www.Ishraaq.in (The world wide of Islamic philosophy and sciences)

وَأَشۡرَقَتِ ٱلۡأَرۡضُ بِنُورِ رَبِّهَا

703890
معتبر روایات کے مطابق، اللہ کے پیارے رسول(ص) شھادت پا کر رحلت فرما گئے ہیں۔[۱] کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ آنحضرت نے اس زھر کے نتیجے میں شھادت پائی جو غزوہ خیبر کے دوران ایک یھودی عورت نے بکری کے گوشت میں ملا کر آپ کو کھلایا تھا،[۲] جبکہ اس تصور میں سقم پایا جاتا ہے؛ اور وہ یہ کہ جنگ خیبر اور رسول اللہ(ص) کی شھادت کے درمیان چار سال کا عرصہ حائل ہے، اور یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا زھر کے اثر کرنے میں چار سال کا عرصہ لگا ہے؟ چنانچہ یہ بات قابل قبول نھیں ہے کہ رسول اللہ(ص) کی شھادت کا باعث ھونے والے زھر کا خیبر سے کوئی تعلق ھو۔ شاید تاریخ میں تحریف کرکے لفظ “خیبر” کا اضافہ کیا گیا ھو، تا کہ تاریخ کی بھول بھلیوں میں کسی نشان پا کو مٹایا جاسکے۔
رسول اللہ(ص) کی شھادت بھت اھم اور حساس ایام میں واقع ھوئی۔ بالکل اسی وقت جب آنحضرت نے جیشِ اسامہ کو تیار کرو الیا تھا کہ موتہ کی طرف عزیمت کرکے اس علاقے میں مسلمانوں کی سابقہ مھم کی شکست کا ازالہ کرے۔ پیغمبر اسلام(ص) کی صحت یکایک اور خلاف معمول ناساز ھوئی۔ اگر اسامہ بن زید اس جنگ میں کامیاب ھوجاتے تو قدس کی طرف یھودیوں کے مضبوط پشتے منھدم ھوجاتے اور دوسری طرف سے یھود کی شکست کے ساتھ ھی مدینہ میں منافقین کو بھی شکست ھوتی اور یھودی اپنی آخری امید بھی کھو جاتے۔
چنانچہ یھودی پیغمبر(ص) کے ھاتھ فتح قدس کا راستہ روکنے کے لئے سرگرم ھوئے۔ اگر پیغمبر صرف ایک ماہ تک بقید حیات رھتے اور یہ سپاہ حرکت میں آتی تو یھود کی موت یقینی تھی۔ اسی بنا پر مدینہ کے منافقین نے اپنی اور یھود کی بقاء کی خاطر پیغمبر(ص) کو زھر کا جام پلایا۔[۳]
دو رُخے یھودی
سطورِ بالا میں کھا گیا کہ یھودیوں نے پیغمبر کے مقابلے کے لئے تین مرحلوں پر مشتمل منصوبے کا تعین کیا تھا:
۱۔ پیغمبر(ص) کی ولادت کا راستہ روکنا یا پھر آپ کو دھشت گردی کا نشانہ بنانا۔
۲۔ رسول خدا(ص) کی قدس تک رسائی کے راستوں میں استحکامات اور رکاوٹیں قائم کرنا؛ موتہ میں رسول خدا(ص) کی آخری کاروائی آپ کی شھادت کی وجہ سے رک گئی۔
۳۔ اگر پیغمبر اسلام(ص) حکومت قائم کریں تو اس میں اثر و رسوخ پیدا کیا جائے۔
اب تک ھم نے یھودی کاروائی کے اول الذکر دو مراحل کی طرف اشارہ کیا ہے، اور پیغمبر(ص) کے حکومتی نظام میں یھودی اثر و رسوخ کی کیفیت کا جائزہ لیتے ہیں۔
