضہ میں كرلیتا ھے۔ ان كے پاس جو خدا داد نعمتیں ھیں ان كو ہتھیانے كی فكر میں لگا رھتا ھے۔ یہ جغرافیائی تقسیم اور حد بندی كا نتیجہ ھے جس كی بنا پر ملكوں میں آپس میں ایك حسد اور تعصب پایا جاتا ھے۔ یہی وہ باتیں ھیں جو انسانی مشكلات كا سرچشمہ ھیں، جس قدر یہ حققیت انسانی ذھن میں اترتی جائے گی اتنا ھی انسان ایك ایسی حكومت كی فكر میں ھوگا، جس میں یہ قصّہ ھی نہ ھو، جہاں پر كوئی حد بندی نہ ھو۔ اگر حد بندی ھو تو صرف انسانیت اور آدمیت كی۔ جب ایك عالمی حكومت كا قیام ھوگا تو وہ بے پناہ سرمایہ جو اسلحہ كے اوپر خرچ ھورھا ھے، وہ انسان كی فلاح و بہبود كے لئے خرچ ھوگا، اب نہ حسد كا سوال ھوگا اور نہ رقابت كا، بلكہ سب مل كر شانے سے شانہ ملاكر ھاتھ میں ھاتھ دے كر، عدل و انصاف، صدق و صفا، برادری، اخلاص و ایثار، اخلاق و كردار، مروت و شرافت كی بنیاد پر قصر آدمیت و انسانیت كو تعمیر كریں گے۔
۳۔تاریكی كا عُروج ؟
دنیا تو مدت ھوئی ظلم و جور سے بھر چكی ھے۔ یہ جنگیں یہ قتل و غارت، لوٹ مار خوں ریزیاں اس بات كی نشانی نہیں ھیں كہ دنیا ظلم و جور سے بھری ھوئی ھے۔ یہ كینہ و حسد ایك دوسرے كو تباہ و برباد كرنے كے لئے ایك سے ایك اسلحہ بنانا، طاقت كے گھمنڈ میں غریبوں اور كمزوروں كو كچل كے ركھ دینا، دنیا سے اخلاقی قدروں كو مٹ جانا جہاں كردار كی بھیك مانگے سے نہ ملتی ھو، جہاں شرم و حیا نام كی كوئی چیز نہ ھو تو اب بھی ظلم و جور میں كوئی كمی باقی رہ جاتی ھے۔؟
ھاں جس چیز كی كمی ھے وہ یہ ھے كہ ھم ابھی تك موجودہ نظام ھائے حكومت كی حقیقتوں سے واقف نہیں ھوئے ھیں، ابھی ھم ان ضابطۂ حیات كے نتائج سے باقاعدہ آگاہ نہیں ھوئے۔ ابھی تك یہ بات بالكل روشن نہیں ھوئی ھے كہ واقعاً ھماری مشكلات كا سرچشمہ كیا ھے، جس كی بناء پر ھم اپنے وجود میں اس جذبے كا احساس نہیں كرتے جو ایك پیاسے كو پانی كا ھوتا ھے، ایك مریض كو شفا كی آرزو۔
جس قدر ھمارے جذبات میں اضافہ ھوتا جائے گا، جتنا ھم میں آمادگی پیدا ھوتی جائے گی، جس قدر حضرت (ع) كے ظھور كی ضرورت اور عالمی انقلاب كا احساس ھوتا جائے گا، اتنا ھی حضرت كا ظھور نزدیك ھوتا جائے گا۔
۴۔سچّا منتظر كون۔؟
انتظار كے اثرات و فوائد میں سے دو كا ذكر كیا جاچكا ھے۔ ۱۔انفرادی اصلاح یا اصلاح نفس ۲۔ سماج كی اصلاح۔
انتظار كے اثرات صرف انھیں دو میں منحصر ھیں بلكہ اور بھی ھیں، ان میں سے ایك اور قارئین كی خدمت میں پیش كیا جاتا ھے۔
جس وقت فساد وباكی طرح عام ھوجائے گا، ھر طرف فساد ھی فساد نظر آئے، اكثریت كا دامن فساد سے آلودہ ھو، ایسے ماحول میں اپنے دامن كو فساد سے محفوظ ركھا ایك سچّے اور حقیقی منتظر كا كام ھے۔ یہ وہ موقع ھوتا ھے جس وقت نیك اور پاك سیرت افراد روحی كش مكش میں مبتلا ھوجاتے ھیں۔ كبھی بھی یہ خیال ذھنوں میں كروٹیں لینے لگتا ھے كہ اب اصلاح كی كوئی امید نہیں ھے۔ یہ مایوسی كردار كے لئے ایك مہلك زھر ثابت ھوسكتی ھے۔ انسان یہ خیال كرنے لگتا ھے كہ اب اصلاح كی كوئی امید نہیں ھے، اب حالات سدھرنے والے نہیں ھیں، اب كوئی تبدیلی واقع نہیں ھوئی، بلكہ حالات بد سے بدتر ھوجائیں گے، ایسی صورت میں اگر ھم اپنے دامن كردار كو بچائے بھی ركھیں تو اس كا كیا فائدہ جب كہ اكثریت كا دامن كردار گناھوں سے آلودہ ھے۔ اب تو زمانہ ایسا آگیا كہ بس "خواھی نشوید رسوا ھم رنگ جماعت باش"۔۔ اگر رسوائی اور بدنامی سے بچنا چاھتے ھو تو جماعت كے ھم رنگ ھوجاؤ۔
