www.Ishraaq.in (The world wide of Islamic philosophy and sciences)

وَأَشۡرَقَتِ ٱلۡأَرۡضُ بِنُورِ رَبِّهَا

514173
س۹۴۵۔ یھاں کچھ ایسے لوگ ھیں جن پر خمس واجب تھا مگر انھوں نے ابھی تک ادا نھیں کیا ھے ، اور فی الوقت یا تو وہ خمس دینے کی استطاعت نھیں رکھتے ھیں یا ان کے لئے خمس کا ادا کرنا دشوار ھے تو ان کے بارے میں کیا حکم ھے؟
ج۔ جن پر خمس دینا واجب ھے تنھا ادائیگی دشوار ھونے کہ وجہ سے خمس ان سے ساقط نھیں ھوسکتا ھے بلکہ جس وقت بھی اس کا ادا کرنا ان کے لئے ممکن ھو اس وقت دینا واجب ھوگا۔ وہ لوگ خمس کے ولی امر یا اس کے وکیل سے اپنی استطاعت کے مطابق خمس ادا کرنے کے لئے وقت اور مقدار کے بارے میں صلاح و مشورہ کریں۔
س۹۴۶۔ میں نے قرض پر ایک مکان اور دوکان ، جس میں کاروبار کرتا ھوں،حاصل کی ھے اور یہ قرض قسط وار ادا کررھا ھوں اور شریعت پر عمل کرتے ھوئے اپنے خمس کا سال بھی معین کرلیاھے۔ آپ سے التجا ھے کہ مجہ پر اس گھر کا خمس معاف فرمادیں جس میں میرے بچے زندگی گذار رھے ھیں۔ رھا دوکان کا خمس تو اس کو قسطوں کی شکل میں ادا کرنا میرے امکان میں ھے۔
ج۔ بنابر فرض سوال جس مکان میں آپ رھتے ھیں اس پر خمس نکالنا واجب نھیں ھے۔ رھی دوکان تو اس کا خمس دینا آپ پر واجب ھے چاھے اس کے لئے میری طرف سے جن وکلاء کو اس کام کی اجازت ھے ان میں سے کسی سے بھی صلاح و مشورہ کرنے کے بعد رفتہ رفتہ ادا کریں۔
س۹۴۷۔ ایک شخص ملک سے باھر رھتا تھا اور خمس نھیں نکالتا تھا اس نے ایک گھر غیرمخمس مال سے خریدا لیکن اس وقت اس کے پاس اتنا مال نھیں ھے جس سے وہ اپنے اوپر واجب خمس کو ادا کرے البتہ اس پر جو خمس قرض ھے اس کے عوض میں ھر سال خمس کی محسوبہ رقم سے کچھ زیادہ نکالتا رھتا ھے تو اس کا یہ عمل قبول ھوگا یا نھیں؟
ج۔ فرض سوال کے مطابق اس کو واجب خمس کی ادائیگی کے سلسلہ میں مصالحت کرنا ضروری ھے پھر وہ رفتہ رفتہ اس کو ادا کرسکتا ھے اور اب تک جتنا اس نے ادا کیا ھے وہ قبول ھے۔
س۹۴۸۔ ایک شخص جس پر چند سال کی منفعت کا خمس ادا کرنا واجب ھے لیکن اب تک اس نے خمس کے عنوان سے کچھ بھی ادا نھیں کیا ھے اور اس پر کتنا خمس نکالنا واجب ھے یہ بھی اس کو یاد نھیں ھے تو وہ کیوں کر خمس سے سبکدوش ھوسکتا ھے؟
ج۔ ضروری ھے کہ وہ اپنے ان تمام اموال کا حساب کرے جن میں خمس واجب ھے اور ان کا خمس ادا کرے اور مشکوک معاملات میں حاکم شرع یا اس کے وکیل مجاز سے مصالحت کرلینا ھی کافی ھے۔
س۹۴۹۔ میں ایک نوجوان ھوں اپنے گھر والوں کے ساتھ رھتا ھوں اور میرے والد نہ خمس نکالتے ھیں اور نہ زکوٰة ادا کرتے ھیں ، یھاں تک انھوں نے سود کے پیسے سے ایک مکان بھی بنا رکھا ھے ۔ چنانچہ اس مکان میں ، میں جو کچھ کھاتا پیتا ھوں اس کا حرام ھونا واضح ھے۔ اس بات کومدنظر رکھتے ھوئے کہ میں اپنے گھر والوں سے الگ رھنے کی استطاعت نھیں رکھتا۔ امیدوار ھوں کہ میری ذمہ داری بیان فرمائیں گے۔