یھودیوں کے پاس اسلام کے بارے میں جامع معلومات تھیں؛ وہ نہ صرف نبی اکرم(ص) کے بارے میں،[۴] سب کچھ جانتے تھے بلکہ آپ کے جانشینوں کے بارے میں بھی معلومات اپنی کتب میں جمع کئے ھوئے تھے؛ حتی کہ آخرالزمان کے نجات دھندہ کے بارے میں معلومات بھی دانیال، ارمیا، حزقیل اور اشعیا کی کتابوں میں بیان ھوئی تھیں۔ وہ جانتے تھے کہ رسول اللہ(ص) کی رسالت آپ کے جانشینوں کے ذریعے جاری رھے گی۔ چنانچہ اگر ایک پرچم موتہ میں گر چکا تھا تو یقیناً علی(ع) کے ھاتھوں دوبارہ لھرایا جاتا اور وہ اس کاروائی کو جاری رکھتے اور قدس کو فتح کرکے ھی سکھ کا سانس لیتے اور اس صورت میں یہ پیغمبر(ص) ھی تھے جو قدس کو فتح کر دیتے۔
چنانچہ اگر علی(ع) بھی کسی سرزمین کو فتح کرتے، تو وہ سرزمین کبھی بھی مسلمانوں کے ھاتھوں سے نہ نکلتی۔ اگر وہ نبی اکرم(ص) کو موتہ میں روکنے میں کامیاب ھوئے بھی تھے، تو علی(ع) پیغمبر(ص) کے بعد فتح قدس کا نبوی مشن پورا کرلیتے اور بھرحال یھودیوں کو شکست ھوتی۔ چنانچہ ضروری تھا کہ ان حالات کے لئے بھی کچھ تدبیر کرتے۔ اس گرہ کو ـ ان کے کارندوں کو رسول اللہ(ص) کے نظام حکومت میں رسائی دلانے کے بغیر ـ کھولنا ممکن نہ تھا۔
یھودیوں نے مسلمانوں کی حکومت میں اثر و رسوخ پانے کے لئے ایک جماعت کو منظم کرکے حکومت نبوی کے مختلف شعبوں میں متعین کرایا۔ یہ جماعت ـ جس کے بعض اراکین کو منافقین کے عنوان سے جانا جاتا ہے ـ وہ لوگ تھے جو بظاھر اسلام لاچکے تھے لیکن ان کے دل میں اسلام کے لئے کوئی عقیدت نھیں پائی جاتی تھی اور پیکر اسلام پر ضرب لگانے کے لئے مناسب موقع کی تلاش میں تھے۔ یہ افراد ایک طرف سے پیغمبر(ص) کے قریب آئے تاکہ آپ کے بعد حکومتی نظام میں کسی عھدے اور منصب کے مالک بن سکیں اور دوسری طرف سے ایک تنظیم بنا چکے تھے جس میں ایسے لوگوں کو جگہ دی گئی تھی جو ان کے ھم فکر تھے تاکہ وہ پیغمبر(ص) کے بعد اقتدار کے حصول کے لئے ان کی حمایت کریں۔ اس طرح یھود نے منافقت کی تہہ در تہہ جماعت منظم کرکے اسلام میں تحریف و انحراف کا منصوبہ بنایا۔
خداوند متعال نے بھت سی آیات کریمہ میں ان لوگوں کی سرزنش کی ہے اور ان کے صفات بیان کی ہیں۔ تاریخی حوالوں کے مطابق، ان میں سے کئی لوگ بھیس بدل کر ظاھری طور پر اسلام کے دائرے میں آنے سے پھلے یا تو یھودی تھے یا پھر یھودیوں کے ساتھ مسلسل رابطوں میں تھے۔