ھاں! اگر كوئی چیز ان لوگوں كو آلودہ ھونے سے محفوظ ركھ سكتی ھے اور ان كے دامن كردار كی حفاظت كرسكتی ھے تو وہ صرف یہی عقیدہ كہ ایك دن آئے گا جب حضرت مھدی سلام اللہ علیہ كا ظھور ھوگا اور دنیا كی اصلاح ھوگی جیسا كہ رسول گرامی (ص) كا ارشاد ھے: "اگر آنے میں صرف ایك ھی دن باقی رہ جائے گا تو خداوند عالم اس دن كو اس قدر طولانی كردے گا كہ حضرت مھدی سلام اللہ علیہ كا ظھور ھوجائے"۔ 10 جب ایك دن اصلاح ھوگی اور ضرور ھوگی تو كیوں نہ ھم اپنے دامن كردار كو محفوظ ركھیں، دوسروں كی اصلاح كی فكر كیوں نہ كریں۔ اس سعی و كوشش كی بنا پر ھم اس لائق ھوسكیں گے كہ وقت انقلاب موافقین كی صف میں ھوں اور ھمارا بھی شمار حضرت كے اعوان و انصار میں ھو۔
تعلیماتِ اسلامی میں یہ بات بھی ملتی ھے كہ سب سے عظیم گناہ اگر كوئی چیز ھے تو وہ "رحمت الٰہی سے مایوسی ھے"۔ اس كی وجہ بھی صاف واضح ھے۔ جب انسان رحمتِ الٰہی سے مایوسی ھوجائے گا تو كبھی بھی اصلاح كی فكر نہیں كرے گا۔ وہ یہی خیال كرے گا كہ جب كافی عمر گناہ كرتے گزری تو اب چند دنوں كے لئے گناہ سے كنارہ كشی اختیار كرنے سے كیا فائدہ۔ جب ھم گناھوں كے بوجھ سے دبے ھوئے ھیں تو كیا ایك اور كیا دس۔ اب تو پانی سر سے اونچا ھوچكا ھے، ساری دنیا میں بدنامی ھوچكی، اب كاھے كی پرواہ، اپنے اعمال كے ذریعہ دوزخ خرید چكا ھوں۔ جب آتش جہنم میں جلنا ھے تو باقاعدہ جلیں گے اب ڈر كس بات كا۔
اگر انسان كی ساری عمر گناہ كرتے گزری ھو، اور اسے اس بات كا یقین ھو كہ میرے گناہ یقیناً بہت زیادہ ھیں، لیكن رحمتِ الٰہی اس سے بھی زیادہ وسیع ھے۔ میرے لاكھ گناہ سھی مگر اس كی رحمت كے مقابلے میں كچھ بھی نہیں، اس كی ذات سے ھر وقت امید ھے، اگر میں سدھر جاؤں تو وہ آج بھی مجھے بخش سكتا ھے۔ اگر میں اپنے كئے پر نادم ھوجاؤں تو اس كی رحمت شامل حال ھوسكتی ھے۔ یہی وہ تصور اور عقیدہ ھے جو انسان كی زندگی میں ایك نمایاں فرق پیدا كرسكتا ھے، ایك گناھگار كو پاك و پاكیزہ بنا سكتا ھے۔
اسی لئے تو كہا جاتا ھے كہ امید انسانی زندگی كے لئے بہت ضروری چیز ھے۔ امید كردار سازی میں ایك مخصوص درجہ ركھتی ھے۔ اصلاح كی امید فساد كے سمندر میں غرق ھونے سے بچا لیتی ھے، اصلاح كی امید انسانی كردار كے لئے ایك مستحكم سپر ھے۔
جس قدر دنیا فاسد ھوتی جائے گی اسی اعتبار سے حضرت كے ظھور كی امید میں اضافہ ھوتا جائے گا، جس قدر یہ امید بڑھتی جائے گی اسی اعتبار سے انفرادی اور اجتماعی اصلاح ھوتی جائے گی۔ ایك صالح اور با كردار اقلیت كبھی بھی فسادی اكثریت كے سمندر میں غرق نہیں ھوگی۔