ج۔ بالفرض آپ کو یہ یقین ھو کہ آپ کے باپ کے مال میں سود ملا ھوا مال ھے، یا آپ کو علم ھو کہ آپ یقین کرلیں کہ جو کچھ آپ باپ کے مال میں سے خرچ کرچکے ھیں یا خرچ کریں گے وہ آپ کے لئے حرام ھے اور جس وقت تک حرمت کا یقین نہ ھو آپ کا اس مال سے استفادہ کرنا حرام نھیں ھوگا ۔ ھاں جب حرمت کا یقین حاصل ھوجائے تو آپ کے لئے اس میں تصرف جائز نھیں ھوگا، اسی طرح جب آپ کا گھر والوں سے جدا ھونا اور ان کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا ترک کرنا موجب حرج ھو تو اس صورت میں آپ کے لئے ان کے اموال سے استفادہ کرنا جائز ھوجائے گا البتہ آپ ان اموال میں سے جس قدر خمس و زکوٰة اور دوسرے مال سے استفادہ کریں گے ان کے ضامن رھیں گے۔
س۹۵۰۔ میں جانتا ھوں کہ میرے والد خمس و زکوٰة نھیں ادا کرتے ھیں اور جب میں نے اس کی طرف ان کو متوجہ کیا تو انھوں نے یھی جواب دیا کہ ھم خود ھی محتاج ھیں لھذا ، ھم پر خمس و زکوٰة واجب نھیں ھے تو اس سلسلہ میں آپ کا کیا حکم ھے؟
ج۔ جب آپ کے پاس وہ مال نھیں کہ جس پر زکوٰة واجب ھے اور اتنا مال بھی نھیں کہ جس میں خمس واجب ھو تو ان پر نہ خمس ھے نہ زکوٰة اور اس مسئلہ میں آپ پر تحقیق کرنا بھی ضروری نھیں ھے۔
س۹۵۱۔ ھم ایسے لوگوں کے ساتھ کام کرتے ھیں جو خمس ادا نھیں کرتے، اور نہ ان کے پاس اپنا سالانہ حساب ھے تو ھم ان کے ساتھ جو خرید و فروخت اور کاروبار کرتے ھیں اور ان کے ساتھ کھاتے پیتے ھیں اس سلسلہ میں کیا حکم ھے؟
ج۔ جو اموال آپ ان لوگوں سے خرید و فروخت کے ذریعہ لیتے ھیں یا ان کے ھاں جا کر ان میں تصرف کرتے ھیں ، اگر ان میں خمس کے موجود ھونے کا یقین ھو تو ان میں آپ کے لئے تصرف جائز نھیں۔ اور جو اموال ان سے آپ خرید و فروخت کے ذریعے لیتے ھیں تو جتنی مقدار میں ان میں خمس واجب ھے اتنا معاملہ فضولی ھوگا جس کے لئے ولی امر خمس یا ا س کے وکیل سے اجازت لینا ضروری ھے۔البتہ اگر ان کے ساتھ معاشرت کھانے پینے اور ان کے اموال میں تصرف سے پرھیز آ پ کے لئے دشوار ھو تو اس صورت میں آپ کے لئے ان چیزوں میں تصرف جائز تو ھے لیکن جتنا مال آپ نے ان کا صرف کیا ھے اس کے خمس کے آپ ضامن ھوں گے۔
س۹۵۲۔ کیا جو مال کاروبار کی منفعت سے گھر خریدنے یا بنوانے کے لئے جمع کیا گیا ھے اس میں خمس دینا ھوگا؟
ج۔ اگر گھر خریدنے یا بنوانے سے پھلے جمع کئے ھوئے مال پر خمس کا سال پورا ھوجائے تو مکلف کو خمس دینا ھوگا۔
س۹۵۳۔ جب کوئی شخص کسی مسجد کے لئے ایسا مال دے جس کا خمس نھیں نکالا گیا ھے تو کیا اس کا لینا جائز ھے؟
ج۔ اگر اس امر کا یقین ھو کہ اس شخص نے جو مال مسجد کو دیا ھے اس کا خمس نھیں نکالا گیا ھے تو اس مال کا اس شخص سے لینا جائز نھیں ھے۔ اور ا گر اس سے لیا جاچکا ھے تو اس کی جس مقدار میں خمس دینا واجب ھے اتنی مقدار کے لئے حاکم شرع یا اس کے وکیل کی طرف رجوع کرنا واجب ھے۔