بعض کتب نے ان افراد کے نام بھی بتائے ہیں؛[۵] گوکہ ان میں سے بعض دیگر کے نام کتب میں تلاش نھیں کئے جاسکتے لیکن ان کے طرز سلوک اور تاریخ حیات نیز ان کے اسلام لانے کی کیفیت سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یا تو وہ یھودی تھے یا پھر یہودیوں کے ساتھ مرتبط تھے۔ بلاذری یھودی کنیسے میں منافقین کی آمد و رفت کی خبر دیتا ہے[۶] اور دوسرے مقام پر اسلام کے دامن میں پناہ لینے والے یھودی علماء کو گنواتے ھوئے کھتا ہے: مالک بن ابی قوقل یھودی عالم تھا جو اسلام کی پناہ میں آیا لیکن وہ رسول اللہ(ص) کی خبریں یھودیوں تک پھنچاتا تھا۔[۷]
منافقین میں سے بھی کئی افراد یھودی تھے چنانچہ صدر اول میں ان دو جماعتوں کے درمیان مثبت تعلقات تھے۔ بنی قینقاع اور بنی نضیر کے دو غزوات میں رسوا ھونے والے منافق عبداللہ بن اُبی نے اپنے یھودی دوستوں کی رھائی کے لئے جو کوششیں کی ہیں وہ خود اس مدعا کی دلیل ہیں۔
یھود نے دین مسیح میں کامیاب نفوذ اور اندرون تک رسائی حاصل کرکے، یھود دشمن اور مصلح مسیحی مکتب کو کھوکھلا اور بےبنیاد بنا دیا۔ عیسائیت میں یھودی گماشتے پولس کی کوششیں یھاں تک کامیاب ھوئیں کہ صرف ایک صدی بعد، حقیقی مسیحیت کا نام و نشان تک روئے زمین پر باقی نہ رھا۔ یہ کامیاب یھودی تجربہ اسلام کے فروغ میں رکاوٹ ڈالنے کے لئے بھی یھودیوں کے کام آیا لیکن انھوں نے اس بار رسول اللہ(ص) کے بعد نھیں، بلکہ آپ کی رسالت کے آغاز سے ھی دین اسلام میں اثر و رسوخ پیدا کرنے اور رسائی پانے کی کوششوں کا آغاز کیا تھا۔
چنانچہ پیغمبر اسلام(ص) اور تمام سابقہ پیغمبروں کے درمیان بنیادی فرق پایا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سابقہ انبیاء کو صریح اور جانے پھچانے دشمن کا سامنا تھا لیکن پیغمبر اسلام(ص) کو دو رُخے اور منافق دشمنوں کا سامنا تھا جو ظاھراً ایمان رکھتے تھے اور دوسرے مسلمانوں کو بھی اپنی طرف مائل کردیتے تھے۔ یقیناً پیغمبر(ص) کے لئے ان افراد کی شناخت اور ان کا مقابلہ کرنا مسئلہ نھیں تھا لیکن معاشرہ بصیرت سے عاری تھا اور اس مڈبھیڑ کے لئے سازگار نھیں تھا۔ یھی دشمن کا اثر و رسوخ اور عوام الناس کے دلوں میں ان کی طرف رغبت ھی تھی جو پیغمبر کے لیے اذیت ناک تھی؛ یھاں تک کہ شکوہ و شکایت پر مجبور ھوئے اور فرمایا: “مَاأُوذِيَ‏ نَبِيٌّ مِثْلَ مَا أُوذِيت؛[۸] کسی بھی پیغمبر کو اتنی اذیت نھيں پھنچی جتنی کہ مجھے پھنچی”۔
یھود کے دخل انداز عناصر، دو شکلوں میں ظاھر ھوئے: بعض لوگ عبداللہ بن اُبَی، رفاعہ بن زید اور مالک بن ابی قوقل جیسے تھے جنھوں نے یھود نواز اقدامات اور یھودیوں کا دفاع کرکے ـ چاھتے ھوئے یا نہ چاھتے ھوئے ـ اپنا اصل چھرہ مسلمانوں کے سامنے عیاں کر دیا تھا؛ لیکن کچھ اور بھی تھے جنھوں نے دوسری ذمہ داریاں سنبھالی تھیں اور مأمور تھے کہ کبھی بھی اپنا نقاب نہ اتاریں اور حتی کہ جھوٹے تصنّع اور تظاھر کی مدد سے اقتدار کی چوٹیوں تک آگے بڑھیں۔ البتہ ایسا بھی نھیں ہے کہ ان افراد کا نقش پا کھیں بھی نظر نہ آیا ھو اور ان لوگوں کے نفوذ کو ثابت کرنا ممکن نہ ھو؛ لیکن وہ اپنا کام آگے بڑھانے میں کامیاب رھے نیز عوام الناس کے دلوں کو اپنے ساتھ ملا لیا اور رسول اللہ(ص) کے بعد ان کی حمایت حاصل کرلی۔
