www.Ishraaq.in (The world wide of Islamic philosophy and sciences)

وَأَشۡرَقَتِ ٱلۡأَرۡضُ بِنُورِ رَبِّهَا

201451
عراق کے ایک جلیل القدر عالم جناب آيت اللہ شیخ حسین الراضی نے اس سوال کے جواب میں کہ شیعہ کس طرح اتحاد یا تقریب اور مسلکی رواداری پر عمل پیرا ھو سکتے ہیں جبکہ شیعہ عقائد کے رو سے تبراء فروع دین میں شامل ہے کے جواب میں ایک مراسلہ تحریر کیا ہے جو حسب ذیل ہے:
۔ وہ لکھتے کہ : بعض لوگ یہ اشکال کرتے ہیں کہ ایک طرف تو تبراء شیعیت میں فروع دین میں سے ہے اور دوسری جانب وہ یہ کھتے ہیں کہ سب و لعن نہ کریں یعنی تبراء کرنا ترک کر دیں ، جب کہ روایت یہ کھتی ہے کہ تولا اور تبراء ایک ساتھ ہیں ۔
ھمارا جواب یہ ہے کہ ھمارا یہ کام بھی روایات کی روشنی میں ہے ۔ وہ روایات جن میں یہ آیا ہے کہ ان کے ساتھ حسن معاشرت رکھیں ان کے بیماروں کی عیادت کریں اور ان کے جنازوں کی تشییع میں شرکت کریں ۔ اس طرح کی روایات دسیوں کی تعداد میں ہیں ۔ میں مبالغہ نھیں کرنا چاھتا لیکن اگر کوئی تلاش کرے تو سینکڑوں روایات مل جائیں گی ۔
وہ خط جو امام جعفر صادق علیہ السلام نے شیعوں کے نام لکھا ہے جو روضہ کافی نام کی کتاب کے شروع میں آیا ہے اور شیعہ اس کو اپنی مسجدوں میں رکھتے تھے اور نماز کے بعد اس کو پڑھتے تھے ۔اس خط میں سب و لعن نہ کرنے کے بارے میں کچھ مسائل تھے اور کچھ ان امور کا اظھار نہ کرنے کے بارے میں کہ جن کو فریق مخالف پسند نھیں کرتا ۔
دسیوں روایتیں ہیں جن میں مذمت کی گئی ہے اور فرمایا ہے کہ صرف وھی چیزیں بیان کریں کہ جن کو وہ پھچانتے اور سمجھتے ہیں اور وہ چیزیں نہ کھیں کہ جن کو وہ ناپسند کرتے ہیں اور نھیں مانتے اور جو ان کو بری لگتی ہیں ۔ چونکہ اس کام سے خدا کا جھٹلایا جانا لازم آتا ہےاور رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور کچھ دوسری چیزوں کی تکذیب لازم آتی ہے ۔
ھم نے ان روایات کو صحیح بخاری سے نقل کیا ہے اور نہ صحیح مسلم سے بلکہ یہ روایات ھماری کتابوں سے نقل ھوئی ہیں ، کافی سے اور شیخ صدوق کی کتابوں سے ،اب ھم کیسے ان روایات کو چھوڑ کر لعن و سب کے بارے میں جو ایک یا دو روایتیں ہیں ان سے چپک جائیں ؟ یہ تھی پھلی دلیل ۔
دوسری دلیل یہ ہے کہ یہ چیز باعث نھیں بنتی کہ ھم غلط کاموں سے بیزاری اور برائت کا اعتراف نہ کریں ،اعمال سے برائت کرنے اور اشخاص سے برائت کرنے میں فرق ہے ،تبراء کی اصلی حالت اعمال سے برائت کرنا ہے ۔ کام اور رفتار اگر درست نہ ھو تو ھم اس سے خدا کی پناہ مانگتے ہیں ۔تبراء کی حالت دوسرے مذاھب و مسالک میں بھی موجود ہے ۔تولا بھی ہے اور تبراء بھی ۔ کس نے کھا ہے کہ ھم ان کاموں سے اظھار بیزاری نھیں کرتے کہ جنھیں خدا و رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اھل بیت علیھم السلام پسند نھیں کرتے ۔ ھم کھل کر اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ ھم امیر المومنین علی علیہ السلام اور ان کے اھل بیت علیھم السلام سے تعلق رکھتے ہیں ۔اور یہ کہ ھم ان کے دوستدار ہیں اور ان کے دشمنوں سے نفرت کرتے ہیں اور یہ بات کھل کر کھتے ہیں ۔ اور مسلمانوں میں سے کوئی بھی نھیں کہہ سکتا کہ میں علی ابن ابیطالب یا اھل بیت علیھم السلام سے متنفر ھوں اور ان کو دشمن سمجھتا ھوں، ناصبیوں کو چھوڑ کر کہ جو اھل بیت علیھم السلام سے دشمنی رکھتے ہیں اور اس کا بھی اعلان کرتے ہیں کہ کوئی ان کو نھیں مانتا ۔ فضائل اھل بیت علیھم السلام میں جو کتابیں اھل سنت نے لکھی ہیں وہ شیعوں سے زیادہ ہیں ۔میں نے چند ماہ پھلے ان کتابوں کے بارے میں تفصیل کے ساتھ بات کی تھی کہ جو علمائے اھل سنت نے حضرت زھراء سلام اللہ علیھا کے بارے میں لکھی ہیں ،کہ ان میں سے زیادہ تر کتابیں حضرت کے فضائل اور ان کی محبت کے بارے میں لکھی گئی ہیں ،اور وہ روایات جو چند جلدی کتابوں میں موجود ہیں ،ان سب کا میں نے حساب کیا تو پتہ چلا کہ ۱۲۰ سے زیادہ کتابیں حضرت کے بارے میں لکھی گئی ہیں ،یہ تو صرف حضرت زھرا سلام اللہ علیھا کے بارے میں ہے اھل سنت حضرت زھراء سلام اللہ علیھا کی محبت کی طرف دعوت دیتے ہیں اور آپ کو پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج اور دیگر خواتین سے بھتر مانتے ہیں ۔
طبیعی بات ہے کہ حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں اھل سنت کی کتابیں حضرت زھراء علیھا سلام سے زیادہ ہیں ۔ ایسی حالت میں آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ میں ان سے بیزار ھوں یا یہ کہ تم اھل بیت علیھم السلام کے دشمن ھو ؟
جب کہ وہ ان فضائل کو نقل کرتے ہیں اور آپ جانتے ہیں کہ اھل بیت علیھم السلام کے فضائل کی روایات جو ھم نقل کرتے ہیں وہ اھل سنت کی کتابوں سے لی گئی ہیں ۔ پس کیسے ھم ان کی کتابوں میں سے نقل کرتے ہیں اور اس کے بعد کھتے ہیں کہ آپ آئمہ اھل بیت علیھم السلام کے دشمن ھو ھمیں آپ سے بیزاری کا اظھار کرنا چاھیے ؟
یہ درست نھیں ہے اگر ھمیں کچھ اشخاص کے اعمال اور ان کی رفتار پر اعتراض ہے تو ھم اھل بیت علیھم السلام کے دشمنوں سے خدا کی پناہ مانگتے ہیں ۔ جو لوگ کھل کر دشمنی کرتے ہیں ھم ان سے کھل کر اظھار بیزار کرتے ہیں نہ چھپ کر ، یھاں تک کہ اگر وہ ھمارے سامنے ھوں اور دشمنی کا اظھار کریں تو ھم کہہ سکتے ہیں کہ ھم تم سے بیزاری کا اظھار کرتے ہیں قرآن محبت اھل بیت علیھم السلام کے واجب ھونے کی تاکید کرتا ہے [قُلْ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى (شوري/23)] اور جو ان کو دوست نھیں رکھتا وہ قرآن کا مخالف ہے اور جو قرآن کا مخالف ہے ھم اس سے بیزاری کا اظھار کر سکتے ہیں ۔
