www.Ishraaq.in (The world wide of Islamic philosophy and sciences)

وَأَشۡرَقَتِ ٱلۡأَرۡضُ بِنُورِ رَبِّهَا

آیة اللہ سیستانی( دام ظلہ ) کی شخصیت کی خصوصیتیں

آپ سے مل اقات کرنے والے حضرات ، جلدی ھی آپ کی ممتازاورآیڈیل شخصیت کوسمجھ جاتے ہیں آپ کی شخصیت کی ان ھی خوبیوں نے آپ کوایک مکمل نمونہ عمل اورعالم ربانی بنادیاہے ۔ آپ کے فضائل اوراخلاق کے کچھ نمونہ جن کا میں نے نزدیک سے مشاھدہ کیاہے ،انھیں یھاں بیان کر رھا ھوں:

۱۔ دوسروں کی را ئے کا احترام

چونکہ آپ علم کے شیدائی ہیں اورمعرفت وحقائق تک پھنچنا چاھتے ہیں، اس لئے ھمیشہ دوسروں کی را ئے کااحترام کرتے ہیں ۔ انکے ھاتھ میں ھمیشہ کوئی نا کوئی کتاب رھتی ہے ۔ وہ کبھی بھی مطالعہ ،تحقیق،بحث اورعلماء کے نظریات کونظراندازنھیں کرتے ۔ یھی وجہ ہے کہ آپ غیر معروف علماء کے نظریات کوبھی پڑھتے ہیں اوران پرتحقیق بھی کرتے ہیں ۔ یہ روش اس بات کی علامت ہے کہ آیة اللہ سیستانی دوسروں کی را ئے کے لیے خاص توجہ اوراحترام کے قائل ہیں۔

۲۔ بات چیت میں ادب و نزاکتوں کا لحاظ :

جیسا کہ سبھی جانتے ہیں کہ طلباء کے درمیان جومباحثے ھوتے ہیں یاایک طالب علم اوراستادکے درمیان جو بحث ھوتی هے ، خاص طورپرحوزہ نجف میں ،وہ نھایت ھی سخت وگرم ھوتی ہے ۔ کبھی کبھی یہ چیزطلباء کے لیے مفید ثابت ھوتی ہے لیکن اس کے باوجود بھی بحث وگفتگومیں ھمیشہ سختی وگرمی کاھوناصحیح نھیں ہے ۔ یہ ھرگزکسی صحیح علمی مقصدتک نھیں پھنچاتی ،وقت کی بربادی کے علاوہ طلباء میں مذاکرہ کے جذبہ کوبھی ختم کردیتی ہے ۔ اسی وجہ سے جب آیة اللہ سیستانی اپنے شاگردوں کو درس دیتے ہیں یاان سے بحث کرتے ہیں تو اس بحث کی بنیادایک دوسرکے عزت واحترام پرھوتی ہے ۔ وہ اپنے شاگردوں کےاحترام کا خاص خیال رکھتے ہیں چاھے ان کے سامنے جوبحث ھو رھی ھو وہ کمزوراوربے بنیاد ھی کیوں نہ ھو ۔ آپ کی ایک دوسری خوبی یہ ہے کہ آپ اپنے شاگردوں کو جو جواب دیتے ہیں ،اس کودھراتے ہیں تاکہ وہ ، اس بات کواچھی طرح سمجھ لیں ۔ لیکن اگرسوال کرنے والااپنے نظریہ کے بارے میں ضدکرتاہے توآپ خاموش رھنا ھی پسندکرتے ہیں۔

۳۔ تربیت:

تدریس ،پیسہ کمانے کاذریعہ نھیں ہے ، بلکہ ایک بھت اھم ذمہ داری ہے۔ اسی لئے ایک اچھے ، مھربان اورشفیق استادکی یہ کوشش ھونی چاھئے کہ وہ اپنے شاگردوں کی اچھی تربیت کرے اورانھیں ایسے بلندعلمی مقام تک پھنچائے جھاں سے ترقی کے موقع فراھم ھوں ۔ اور ان ساری باتوں کالازمہ محبت ہے ۔ لیکن اچھے اور برے لوگ ھرجگہ پائے جاتے ہیں۔ جھاں کچھ لوگ لاپروا اورغیرذمہ دار ھو تے ہیں ، وھیں ایسے لوگوں کی بھی کمی نھیں ہے جومخلص،ھمدرد،مھربان، اورسمجھدار ھوتے ہیں اورجن کااصلی مقصد تدریس کی ذمہ داریوں کواچھی طرح ادا کر نا ھوتا ہے ۔

یھاں پریہ بات بھی قابل ذکرہے کہ آیة اللہ حکیم اورآیة اللہ خوئی دونوں ھی ھمیشہ بھترین اخلاق کانمونہ رھے ہیں اورجوکچھ میں نے آیة اللہ سیستانی کی زندگی میں دیکھا ، وہ وھی ان کے استادوں والا اخلاق ہے۔ وہ اپنے شاگردوں سے ھمیشہ اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ درس ختم ھوجانے کے بعد ان سے سوال کریں، حضرت آیة اللہ سیستانی ھمیشہ اپنے شاگردوں سے کھتے ہیں کہ اپنے استادوں اورعالموں کااحترام کرواوربحث وسوالات کے وقت ان کے ساتھ نھایت ادب سے پیش آؤ ۔ وہ ھمیشہ اپنے استادوں کے کردار کی بلند ی کے قصہ سناتے رھتے ہیں۔

۴۔ تقوی اورپرھیزگاری:

نجف کے کچھ علماء خودکو لڑائ جھگڑوں اور شکوے شکایتوں سے دوررکھتے ہیں، لیکن کچھ لوگ اسے حقیقت سے بچنااور فرارکرنا مانتے ہیں یااسے ڈراورکمزوری سمجھتے ہیں ۔ لیکن اگراس مسئلہ کودوسرے نکتہ نظرسے دیکھاجائے تو ھم دیکھتے ہیں کہ یہ ایک مثبت امرھی نھیں، بلکہ بھت سی جگھوں پرضروری اورمھم بھی ہے ۔ لیکن اگروھی علماء احساس کریں کہ امت اسلامی یاحوزہ، کسی خطرہ میں پڑگیاہے تویقینا وہ بھی میدان میں کودپڑیں گے کیونکہ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ھرعالم کوسخت اورحساس موقعوں پراپنے علم کااظھارکرناچاھئے ۔

ایک اھم نکتہ جسے یھاں پرذھن میں رکھناضروری ہے، وہ یہ ہے کہ آیة اللہ سیستانی فتنوں اوربلوں کے موقعوں پرھمیشہ خاموش رھتے ہیں، جیسے جب آیة اللہ بروجردی اورآیة اللہ حکیم کے انتقال کے بعد،علماء مقام ومنصب حاصل کرنے کے لیے اپنی شخصیت کو چمکانے کے چکرمیں پڑے ھوئے تھے، تب بھی آیة اللہ سیستانی اپنی ثابت سیاست پرعمل کرتے رھے ۔ انھوں نے کبھی بھی دنیوی لذتوں اورعھدے ومقام کواپنامقصدنھیں بنایا۔

۵۔ فکری آثار:

حضرت آیة اللہ سیستانی صرف ایک فقیہ ھی نھیں بلکہ ایک بلند فکر اور نھایت ذھین انسان ہیں اوراقتصادی وسیاسی میدان پر بھی آپ کی گھری نظرہے ۔ سماجی نظام وسیسٹم پربھی آپ کے بھت اھم نظریے پائے جاتے ہیں اورآپ ھمیشہ اسلامی سماج کے حالات سے باخبررھتے ہیں ۔