چونکہ صحابۂ رسول(ص) میں سے بھت ایسے تھے جو حقیقت قبول کرنے سے عاجز تھے، لھذا اثر و نفوذ کرکے آگے بڑھنے والوں کے نام طشت از بام کرنے کا کوئی فائدہ نھیں ہے؛ جیسا کہ پیغمبر(ص) نے کئی بار یھی کام انجام دیا جس کا تاریخ کے عمل اور یھود کے اثر و نفوذ پر کوئی اثر مرتب نھیں ھؤا۔ پیغمبر(ص) کے بعد امیرالمؤمنین نے بھی نفاق[۹] کو رسوا کرنے کی بَھتیری کوشش کی۔ امیرالمؤمنین(ع) نے خطبۂ شقشقیہ[۱۰] میں جو اپنے عقیدتمندوں کے شھر کوفہ میں دیا ہے کچھ مقدمات و تمھیدات بیان کرنے کے بعد اپنی بات مکمل نہ کرسکے، کیونکہ سننے والوں میں آپ کی بات قبول کرنے کی صلاحیت نھیں تھی۔
حقیقت یہ ہے کہ نفاق کی جماعت کچھ یھودیوں، کچھ اقتدار پرستوں اور کچھ ایسے افراد پر مشتمل تھی جو صرف اور صرف پیغمبر(ص) کے دشمن تھے۔ یعنی مشرکین، اقتدار پرست اور یھودی۔
بھت سے مشرکین منجملہ ابوسفیان نے، جو پیغمبر(ص) کے دشمن تھے، جھوٹ موٹ کا اسلام قبول کیا۔ انھوں نے اس وقت اسلام قبول کیا جب اسلام علاقے میں فروغ پا چکا تھا اور ان میں اس کا مقابلہ کرنے کی ھمّت نہ تھی۔ درحقیقت، انھوں نے بظاھر اسلام قبول کرکے سب سے پھلے اپنی جان کو محفوظ بنایا اور بعدازاں بعد کے ادوار میں اقتدار تک پھنچنے کا امکان حاصل کیا۔ مسلمانوں میں سے کچھ دوسرے بھی کسی طور اقتدار میں حصہ پانے کے درپے تھے، چنانچہ ان افراد سے بھی فائدہ اٹھایا جاتا تھا۔ تیسرا گروہ یھودیوں کا تھا؛ یہ لوگ کبھی ایمان نھیں لائے مگر ظاھری طور پر مسلمان ھوئے۔
اس تنظیم کو اس قدر طاقتور اور با اثر ھونے کی ضرورت تھی کہ رسول اللہ(ص) کے بعد اقتدار کو اپنے ھاتھ میں لے سکے؛ یھاں تک کہ رسول اللہ(ص) کے جانشین کو ھٹا دیں اور اقتدار کی چوٹی پر آپ کے متبادل بنیں۔
لیکن سوال یہ ہے کہ رسول اللہ(ص) کے بعد لوگ علی بن ابی طالب(ع) کی طرف کیوں نھیں گئے؟ اس سوال کا جواب کئی صورت میں دیا جاسکتا ہے:
۱۔ پیغمبر(ص) نے ھرگز حضرت علی(ع) کو جانشین کے طور پر متعین نھیں کیا تھا۔۔۔ یہ جواب غلط ہے کیونکہ بےشمار اور متواتر دلائل پائے جاتے ہیں کہ پیغمبر(ص) نے غدیر خم کے مقام پر حضرت علی(ع) کو ولایت اور وصایت کا منصب سونپا اور فرمایا: “مَنْ كُنْتُ مَوْلاهُ فَهذا عَلِىٌّ مَوْلاهُ”۔[۱۱]
