بحرین کے بزرگ عالم دین اور منامہ کے نواحی علاقے الدراز کی مسجد امام صادق(ع) کے امام جمعہ و جماعت آیت الله شیخ عیسی احمد قاسم نے
جمعہ (13ستمبر 2013 کو) نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ھوئے بحرین کے اس ملک کی سیاسی جماعتوں اور تنظیموں و اداروں کے بیرونی تعلقات محدود کرنے کے سلسلے میں خلیفی وزیر قانون کے فیصلے پر کڑي نکتہ چینی کرتے ھوئے کھا کہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں 47 ملکوں کا بیان اس حقیقت کی غمازی کرتا ہے کہ بحرین میں انسانی حقوق کی نھایت افسوسناک صورت حال ان ممالک کی تشویش کا سبب بنی ھوئی ہے۔
آیت اللہ شیخ عیسی قاسم نے نماز جمعہ کے خطبوں کے ضمن میں کھا: یہ جو حکومت سیاسی جماعتوں اور تنظیموں کو بیرونی ممالک کے ساتھ تعلقات قائم کرنے سے روکنا چاھتی ہے اس کے معنی یہ ہیں کہ حکمران چاھتے ہيں کہ وہ تمام مخالف جماعتیں اور تنظیمیں جو دوسرے ممالک اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے رابطہ کرکے انھیں بحرین میں انسانی حقوق کی افسوسناک صورت حال سے آگاہ کرنا چاھتی ہیں، وہ ناکارہ اور مھمل و بے معنی تنظیموں میں بدل جائیں اور بامر مجبوری عوامی اور انسانی فرائض کو ترک کرے اپنی سیاسی بقاء کے لئے حکومت کا ساتھ دینا شروع کریں۔
بحرین کے اس نامی گرامی عالم دین نے کھا: یہ قوانین اور یہ شدید دباؤ اس لئے ہے کہ حکومت مخالفین اور حزب مخالف کی صدا بند ھونی چاھئے اور تمام مخالفین حکومت کے ساتھ ھوں؛ حتی اگر ان کے تمام تر حقوق سلب ھوں پھر بھی وہ حکومت کے ساتھ رھیں۔
انھوں نے کھا کہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی چوبیسویں نشست میں بحرین میں انسانی حقوق کی صورت حال پر تشویش پر مبنی 47 ملکوں کا بیان اس حقیقت کا غماز ہے کہ یہ ممالک اس ملک میں انسانی حقوق کی افسوسناک صورت حال کی نسبت فکرمند ہیں۔
آیت اللہ شیخ عیسی قاسم نے مزید کھا: بحرینی حکومت نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے سابقہ اجلاس کی سفارشات نیز بسیونی کی سرکردگی میں فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی سفارشات پر عملدرآمد نھیں کیا اور انسانی حقوق کی پامالی اور آزادی اظھار کی سرکوبی کا سلسلہ جاری رکھا اور نوبت یھاں تک پھنچی کہ اس ملک میں افراد یا سیاسی تنظیموں کے لئے اظھار کی آزادی نامی کوئی چیز باقی نھیں رھی ہے۔
انھوں نے کھا: آل خلیفہ کی حکومت ایسے حال میں انسانی حقوق کی پامالی کی بنا پر لائق مذمت ٹھہری ہے کہ اس حکومت نے اپنی تمام تر کوششیں حقائق کو الٹ پلٹ کر پیش کرنے پر صرف کی ہے جو بذات خود بحرین میں انسانی حقوق کی نازک صورت حال کا ثبوت ہے۔
شیخ عیسی قاسم نے کھا: انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں میں 47 ملکوں کا بیان بحرین میں انسانی حقوق کی نازک صورت حال پر بین الاقوامی شھادت کے مترادف ہے؛ وہ بحرین جس کے تمام باشندے ایک المناک بحران کا سامنا کررھے ہیں۔
واضح رھے کہ جنیوا میں منعقدہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں شریک 47 ملکوں ـ منجملہ امریکہ و برطانیہ ـ نے ایک بیان میں بحرین کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو فورا بند کرے۔
اس بیان میں زور دیا گیا ہے کہ بحرین کے حالات نے بھت زیادہ تشویش اور فکرمند کے اسباب فراھم کئے ہیں؛ ھمیں بطور خاص پرامن اجتماع بپا کرنے اور جماعتیں تشکیل دینے کے حق کی پامالی اور مظاھروں کی سرکوبی سے شدید فکرمندی لاحق ہے اور حکومت بحرین کے اھلکاروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ شھریوں کے خلاف کسی بھی قسم کے تشدد آمیز اقدامات سے پرھیز کریں۔