www.Ishraaq.in (The world wide of Islamic philosophy and sciences)

وَأَشۡرَقَتِ ٱلۡأَرۡضُ بِنُورِ رَبِّهَا

n00811498 b
انسان تاریخی واقعات پر دو انداز میں نظر ڈال سکتا ہے۔ ایک قسم کی نگاہ انتھائی سطحی ہے جس میں تاریخ میں گزرے تلخ اور شیرین واقعات کا صرف ظاھری حد تک علم حاصل کیا جاتا ہے۔ اس قسم کی نگاہ صرف ان واقعات تک محدود رھتی ہے اور ان کی پیچھے کارفرما عوامل اور اسباب کا علم حاصل کرنے یا ان میں پوشیدہ پیغامات کو کشف کرنے کی کوشش نھیں کی جاتی۔


لیکن دوسری قسم کی نگاہ انتھائی بصیرت آمیز اور گھری ھوتی ہے۔ اس انداز میں نہ صرف واقعات سے آگاھی حاصل ھوتی ہے بلکہ ان کے اسباب، ان میں کارفرما موثر عوامل اور ان میں پوشیدہ پیغامات اور سبق کا علم بھی حاصل کیا جاتا ہے۔ تحریر حاضر میں ھم دوسرے انداز میں واقعہ غدیر خم پر نگاہ ڈالنا چاھتے ہیں۔ غدیر خم کے واقعے میں پوشیدہ چند اھم پیغامات درج ذیل ہیں:
1۔ خلیفہ اور وصی پیغمبر اکرم ﴿ص﴾ منصوب من اللہ ھونا چاھئے
واقعہ غدیر خم کا ایک انتھائی واضح اور روشن پیغام یہ ہے کہ جس طرح رسول اور نبی کو خود خداوند متعال چنتا ہے اور اس کا چناو عوامی الیکشن کے ذریعے ممکن نھیں بالکل اسی طرح نبی کا خلیفہ اور وصی بھی خدا کی جانب سے چنا اور مقرر کیا گیا ہے۔
دوسرے الفاظ میں یہ کہ جس طرح خود نبی منصوب من اللہ ھوتا ہے اسی طرح نبی کا وصی بھی منصوب من اللہ ھوتا ہے۔ یہ حقیقت غدیر خم کے واقعے سے کئی سال پھلے خداوند متعال سورہ احزاب میں بیان کر چکا تھا۔ ارشاد باری تعالی ھوا:
وَمَا کـانَ لِمـُؤْمِنٍ وَلاَ مـُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَی اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْراً أَن یکونَ لَهُمُ الْخِیرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ وَمَن یعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فـَقَدْ ضـَلَّ ضـَلاَلاً مُّبِیناً (سورہ احزاب، آیت 36﴾
ترجمہ: "کسی مومن مرد اور عورت کو خدا یا اس کے رسول کی جانب سے کوئی حکم ملنے کے بعد اختیار کا حق حاصل نھیں ہے۔ اور جو بھی خدا اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا وہ واضح گمراھی کا شکار ھو جائے گا۔"
لھذا رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد اسلامی معاشرے کے حکمران اور ولی کے طور پر خدا کی جانب سے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے غدیر خم کے میدان میں علی علیہ السلام کا تقرر فرما دیا تھا۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے واقعہ غدیر کے بعد اپنی مختصر زندگی کے دوران اس مسئلے پر بارھا تاکید بھی فرمائی ہے۔
جب آنحضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قبیلہ عامر بن صعدہ کو اسلام کی دعوت دی اور انھوں نے اسلام قبول کرنے کا ارادہ ظاھر کیا تو اس قبیلے کا سربراہ آپ ﴿ص﴾ کے پاس آ کر کھنے لگا: "اگر ھم اسلام قبول کر لیتے ہیں اور آپ کی اطاعت کرتے ہیں تو مستقبل میں کامیابی کی صورت میں آیا ھم میں سے کسی کو اپنا خلیفہ بنائیں گے تاکہ آپ کی وفات کے بعد حکومت ھمارے پاس آ سکے؟"