س۹۵۴۔ ایسے لوگوں کے ساتھ معاشرت کا کیا حکم ھے کہ جو مسلمان تو ھیں مگر دینی امور کے پابند نھیں ھیں خاص طور سے نما زاور خمس کے پابند نھیں ھیں ؟ اور کیا ان کے گھروں میں کھانا کھانے میں اشکال ھے؟ اگر اشکال ھے تو جو چند مرتبہ ایسے فعل انجام دے چکا ھو اس کے لئے کیا حکم ھے؟
ج۔ ان کے ساتھ رفت و آمد رکھنا اگر ان کے دینی امور میں لاپرواھی برتنے میں معاون و مددگار نہ ھو تو کوئی حرج نھیں ھے۔ ھاں اگر آپ کا ان کے ساتھ میل جول نہ رکھنا ان کو دین کا پابند بنانے میں موثر ھو تو ایسی صورت میں وقتی طور پر ان کے ساتھ میل جول نہ رکھنا ھی کچھ مدت کے لئے امر بالمعروف و نھی عن المنکر کے عنوان سے واجب ھے۔ البتہ ان کے اموال سے استفادہ مثلاً کھانا پینا وغیرہ تو جس وقت تک یہ یقین نہ ھو کہ اس مال میں خمس باقی ھے، اس وقت تک استفادہ کرنے میں کوئی مانع نھیں ھے ورنہ یقین کے بعد حاکم شرع یا اس کے وکیل کی اجازت کے بغیر استفادہ کرنا جائز نھیں۔
س۹۵۵۔ میری سھیلی اکثر مجھے کھانے کی دعوت دیا کرتی ھے لیکن ایک مدت کے بعد مجھے یہ معلوم ھوا ھے کہ اس کا شوھر خمس نھیں نکالتا۔ تو کیا میرے لئے ایسے شخص کے یھاں کھانا پینا جائز ھے؟
ج۔ ان کے یھاں اس وقت تک کھانا کھانے میں کوئی حرج نھیں جب تک کہ یہ معلوم نہ ھوجائے کہ جو کھانا وہ پیش کررھے ھیں وہ غیر مخمس مال سے تیار کیا گیا ھے۔
س۹۵۶۔ ایک شخص پھلی مرتبہ اپنے اموال کا حساب کرنا چاھتا ھے تاکہ ان کا خمس ادا کرسکے تو اس کے اس گھر کے لئے کیا حکم ھے جسے اس نے خریدا تو ھے لیکن اس کو یہ یاد نھیں ھے کہ کس مال سے خریدا ھے؟ اور اگر یہ جانتا ھو کہ یہ ( مکان) اس مال سے خریدا گیا ھے جو چند سال تک ذخیرہ تھا تو اس صورت میں اس کا کیا حکم ھے؟
ج۔ جب وہ خریدنے کی کیفیت سے بے خبر ھو تو بنا بر احوط اس پر واجب ھے کہ اس کے خمس میں سے کچھ دے کر حاکم شرع سے مصالحت کرلے اور اگر اس نے غیر مخمس مال سے گھر خریدا ھے تو اس پر فی الحال مکان کی قیمت کے حساب سے خمس ادا کرنا واجب ھے مگر یہ کہ اس نے ما فی الذمہ قرض سے گھر خریدا ھو اور اس کے بعد غیر مخمس مال سے اپنا قرض ادا کیا ھو تو اس صورت میں صرف اتنے ھی مال کا خمس ادا کرنا واجب ھوگا جس سے اس نے قرض چکا یا ھے۔
س۹۵۷۔ ایک عالم دین کسی شھر میں وھاں کے لوگوں سے خمس کے عنوان سے ایک رقم لیتا ھے لیکن اس کے لئے عین مال کو آپ کی جانب یا آپ کی جانب یا آپ کے دفتر کی جانب ارسال کرنا دشوار ھے تو کیا وہ یہ رقم بینک کے حوالے سے ارسال کرسکتا ھے ، یہ جانتے ھوئے کہ بھی کہ بینک سے جو مال وصول کیا جائے گا بعینہ وھی مال نہ ھوگا جو اس نے اپنے شھر میں بینک کے حوالے کیا ھے؟
