www.Ishraaq.in (The world wide of Islamic philosophy and sciences)

وَأَشۡرَقَتِ ٱلۡأَرۡضُ بِنُورِ رَبِّهَا

408525
ابن مردویہ نے روایت نقل کی ہے کہ رسول خدا نے ارشاد فرمایا: "فِىْ الْجَنَّةِ دَرَجَةٌ تُدْعَى‏ الْوَسيلَةُ فَاذا سَأَلْتُمُ اللَّهَ فَسْأَلُوا لِىَ الْوَسيلَةَ قالُوْا: يا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ يَسْکُنْ مَعَکَ فيها؟ قالَ: عَلِىٌّ وَ فاطِمَةُ وَالْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ" جنت میں ایک مقام ہے جسے وسیلہ کہا جاتا ہے بس جب بھی خدا سے سوال کریں میرے لئے وسیله کا سوال کریں۔ پوچھا گیا یا رسول اللہ! اس مکان میں آپ کے ساتھ کون رھے گا؟ رسول اللہ نے فرمایا: علی و فاطمہ حسن و حسین علیھم السلام۔
ولادت:
تین شعبان المعظم، سال چھارم ھجرت، آسمان ولایت و امامت کے تیسرے ستارے، باغ رسالت کے پھول، فرزند رسول اللہ امام حسین علیہ السلام کی خاندان وحی و ولایت کے گھرانے میں ولادت ھوئی۔ جیسے ہی امام حسین علیہ السلام کی ولادت کی خبر جناب رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پھنچی تو آپ فوراً علی و فاطمہ سلام اللہ علیھما کے گھر تشریف لائے اور اسماء کو کہا میرے فرزند کو میرے پاس لایا جائے۔ اسماء نے امام حسین علیہ السلام کو ایک سفید کپڑے میں لپیٹا اور رسول اللہ کی خدمت میں لے گئیں، رسول اللہ نے امام حسین علیہ السلام کے دائیں کان میں آذان اور بائیں میں اقامت کہی۔ (امالی شیخ طوسی. ج١.ص٣٧٧۔)
ولادت کے پہلے دنوں میں یا ولادت کے ساتویں دن جبرائیل آمین آئے اور کہا کہ اے رسول اللہ آپ پر خدا کا درود و سلام ھو۔ خدا چاھتا ہے کہ "سَمّی هارونُ اِبْنَیه شُبَّراً و شُبَیْراً و سَمَّیتُ اِبنّی الحسنَ و الحسینَ بما سَمّی به هارونُ ابنیه" اس فرزند کا نام حضرت ھارون کے چھوٹے بیٹے کے نام "شبیر" جس کا عربی میں معنی "حسین" ہے رکھا جائے۔ (معانی الاخبار، ص٥٧)۔ اس لئے کہ علی کو آپ سے وھی نسبت ہے جو ھارون کو موسی ابن عمران سے ہے، فقط فرق یہ ہے کہ تیرے بعد کوئی نبی نھیں آئے گا۔ لہٰذا امام حسین علیہ السلام وہ با عظمت و با فضیلت شخصیت ہیں کہ جن کا اسم گرامی خود خداوند متعال نے انتخاب فرمایا۔
امام حسین علیہ السلام اھل سنت کی روایات میں:
اس مختصر سی تحریر میں امام حسین علیہ السلام کے فضائل و کمالات کے متعلق فقط ان حدیثوں کو لایا جائے گا جو برادران اھل سنت کی معتبر کتابوں میں موجود ہیں۔ تاکہ یہ بات ھمارے لئے روز روشن کی طرح واضح ھو جائے کہ معصومین علیهم السلام وہ شخصیات ہیں کہ جن کہ فضائل و مناقب اھل سنت برادران کی معتبر کتابوں میں اور معتبر علماء نے بیان کئے ہیں اگر کوئی بغض اھل بیت علیھم السلام میں انکار کرے تو اس کی اپنی بدبختی ہے۔
1۔ امام حسین علیہ السلام جنت کے جوانوں کے سردار ہیں:
رسول خدا (ص) نے ارشاد فرمایا.: "الْحَسَنُ وَ الْحُسَينُ سَيِّدا شَبابِ اهْلِ الْجَنَّةِ"
ایک اور جگہ اس عبارت کے ساتھ نقل ھوا ہے: "وَ انّ حَسَنَاً وَ حُسَيْنَاً سَيِّدا شَبابِ اهْلِ الْجَنَّة" حسن و حسین علیھما السلام جوانان جنت کے سردار ہیں۔ (سنن ابن ماجه، 1/56 ، الجامع الصغير 1/7 و 152، صواعق 185 و 189، ترمذي 13/191و192، خصائص نسائي 48، مقتل خوارزمي 92)۔
2۔ امام حسین علیہ السلام کے ساتھ رسول اللہ کی محبت:
اگر روایات اور تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ھوتا ہے کہ رسول اللہ حسنین اور علی و فاطمہ سے سب سے زیادہ محبت کرتے تھے اور یہ محبت فقط نواسے یا بیٹی یا داماد کی بنیاد پر نھیں تھی بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ایک روحی اور روحانی محبت تھی اور خدا تقاضا کرتا تھا کہ ان سے محبت کی جائے جس کا ذکر چند مقامات پر پیامبر اکرم نے کیا کہ اھل بیت علیھم السلام کا احترام خود سے نھیں کرتا بلکہ خدا یہ چاھتا ہے کہ انکا احترام کیا جائے۔ ایک جگہ پر ارشاد فرمایا: "انَا سِلْمٌ لِمَنْ سالَمْتُمْ، وَ حَرْبٌ لِمَنْ حارَبْتُمْ" کہ جس نے تم سے صلح کی میں نے اس سے صلح کی جس نے تم سے جنگ کی میں نے اس سے جنگ کی۔ اب اگر یہاں پر دقت کی جائے تو بات واضح ھو جائے گی رسول اللہ نے اھل بیت علیھم السلام کو اپنے ساتھ جنگ اور صلح کو معیار قرار دے دیا، گویا کہ رسول اللہ یہ فرما رھے ہیں ہیں لوگو! میرے ساتھ آپ کی محبت آپ کو اسی وقت ھی فائدہ دے گی جب میری اھل بیت سے محبت کرو گے، اگر اھل بیت علیھم السلام کے ساتھ بغض و عناد ہے تو میری محبت کبھی بھی تمھیں فائدہ نھیں دے گی۔ (اابن ماجه 1/65، سنن ترمذي 13/248)۔
ایک اور مقام پر حسنین علیھما السلام کے متعلق ارشاد فرمایا: "اللَّهُمَّ انّى‏ احِبُّهُما فَاحِبَّهُما وَ احِّبَّ مَنْ يُحِبُّهُما" خدایا میں حسنین سے محبت کرتا ھوں تو بھی ان سے محبت کر اور جو ان دونوں سے محبت کرے اس کے ساتھ بھی محبت کر۔ (الاستيعاب 1/376)۔ ایک مقام پر پھر ارشاد فرمایا: "احَبُّ اهْلِ بَيْتى‏ الَىَّ الْحَسَنُ وَ الحُسَين" میرے نزدیک میری اھل بیت میں سے محبوب ترین حسن و حسین ہیں۔ (ترمذي 13/194، مصابيح السنة 2/281)
3۔ امام حسین علیہ السلام رسول اللہ کے پھول:
رسول خدا صلی نے ارشاد فرمایا، "انَّ الْحَسَنَ وَ الْحُسَينَ هُما رَيْحانَتاىَ مِنَ الدُّنْيا" حسن و حسین دنیا میں سے میرے دو پھول ہیں۔ ایک دوسری روایت میں نقل ھوا ہے. "الْوَلَدُ رَيْحانَةٌ وَ رَيْحانَتىّ الحَسَنُ وَ الحُسَينُ" بیٹا پھول ہے اور میرے دو پھول حسن و حسین ہیں۔ ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا. "انَّ ابْنىَّ هذَيْنِ رَيْحانَتاىَ مِنَ الدُّنيا" یعنی یہ دونوں میرے بیٹے میرے پھول ہیں (بخاري 2/188، ترمذي 13/193، اسد الغابة 2/19)