۲۔ لوگ علی(ع) کو نھیں جانتے تھے۔۔۔ یہ بات بھی نادرست ہے کیونکہ رسول اللہ(ص) نے مختلف واقعات اور مواقع پر علی(ع) کی شان لوگوں کو متعارف کرائی تھی۔ علاوہ ازیں علی(ع) کچھ ایسے فضائل و مناقب کے مالک تھے کہ ان کی عدم معرفت کا سوال ھی نھیں پیدا ھوتا تھا۔
۳۔ لوگ پیغمبر(ص) کو نھیں مانتے تھے! ۔۔۔ یہ بھی غلط ہے؛ کیونکہ مدینہ کے عوام رسول اللہ(ص) سے اس قدر محبت کرتے تھے کہ آپ کے وضو کے پانی کے ایک قطرے کو زمین پر نھيں گرنے دیتے تھے اور تبرک کے عنوان سے اٹھا لیتے تھے۔[۱۲]
۴۔ اصحاب رسول(ص) میں جماعتِ نفاق نے اس قدر اثر و نفوذ کر رکھا تھا کہ عوام پیغمبر(ص) کے برابر میں کچھ دوسرے افراد کو بھی آپ کے ھم پلہ افراد کے طور پر ماننے لگے تھے اور ان کے اوامر و احکام کو سنتے تھے اور ان پر عمل کرتے تھے؛ یھاں تک کہ لوگوں نے ان کی پیروی کرتے ھوئے علی(ع) کی بیعت سے انکار کردیا۔ یہ فرمانبرداری اس قدر شدید تھی کہ حضرت زھرا(س) کو والد ماجد کے بعد بےانتھا آزار و اذیت کا سامنا کرنا پڑا اور جماعت نفاق کی رسوائی کی راہ میں جام شھادت نوش کرگئیں، لیکن اتنے عظیم المیے پر بھی لوگوں نے کوئی اعتراض و احتجاج نھیں کیا۔ اور سیدہ کی شھادت کا باعث بننے والے بدستور برسراقتدار رھے۔ حالانکہ لوگ بارھا دیکھ چکے تھے کہ پیغمبر(ص) فاطمہ(ص) کے چھرہ مبارک کا بوسہ لیتے ھوئے فرماتے تھے: “فاطمہ میرے وجود کا حصہ ہیں، جو انھیں ستائے اس نے مجھے ستایا ہے”۔[۱۳] “اللہ کی رضا فاطمہ(س) کی خوشنودی میں اور اللہ کا غضب ان کے غضب میں ہے”۔[۱۴] نیز فرماتے تھے: “وہ تمام جھانوں کی خواتین کی سردار ہیں”۔[۱۵]
حوالے
۱- عیاشی سمرقندی، تفسیرالعیاشی، ج۱، ص۲۰۰؛ طوسی، تھذیب الاحکام، ج۶، ص۲۔
۲- ابن ھشام، السیرۃ النبویۃ، ج۲، ص۳۳۷ و ۳۳۸۔
۳۔ رجوع کریں: تفسیرالعیاشی، ج۱، ص۲۰۰۔
۴- قرآن در دو آیت به این نکته اشاره دارد: بقره، آیت ۱۴۶؛ انعام، آیت ۲۰۔
۵- ابن ھشام، السیرۃ النبویۃ، ج۱، ص۵۲۷؛ بلاذری، انساب الاشراف، ج۱، ص۲۷۴-۲۸۲۔
۶- بلاذری، انساب الاشراف، ج۱، ص۲۷۷۔
۷- وھی ماخذ، ج۱، ص۲۸۵۔
۸- سیوطی، الجامع الصغیر، ج۲، ص۴۸۸۔
۹۔ منافقت، Hypocracy
۱۰- نھج البلاغہ، خطبہ ۲، معروف بہ خطبہ شقشقیہ۔
۱۱- کلینی، الکافی، ج۸، ص۲۷۔
۱۲- طبرسی، اعلام الوری، ج۱، ص۲۲۱؛ ابن شھر آشوب، مناقب آل ابی طالب، ج۱، ص۱۷۸۔
۱۳۔ بیھقی، السنن الکبری، ج۱۰، ص۲۰۱-۲۰۲؛ نسائی، خصائص امیرالمؤ‎منین علی بن ابیطالب(ع)، ص۱۲۱؛
۱۴- مفید، الأمالی، ص۲۶۰۔
۱۵- طبرسی، اعلام الوری، ج۱، ص۲۹۵ و ۲۹۶۔

Add comment


Security code
Refresh