یہ ھے انتظار كا وہ فائدہ جو كردار كو فاسد ھونے سے محفوظ ركھتا ھے، ایك سچّے اور با كردار منتظر كا دامنِ عفت گناھوں سے آلودہ نہیں ھوگا۔
مختصر یہ كہ اگر انتظار كو صحیح معنوں میں پیش كیا جائے تو انتظار انسان كی زندگی كے لیے بہت ضروری ھے۔ اخلاقی قدروں كو اجاگر ركھنے كا ایك بہترین ذریعہ ھے۔ انتظار بے حس انسان كو ذمہ دار بنا دیتا ھے۔ بے ارادہ انسانوں كو پہاڑوں جیسا عزم و استقلال عطا كرتا ھے۔
ھاں اگر انتظار كے مفھوم كو بدل دیا جائے، اس كی غلط تفسیر كی جائے تو اس صورت میں انتظار ضرور ایك بے فائدہ چیز ھوگی۔
انتظار كبھی بھی انسان كو بے عمل نہیں بناتا۔ اور نہ بد اعمالی كی دعوت دیتا ھے، اس بات كی زندہ دلیل وہ روایت ھے جو اس آیتہ كریمہ كے ذیل میں وارد ھوئی ھے: وَعدَ اللہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡكُمۡ وَ عَمِلُوۡا الصّٰلِحٰتِ لِیَسۡتَخۡلِفَنَّھُمۡ فی الارض "وہ لوگ جو ایمان لائے ھیں اور عمل صالح بجالاتے ھیں ان سے خدا كا یہ وعدہ ھے كہ خدا ان كو روئے زمین پر حكومت عطا كرے گا۔" امام علیہ السلام نے ارشاد فرمایا: اس آیت سے مراد القائم واصحابہ (۱۱) اس سے مراد حضرت مھدی (ع) اور ان كے اصحاب ھیں۔
ایك دوسری روایت میں ھے نزلت فی المھدی (۱۲) یہ آیتہ كریمہ حضرت مھدی كی شان میں نازل ھوئی ھے۔
غور طلب بات یہ ھے كہ اس آیتہ كریمہ میں جو حضرت كے اصحاب كی صفت بیان كی گئی ھے ان میں ایك ایمان ھے اور دوسرا عمل صالح یقیناً اس عالمی انقلاب كے لئے ایسے افراد كی ضرورت ھے جن كے ایمان پختہ ھوں، عقائد مستحكم ھوں، عقیدے كی ھر منزل كامل ھو، عمل كے میدان میں مرد میداں ھوں۔ جو لوگ ابھی انتظار كی گھڑیاں گذار رھے ھیں، ان میں گزشتہ باتوں كا پایا جانا ضروری ھے اور جن میں یہ صفات موجود ھوں گے وھی سچّے منتظر ھوں گے۔
وہ لوگ جن كے ایمان كامل نہیں ھیں یا عمل صالح میں كورے ھیں تو وہ ظھور سے پہلے اپنی اصلاح كرلیں ورنہ بغیر اصلاح كئے ھوئے اگر كسی چیز كا انتظار كر رھے ھیں تو وہ بس اپنی ھی فنا اور نابودی ھے۔
انتظار كا حق اسے ھے جس كا دل ایمان سے لبریز ھو، جو عزم و استقلال كا مالك ھو۔ وہ كیا انتظار كرے گا جو ھمیشہ اونگھا كرتا ھے۔
سچا منتظر وہ ھے جو ھمیشہ اپنی اصلاح میں لگا رھتا ھے اور اسی كے ساتھ سماجی اصلاح كی فكر میں غرق رھتا ھے اجتماع كی فلاح و بہبود میں ھمیشہ كوشاں رھتا ھے۔
ھاں یہ ھے سچا منتظر اور یہ ھیں انتظار كے حقیقی معنی۔
منبع: فلسفۂ انتظار/ آیۃ اللہ ناصر مكارم شیرازی - مترجم: سید احمد علی عابدی


حوالے جات:
۱۔تفصیلی بحث كے لئے ملاحظہ ھو "منتخب الاثر" تحریر آیت الله لطف اللہ صافی۔ ص۲۳۱۔ ۲۳۶۔
۲۔ بحار الانوار ج ۵۲ص۱۲۵طبع جدید ۔
۳۔بحار الانوار ج ۵۲ص ۱۲۶۔
۴۔ بحار الانوار جلد ۵۲ص ۱۲۶۔
۵۔بحار الانوار ج ۵۲ص ۱۴۲طبع جدید ۔
۶۔بحار الانوار ج ۵۲ص ۱۲۲۔
۷۔بحار الانوار ج ۵۲ص ۱۴۲۔
۸۔ بحار الانوار ج۵۲ص۱۲۸۔
۹۔بحار الانوار ج۵۲ص۱۲۵۔
۱۰۔بحار الانوار، جلد۵۱ص۷۴طبع جدید ۔
۱۱۔بحار الانوار ج۵۱، ص۵۸طبع جدید ۔
۱۲۔ بحار الانوار ج۵۱ص۵۴طبع جدید۔

Add comment


Security code
Refresh