قابل ذکر بات ہے کہ جب آپ ۲۹ ربیع الثانی سن ۱۴۰۹ھجری میں اپنے استادآیة اللہ العظمی سیدابوالقاسم خوئی کی عیادت کے لیے گئے توآپ کے استادنے آپ سے چاھاکہ آپ ان کی جگہ پرمسجدخضراء میں امامت کی ذمہ داری سنبھال لیں ،لیکن آپ نے قبول نھیں کیا ۔ مگرجب استادمحترم نے اصرارکیااورفرمایا:کاش میں تمھیں اسی طرح حکم دے سکتا جس طرح مرحوم حاج آقاحسین قمی نے دیاتھا، تو میں بھی تمھیں قبول کرنے پرمجبورکردیتا۔ تو یہ سن کر آپ اس ذمہ ذاری کو سنبھالنے  کے لئے تیارھوئے۔

لیکن آپ نے چندروز کی مھلت مانگی اوراس کے بعد ۵ جمادی ا لاول سن ۱۴۰۹ھجری میں امامت کی ذمہ داری قبول فرمائی اوراس فریضہ کو ۱۴۱۴ھجری کے ذی الحجہ کے آخری جمہ تک انجام دیا اس کے بعد حکومت کی جانب سے اس مسجد کو بندکردیا گیا اوریہ سلسلہ قطع ھوگیا۔

   آپ سن۱۳۷۴ھجری میں پھلی بار فریضہ حج کی ادائیگی کے لیے بیت اللہ الحرام تشریف لے گئے اورا سکے بعد سن ۱۴۰۴اور ۱۴۰۵ھجری میں بھی بیت اللہ الحرام کی زیارت سے مشرف ھوئے۔

آپ کی مرجعیت :

حوزہ علمیہ نجف اشرف کے کچھ علماء نقل کرتے ہیں کہ آیة اللہ سیدنصراللہ مستنبط کے انتقال کے بعد کچھ علماء وفضلاء نے آیة اللہ خوئی سے یہ آرزو ظاھر کی کہ آپ مرجعیت کی صلاحیت رکھنے والے اپنے کسی شاگرد کو اپنے جانشین کے طور پر معین فرمادیں ، تو انھوں نے، آیة اللہ سیستانی کو ، ان کے علم،پرھیزگاری اورمضبوط نظریات کی وجہ سے انتخاب کیا ۔ شروع میں آپ آیة اللہ خوئی کی محراب میں نمازپڑھایاکرتے تھے پھرآپ ان کے رسالہ پربحث کرنے لگے اوراس پرتعلیقہ لگایا ۔ آیة اللہ خوئی کے انتقال کے بعد ان کے تشیع جنازہ میں شریک ھونے اوران کے جنازہ پرنمازپڑھنے والوں میں آپ بھی تھے ۔ آیة اللہ خوئی کے بعدحوزہ نجف کی مرجعیت کی باگ ڈورآپ کے ھاتھوں میں آگئی اورآپ نے اجازے دینے، شھریہ تقسیم کرنے اورمسجدخضراء میں آیة اللہ خوئی کے منبرسے تدریس کرنے کاکام شروع کردیا ۔ اس طرح آیة اللہ سیستانی عراق ،خلیجی ممالک،ھندوستان اورافریقہ وغیرہ کے جوان طبقہ میں جلدی ھی مشھورھوگئے۔

حضرت آیة اللہ العظمی سیستانی ایک جانے مانے عالم دین ہیں اور ان کی مرجعیت مشھورہے ۔ حوزہ علمیہ قم ونجف کے استاد اور ایک بڑی تعدادمیں اھل علم حضرات آپ کی عالمیت کے گواہ ہیں ۔

آخرمیں ھم اللہ تعالی سے دعاکرتے ہیں کہ ان کے سایہ کو ھمارے سروں پرباقی رکھے۔

Add comment


Security code
Refresh