رسول خدا ص نے اس کے جواب میں فرمایا: "اِنَّ الاَمْرَ اِلَی الله یَضَعَهُ حَیْثَ یَشَاءُ" (عبدالحسین امینی، الغدیر، جلد 7، صفحہ 134)۔ یعنی "(حکومت کا) امر خدا کے ھاتھ میں ہے، وہ جسے چاھے گا عطا کر دے گا۔" عقل بھی اس کی تصدیق کرتی ہے۔ کیسے ممکن ہے نبی خدا کی جانب سے منتخب ھو اور اس کے بعد خدا اسلامی معاشرے کو اپنے حال پر چھوڑ دے اور معاشرے کے حکمران کا انتخاب عوام کے سپرد کر دے۔
2۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے
ھر قوم اور معاشرے کیلئے اھم ترین اور بنیادی ترین مسئلہ حکومت ھوتا ہے۔ ھر معاشرہ اس مسئلے کا ایک خاص راہ حل نکال چکا ہے لیکن اکثر جگہ حکومت کا ماڈل ناقص ہے۔ غدیر خم کے میدان میں خداوند متعال نے اسلامی معاشرے کو حکومت کا جو ماڈل عطا کیا وہ کسی قسم کے نقص و عیب سے پاک اور کامل ترین ماڈل ہے کیونکہ اس کی مرکزیت میں ایک ایسا انسان قرار پایا ہے جو خدا کا مقرر کردہ اور ھر قسم کی خطا سے محفوظ اور معصوم ہے۔
غدیر خم میں خدا کی جانب سے بنی نوع انسان کو عطا کئے جانے والا حکومتی ماڈل ایک عالمی الھی حکومت تشکیل دینے کی صلاحیت کا حامل ہے۔
رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے امام علی علیہ السلام کی ولایت کا اعلان کرنے سے پھلے وھاں موجود مسلمانوں کی کثیر تعداد سے پوچھا: "اَلَستُ اَوْلَی بِکُمْ مِنْ اَنْفُسِکُمُ" (الغدیر، جلد 1، صفحہ 35)۔ یعنی کیا میں تم پر خود تم سے زیادہ حق نھیں رکھتا؟ سب نے مل کر کھا: "بلی یا رسول اللہ" اس کے بعد رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: "من کنت مولاہ فھذا علی مولاہ"
آنحضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اس اقدام سے یہ شائبہ دور ھو جاتا ہے کہ لفظ "ولی" حاکم کے معنی میں نھیں بلکہ صرف "دوست" کے معنی میں ہے۔ کیونکہ دوسروں پر خود ان سے زیادہ حقدار ھونا صرف حکومتی امور میں ھی قابل مشاھدہ ہے۔
رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے گویا یہ سمجھا دیا کہ میں جس ولایت کا ذکر کر رھا ھوں وہ معاشرے کی سرپرستی، مدیریت اور حکومت کے معنی میں ہے۔ اگرچہ ان شواھد کے باوجود بھت سوں نے لفظ "ولی" سے صرف دوستی مراد لیتے ھوئے نصب الھی کا انکار کر دیا اور نظریہ انتخاب کی جانب چلے گئے۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اس جملے (اَلَستُ اَوْلَی بِکُمْ مِنْ اَنْفُسِکُمُ) کے علاوہ بھی ایسے ٹھوس شواھد موجود ہیں جن سے ظاھر ھوتا ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مراد صرف یہ نھیں تھی کہ علی علیہ السلام سے محبت اور دوستی کرتے رھنا بلکہ لفظ "مولا" سے آنحضور ﴿ص﴾ کی مراد حکمران اور حکومتی اختیارات تھے۔
ایک دلیل یہ ہے کہ جب غدیر خم کے میدان میں آنحضور ﴿ص﴾ نے حاجیوں کو جمع ھونے کا حکم دیا تو اس وقت شدید گرمیوں کا موسم تھا اور حاجی بھی حج مکمل کرنے کے بعد تھکے ھوئے تھے اور گھروں کو واپس جا رھے تھے۔ کیا اتنی شدید گرمی میں حاجیوں کی اتنی بڑی تعداد کو جمع کر کے ایک طویل خطبہ دینے کے بعد یہ کھنا معقول ہے کہ علی علیہ السلام سے محبت اور دوستی رکھنا یا یہ کہ اسلامی معاشرے کے آئندہ سرپرست اور حاکم شرع کا مسئلہ درکار تھا۔