4۔ امام حسین علیہ السلام سب سے زیادہ رسول اللہ کے مشابہ ہیں:
بخاری اور ابن اثیر سے روایت ہے کہ جب امام حسین علیہ السلام کے سر کو طشت میں رکھ کر عبداللہ ابن زیاد کے سامنے رکھا گیا اور اس ملعون نے چھڑی کے ساتھ بی ادبی کی تو اس وقت دربارہ میں بیٹھے انس نے کھا کہ حسین اھل بیت علیھم السلام میں سے سب سے زیادہ رسول اللہ کے مشابه ہیں۔ (صحيح بخاري 2/188)
5۔ امام حسین علیہ السلام سے محبت سب پر واجب ہے:
یعلی بن مرہ سے روایت ہے کہ ایک دن حسن و حسین دوڑ کر رسول خدا کی خدمت میں حاضر ھوئے ان میں سے ایک دوسرے سے پہلے رسول خدا صلی کے پاس پھنچ گیا، رسول خدا نے اپنے بازو اس کے گلے میں ڈالے اور سینے سے لگا لیا اور بوسہ دیا پھر ارشاد فرمایا : "انّى‏ احِبُّهُما فَاحِبُّوهُما" میں ان دونوں کو سے محبت کرتا ھوں بس تم بھی ان دنوں محبت کرو۔ ( ذخاير العقبي 123)۔
اسی طرح ترمذی اور احمد نے روایت نقل کی ہے: "انَّ رسُولَ اللَّه (ص) اخَذَ بِيَدِ حَسَنٍ وَ حُسَيْنٍ فَقَالَ: مَنْ احَبَّنى‏ وَ احَبَّ هذَيْنِ وَ اباهُما وَ امَّهُما کانَ مَعى‏ فى‏ دَرَجَتى‏ يَوْمَ الْقِيامَةِ " رسول خدا نے حسن و حسین کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا کہ جو مجھے سے محبت کرتا ہے وہ ان دونوں سے اور انکے باپ اور انکی ماں سے محبت کرے، جو ایسا کرے گا وہ قیامت والے دن میرے ساتھ بلند مقام پر ھو گا۔ (ترمذي 13/176، کنزل العمال 6/216، صواعق 185)۔
6۔ امام حسین علیہ السلام کا بلند مقام:
ابن مردویہ نے روایت نقل کی ہے کہ رسول خدا نے ارشاد فرمایا: "فِىْ الْجَنَّةِ دَرَجَةٌ تُدْعَى‏ الْوَسيلَةُ فَاذا سَأَلْتُمُ اللَّهَ فَسْأَلُوا لِىَ الْوَسيلَةَ قالُوْا: يا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ يَسْکُنْ مَعَکَ فيها؟ قالَ: عَلِىٌّ وَ فاطِمَةُ وَالْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ" جنت میں ایک مقام ہے جسے وسیلہ کہا جاتا ہے بس جب بھی خدا سے سوال کریں میرے لئے وسیله کا سوال کریں۔ پوچھا گیا یا رسول اللہ! اس مکان میں آپ کے ساتھ کون رھے گا؟ رسول اللہ نے فرمایا: علی و فاطمہ حسن و حسین علیھم السلام۔ (کنز العمال 6/217، اسد الغابه 5/523)۔
7۔ امام حسین علیہ السلام اور رسول اللہ جنت میں ایک مکان میں:
احمد طبرانی و ابن اثیر نے حضرت علی علیہ سے اور حاکم نے مستدرک میں ابی سعید سے روایت نقل کی ہے رسول اللہ نے جناب فاطمہ سلام اللہ علیھا کو فرمایا: "يا فاطِمَةُ، انّى‏ وَ ايّاک، وَ هذا الرَّاقِدَ يَعْنى‏ عَلِيًّا وَ الْحَسَنَ وَ الْحُسينَ يَوْمَ القِيامَةِ لَفِى مَکانٍ واحِدٍ"۔ یعنی اے فاطمہ میں اور آپ اور یہ جو سو رھا ہے (یعنی علی) حسن اور حسین قیامت کے دن ایک جگہ پر ھوں گے۔ (کنز العمال 6/216)