ج۔ خمس یا دیگر رقوم شرعیہ بینک کے ذریعہ بھیجنے میں کوئی حرج نھیں ھے۔
س۹۵۸۔ اگر میں نے غیر مخمس مال سے زمین خریدی ھو تو اس میں نما زصحیح ھے یا نھیں؟
ج۔ اگر عین غیر مخمس اموال سے زمین کی خریداری عمل میں آئی ھے ، تو جتنی مقدار خمس کی بنتی ھے اتنا معاملہ فضولی ھے جس میں ولی امر کی اجازت ضروری ھے لھذا جب تک اس کی اجازت نہ ھو اس زمین میں نماز صحیح نہ ھوگی۔
س۹۵۹۔ جب خریدنے والا یہ جان لے کہ خریدے ھوئے مال میں خمس کی ادائیگی باقی ھے اور فروخت کرنے والے نے خمس نھیں دیا ھے تو کیا اس میں خریدنے والے کے لئے تصرف جائز ھوگا؟
ج۔ اس فرض کے ساتھ کہ بیچے ھوئے مال میں خمس ھے ، خمس کی مقدار کے برابر معاملہ فضولی ھوگا جس کے لئے حاکم شرع سے اجازت لینی ضروری ھے۔
س۹۶۰۔ وہ دوکاندار جو یہ نہ جانتا ھو کہ خریدار نے اپنے مال کا خمس ادا کیا ھے یا نھیں اور وہ اس کے ساتھ معاملہ کررھا ھے تو آیا اس کے لئے اس مال کا خمس ادا کرنا واجب ھوگا یا نھیں؟
ج۔ جب تک یہ علم نہ ھو کہ خریدار سے ملنے والی رقم میں خمس ھے خود دوکاندار پر کچھ نھیں ھے۔ اور نہ تو اس کے لئے چھان بین و تحقیق کرنا ضروری ھے۔
س۹۶۱۔ اگر چار آدمی مل کر ایک لاکہ روپے شراکت کے عنوان سے جمع کریں تاکہ اس سے کام کرکے فائدہ اٹھائیں لیکن ان میں سے ایک شخص خمس کا پابند نہ ھو تو کیا اس کی شراکت میں کام کرنا صحیح ھو گا یا نھیں؟اور آیا ان کے لئے ممکن ھے کہ اس شخص سے جو پابند خمس نھیں ھے مال لے کر اس سے فائدہ اٹھائیں ( اس طرح کہ مال قرض الحسنہ کے عنوان سے لیں) اور عام طورپر چند افراد شریک ھوں تو کیا ھر ایک پر اپنے حصہ کی منفعت سے علیحدہ طور پر خمس دینا واجب ھوگا یا اس کو مشترک کھاتے سے ادا کرنا ضروری ھے؟
ج۔ ایسے شخص کے ساتھ شریک ھونا کہ جس کے اصل مال میں خمس ھے اور اس نے ادا نھیں کیا ھے اس کا حکم یہ ھے کہ خمس کی مقدار کے برابر مال میں معاملہ فضولی ھوگا جس کے لئے حتمی طور پر حاکم شرع کی طرف رجوع کرنا ھوگا اور اگر بعض شرکاء کے لگائے ھوئے مال میں خمس باقی ھو تو شراکت کے اصل مال میں تصرف ناجائز ھوگا۔ اور جس وقت شراکت کے مال کے منافع کو افراد وصول کررھے ھیں تو ھر شخص مکلف ھے کہ وہ اپنے حصہ میں خرچ سے بچے ھوئے مال کا خمس ادا کرے۔
س۹۶۲۔ جب میرے کاروبار شریک اپنے حساب کا سال نہ رکھتے ھوئے ھوں تو میری کیا ذمہ داری ھے؟
ج۔ جو لوگ شریک ھیں ان میں سے ھر ایک پر واجب ھے کہ وہ اپنے حصہ کے حقوق شرعی کو ادا کرے تاکہ مشترک اموال میں ان کے تصرفات جائز ھوسکیں۔ اور اگر تمام شرکاء ایسے ھوں جو اپنے ذمہ کے حقوق شرعی نہ اد اکرتے ھوں اور کمپنی ( شرکت) کا توڑ دینا یا شرکاء سے جدا ھونا آپ کے لئے موجب حرج ھو تو آپ کے لئے کمپنی میں کام کو جاری رکھنے کی اجازت ھے۔

Add comment


Security code
Refresh