3۔ ولایت علی علیہ السلام دین کے اکمال کا مظھر
حجاز میں اسلام کے آغاز سے ھی کفار اور مشرکین یہ امید لگائے بیٹھے تھے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات کے بعد یہ دین بھی ختم ھو جائے گا۔ انھوں نے ابتدا میں جنگ کے ذریعے اسلام ختم کرنے کی کوشش کی لیکن ناکامی کا شکار ھونے کے بعد اسلام کے خلاف مختلف قسم کی سازشیں کرنا شروع ھو گئے۔ اس بار بھی وہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ان کے مخلص اور باوفا ساتھیوں کی استقامت اور شجاعت کا مقابلہ نہ کر سکے۔ اب ان کی آخری امید رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو شھید کر دینے یا ان کی وفات کا انتظار کرنے پر استوار تھی۔ وہ سمجھتے تھے کہ جب دین مبین اسلام کا بانی دنیا میں نہیں رھے گا اور اس کا کوئی بیٹا بھی نھیں ہے تو یقیناً اس کا لایا ھوا دین بھی ختم ھو جائے گا۔ ان کی نظر میں نعوذ باللہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حکومت اور اقتدار کے حصول کیلئے نبوت اور اسلام کا ڈھونگ رچا رکھا تھا۔ لھذا وہ سوچتے تھے کہ جب رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ھی دنیا میں نھیں رھیں گے تو مسلمانوں کا اقتدار بھی ختم ھو جائے گا۔
لیکن جب واقعہ غدیر خم رونما ھوا اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خدا کی جانب سے اپنے سپرد کی گئی ذمہ داریاں امام علی علیہ السلام کے حوالے کیں اور انھیں اپنے بعد اسلامی معاشرے کا سرپرست اور ولی مقرر کر دیا تو کفار اور مشرکین کی اس آخری امید پر بھی پانی پھر گیا۔
امام علی علیہ السلام ولایت کے مقام پر فائز ھونے سے پھلے ھی مسلمانوں کے درمیان شجاعت، علم اور تقوی کے لحاظ سے معروف تھے۔ خداوند متعال نے غدیر خم میں امام علی علیہ السلام کی ولایت کا اعلان کئے جانے کے بعد یہ آیت نازل فرمائی:
"الْیوْمَ یئِسَ الَّذِینَ کـفَرُوا مـِن دِیـنِکمْ" (سورہ مائدہ، آیت 3)
ترجمہ: "آج کفار آپ کے دین سے مایوس ھو گئے ہیں۔"
غدیر خم کے واقعے نے ثابت کر دیا کہ امام علی علیہ السلام کی ولایت دین کا اکمال اور خداوند متعال کی عظیم نعمت کی تکمیل تھا۔ یہ عظیم نعمت درحقیقت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ولایت تھی جس کی تکمیل امام علی علیہ السلام اور ان کی نسل سے باقی گیارہ معصوم اماموں کی ولایت کی صورت میں ھوئی۔
4۔ غدیر خم، اتحاد بین المسلمین کا محور و مرکز
رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے غدیر خم میں امام علی علیہ السلام کی ولایت کا اعلان کرنے کے بعد سب کو علی علیہ السلام کے ھاتھ پر بیعت کرنے کا حکم دیا۔ آپ ﴿ص﴾ نے اس موقع پر فرمایا:
"أَلا وَ إِنِّی قَد بایَعتُ اللهَ وَ عَلیٌ قَد بَایَعنِی و أَنا آخِذُکُم بِالبَیعَةِ لَهُ عَن الله عـَزَّ وَ جَلَّ: إِنَّ الَّذینَ یُبایِعُونَکَ إِنَّما یُبایِعُونَ اللَّهَ یَدُ اللَّهِ فَوْقَ أَیْدیهِمْ فَمَنْ نَکَثَ فَإِنَّما یَنْکُثُ عَلی نَفْسِهِ وَ مَنْ أَوْفی بِما عاهَدَ عَلَیْهُ اللَّهَ فـَسَیُؤْتیهِ أَجْراً عَظیما" (الاحتجاج، جلد 1، صفحہ 158)
ترجمہ: "اے لوگو، آگاہ رھو کہ میں نے خدا کی بیعت کی ہے، علی نے میری بیعت کی ہے اور اب میں خدا کے حکم سے علی کی امامت کیلئے تم سے بیعت لوں گا: اے پیغمبر، جو افراد تمھارے ھاتھ پر بیعت کرتے ہیں درحقیقت خدا کی بیعت کرتے ہیں اور خدا کی طاقت سب پر حاوی ہے۔ پس جو بھی بیعت توڑے گا خود کو ھی نقصان پھنچائے گا اور جو خدا سے کئے گئے عھد پر استوار رھے گا خدا اسے عظیم اجر عطا فرمائے گا۔"
خم کے میدان میں موجود تمام حاضرین نے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم پر علی علیہ السلام کے ھاتھ پر بیعت کی یعنی ان سے عھد کیا کہ ان کے مطیع رھیں گے اور ان کے خلاف محاذ آرائی نھیں کریں گے اور ان سے منہ نھیں موڑیں گے۔ اس بیعت کا مقصد امت مسلمہ کی باگ ڈور امام علی علیہ السلام کے ھاتھ میں دینا تھی کیونکہ علی علیہ السلام کے فیصلے خدا کی مرضی کے مطابق انجام پاتے تھے اور علی علیہ السلام کی بیعت درحقیقت خدا کی بیعت تھی۔ اھلسنت کے معروف مفسر فخر رازی اس بارے میں کھتے ہیں:
"من اتخذ علیا امـاماً لدیـنه فـَقَدِ اسْتمسکَ بِالْعُرْوَةِ الوثْقَی فی دینهِ ونَفْسِهِ" (مفاتیح الغیب، جلد 1، صفحہ 182)
ترجمہ: "جس نے بھی دین میں علی کو امام قرار دیا درحقیقت اس نے اپنے دین اور اپنے وجود کیلئے انتھائی مضبوط رسی کو تھام لیا۔"
پس رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مسلمانوں کو امام علی علیہ السلام کے ھاتھ پر بیعت کا حکم دے کر درحقیقت علی علیہ السلام کی صورت میں مسلمانوں کو اتحاد اور وحدت کا مرکز فراھم کر دیا تھا۔ یوں واقعہ غدیر خم کسی خاص اسلامی فرقے سے مخصوص نھیں بلکہ پوری امت مسلمہ سے متعلق ہے۔


تحریر: جعفر وفا

Add comment


Security code
Refresh