8۔ امام حسین علیہ السلام کی مدد کرنا واجبات میں سے ہے:
انس بن الحارث بن نے اپنے باپ کہ اصحاب صفہ میں سے ہے روایت نقل کی ہے کہ میں نے سنا رسول اللہ نے حسین کے دامن کو پکڑ کر فرمایا: "انَّ ابْنى‏ هذا يُقْتَلُ فى‏ ارْضٍ يُقالُ لَهَا الْعِراقُ فَمَنْ ادْرَ کَهُ فَلْيَنْصُرْهُ" بتحقیق یہ میرا بیٹا ایسی زمین میں جسے عراق کھتے ہیں قتل کیا جائے گا، بس جو بھی وقت ھو اسے چاھیئے کہ میرے بیٹے کی مدد کرے۔
اسی طرح سیوطی نے بغوی اور ابن السکن اور بارودی اور ابن مندہ اور ابن عساکر نے انس بن حارث سے روایت نقل کی ہے: "انَّ ابْنى‏ هذا يُقْتَلُ بِارْضٍ مِنَ الْعِراقِ يُقالُ لَها کَرْبَلا فَمَنْ شَهِدَ ذلکَ مِنْهُم فَلْيَنصُرْهُ" بتحقیق یہ میرا بیٹا عراق کی سرزمین پر جس کا نام کربلا ہے قتل کیا جائے گا بس جو بھی اس وقت موجود ھو اس پر واجب ہے کہ اس کی مدد کرے۔ (کنز العمال 6/223)۔
9۔ حضرت مھدی ﴿عج ﴾اولاد حسین علیہ السلام سے ہیں:
خذیفہ نے رسول خدا (ص) سے نقل کیا ہے، "لَوْلَمْ يَبْقَ مِنَ الدُّنْيا الّا يَوْمٌ واحِدٌ لَطَوَّلَ اللَّهُ ذلِکَ الْيَومَ حتّى‏ يَبْعَثَ رَجُلًا مِنْ وُلْدِى‏ اسْمُهُ کَاسْمِى فَقالَ سَلْمانُ: مِنْ اىِّ وُلْدِکَ يا رَسُولَ اللَّه؟ قالَ: مِنْ وُلْدى‏ هذا وَ ضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى الْحُسَيْنِ۔" اگر اس دنیا کا ایک دن ہی باقی کیوں نہ رہ جائے پھر بھی خداوند متعال اس ایک دن کو اتنا لمبا کرے گا یہاں تک کہ ایک مرد کو میرے بیٹوں میں سے کہ جس کا نام میرا نام ہے مبعوث کرے گا، سلمان نے سوال کیا، یا رسول اللہ وہ آپ کے کونسے بیٹے کی اولاد میں سے ھو گا، رسول اللہ نے فرمایا: اس فرزند کی اولاد میں سے اور ساتھ ھی امام حسین علیہ السلام پر ہاتھ رکھا یعنی امام حسین علیہ السلام کی اولاد میں سے ھو گا۔ (ذخائر العقبي 136)۔
10۔ امام مھدی عج امام حسین علیہ السلام کے نویں فرزند ہیں:
سلمان سے روایت ہے وہ کھتا ہے میں رسول خدا کے پاس گیا میں نے دیکھا رسول اللہ نے امام حسین علیہ السلام کو زانو پر بٹھایا ھوا تھا رسول اللہ نے اپنا رخ امام حسین علیہ السلام کی طرف کیا اور انکے منہ پر بوسہ دیا اور فرمایا: تو خود امام ہے امام کا بیٹا ہے اور امام کا باپ ہے، تو حجت ہے، حجت کا بیٹا ہے اور تو نو حجتوں کا باپ ہے وہ نو حجتیں آپ کے صلب میں سے ہیں کہ ان میں سے نویں حجت قائم آل محمد عج ہیں۔ (مقتل خوارزمي 146، ينابيع المودة 445)۔
11۔ رسول خدا صلی کا امام حسین علیہ السلام کے لئے دعا کرنا:
طبرانی نے واثله سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ علی فاطمہ اور حسن و حسین کے لئے اس طرح دعا فرماتے تھے: "الَلّهُمَّ انَّکَ جَعَلْتَ صَلَواتِکَ وَ رَحْمَتَکَ وَ مَغْفِرَتَکَ وِ رِضْوانَکَ عَلى‏ ابراهيمَ و آلِ إِبْراهيمَ اللَّهُمَّ انَّهُم مِنّىِ وَ انَا مِنْهُم فَاجْعَلْ صَلَواتِکَ وَ رَحْمَتَکَ وَ مَغْفِرَتَکَ وَ رِضْوانَکَ عَلَىَّ وَ عَلَيْهِم يَعنِى عَلِيّاً وَ فاطِمَةَ وَ حَسَناً وَ حُسَيناً" خدایا تونے صلوات، رحمت، مغفرت، اور اپنی خوشنودی ابراهیم اور آل ابراهیم کے لئے قرار دی ہیں، خدایا علی و فاطمہ و حسن و حسین مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں، بس ان کے لئے بھی صلوات، رحمت، مغفرت اور اپنی خوشنودی قرار دے۔ (کنز العمال 6/217)۔
12۔ امام حسین علیہ السلام وہ ہیں جو جنت میں سب سے پہلے جائیں گے:
حاکم اور ابن سعید نے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ نے علی علیہ السلام کو فرمایا "انَّ اوَّلَ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ انَا وَ انْتَ وَ فاطِمَةُ وَ الْحَسَنُ وَ الْحُسَيْنُ قالَ عَلِىٌّ: فَمُحِبُّونا؟ قالَ: مِنْ وَرَائِکُمْ"یعنی جو سب سے پہلے جنت میں داخل ھو گا وہ میں تو (علی) فاطمہ حسن و حسین ھوں گے۔ علی علیہ السلام نے سوال کیا، یا رسول اللہ ہمارے ماننے والوں کا کیا بنے گا؟ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :وہ ھمارے پیچھے پیچھے آئیں گے۔ (کنز العمال 6/216، صواعق 151)
13۔ امام حسین علیہ السلام رسول اللہ کے عضو ہیں:
صحاح الستہ میں روایت ہے کہ رسول خدا نے ارشاد فرمایا: "ان الحسنین علیهما السلام عضوان من أعضاء النبی ولا یرض لها ما حر الشمس" حسن و حسین میں اعضاء میں سے دو عضو ہیں، میں راضی نھیں ھوں کہ ان کو سورج گرمی بھی لگے۔ (فضایل الخمسه من الصحاح الستة ، ج3، ص169-173)۔
14۔ امام حسین علیہ السلام اصحاب کساء میں سے ہیں:
جناب عائشہ نقل کرتی ہیں کہ ایک دن رسول اللہ کو دیکھا، صبح کے وقت سیاہ بالوں سے بنی ھوئی چادر زیب تن کی ھوئی تھی، اسی اثناء میں امام حسن علیہ السلام آئے ان کو عبا کے نیچے لے لیا۔ اس کے بعد امام حسین علیہ السلام آئے ان کو بھی اپنی عبا کے نیچے داخل کر لیا، حضرت زهرا سلام اللہ علیھا آئیں وہ بھی چادر کے نیچے چلی گئیں، پھر علی علیہ السلام آئے وہ بھی چادر کے نیچے چلے گئے، جب یہ سارے چادر کے نیچے جمع ھو گئے تو رسول اللہ نے آیت تطھیر کی تلاوت فرمائی، "إنّما یُرِیدُ اللَّهُ لِیُذْهِبَ عَنکُمُ الرِّجْسَ أهْلَ الْبَیْتِ وَیُطَهِّرَکُمْ تَطْهِیرًا"
15۔ امام حسین علیہ السلام کا جنت کے دروازے پر:
ابن عباس کھتا ہے رسول خدا صلی نے فرمایا: "لا إِله إلاّ الله محمد رسول الله، علی حبیب الله، الحسن و الحسین صفوة الله، و فاطمة خیرةُ الله" جس رات کو معراج پر گیا ھوں، وھاں پر دیکھا تو جنت کے دروازے پر حسین علیہ السلام کا نام لکھا ھوا تھا۔ (كشف الغمة؛ج 1، ص 526)
تحریر: ساجد محمود

Add comment


Security code
Refresh