پس ھمارا رویہ اور مذھب ظاھر پر مبنی ہے اور آشکار ہے ۔لیکن مفاھیم کو مصادیق پر تطبیق دینا ،یہ فریق مقابل کے لیے قابل قبول نھیں ہے اس لیے کہ جس چیز کو آپ ان پر منطبق کرتے ہیں اس کو وہ نھیں کرتے ۔
نام لینا اور تطبیق کرنا ضروریات میں سے نھیں ہے ؛خاص کر تبراء کا تعلق تو اعتقاد اور دل سے ہے ،یہ بدنی اور جوارحی جیسے زبان وغیرہ کا عمل نھیں ہے ،تبراء قلبی عمل ہے ۔
ایسے ھی ھم شیعوں کے کچھ اعمال سے بھی بیزاری اور برائت کا اظھار کرتے ہیں اور اس میں کوئی ممنوعیت اور مشکل نھیں ہے ۔یہ لوگ جاھل ہیں جو اس طرح کی حرکتیں کرتے ہیں ۔
کتاب کافی میں ہے کہ امیر المومنین علیہ السلام غیر مسلموں کے ساتھ کیسا سلوک کرتے تھے ۔اھل بیت علیھم السلام اپنے مخالفین کے ساتھ کیسا برتاو کرتے تھے اس کے بارے میں میں نے بھت کچھ لکھا ہے ۔وھی سلوک کرتے تھے جورسولخدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے مخالفین کے ساتھ کیا کرتے تھے ۔میری سایٹ پر یہ مواد موجود ہے ۔
مرحوم کلینی نے ایک روایت کافی میں نقل کی ہے کہ امام علی علیہ السلام کھیں جا رھے تھے کہ ایک اھل کتاب ان کے ھمراہ ھو گیا ،یہ اس وقت کی بات ہے کہ جب حضرت عراق میں تھے اور وھاں سے کوفہ جانا چاھتے تھے ،وہ کتابی حیرہ کی طرف جا رھا تھا وہ ان کے ساتھ ھو گیا آپس میں باتیں کرتے کرتے ایک دو راھے پر پھنچے ۔ امیر المومنین علیہ السلام اس کتابی کافر کے ساتھ کہ جو حیرہ کی طرف جا رھا تھا اس کے ساتھ جانے لگے ۔کتابی نے کھا ؛یا آپ کوفہ نھیں جا رھے ہیں ؟ فرمایا : ھاں ، اس نے کھا ؛کوفے کا راستہ اس طرف ہے یہ حیرہ کا راستہ ہے ۔ حضرت نے فرمایا میں جانتا ھوں لیکن میں تمھارے ساتھ تمھیں رخصت کرنے کے لیے تھوڑی دور جانا چاھتا ھوں ۔اس نے کھا یہ آداب آپ کو کس نے سکھائے ہیں ؟ حضرت نے فرمایا : ھمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ھماری ایسی تربیت کی ہے ۔کتابی نے کھا اپنا ھاتھ آگے بڑھائیے کہ میں خدا کی وحدانیت اور اس کے رسول کی حقانیت کی گواھی دوں ۔
چند قدموں نے اس شخص کو اس کے باطل اعتقاد سے حق کی طرف موڑ دیا ۔ لیکن آپ ان کے بزرگوں پر لعنت بھیجتے ھو اور اس کے بعد کھتے ھو کہ ھمارے مذھب اور مسلک کی طرف آئیے ، تو کون اس کو مانے گا ؟ اصلا ایسا شخص کوئی دیوانہ ھی ھو گا کہ اس کی اور اس کے بزرگوں کی توھین کی جائے اور پھر بھی وہ کھے کہ میں تمھارا مذہب اختیار کروں گا اس لیے کہ آپ نے میرے بزرگوں کی توھین کی ہے ! وہ بزرگ کہ جن پر وہ ایمان اور اعتقاد رکھتا ہے جس طرح آپ آئمہ علیھم السلام پر اعتقاد رکھتے ھو ۔

Add comment


Security code
Refresh