www.Ishraaq.in (The world wide of Islamic philosophy and sciences)

وَأَشۡرَقَتِ ٱلۡأَرۡضُ بِنُورِ رَبِّهَا

حضرت فاطمہ زھرا سلام اللہ علیھا پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور جناب خدیجہ الکبریٰ سلام اللہ علیھاکی اکلوتی بیٹی تھیں، حضرت امام علی علیہ السلام کی رفیقہ حیات اور امام حسن و امام حسین علیھما السلام جناب زینب اور ام کلثوم کی مادر گرامی اور نو اماموں کی جدہ ماجدہ تھیں،

 آپ کے مشھور القاب زھرا، صدیقہ، بتول، سیدۃ النساء العالمین، راضیہ، مرضیہ، بضعۃ الرسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ام ابیھا تھے، وطن کے اعتبار سے جائے پیدائش مدینہ منورہ بیت رسالت، خاندانی افضلیت کے اعتبار سے کائنات کا منتخب ترین گھرانہ بنی ھاشم، زبان کے اعتبار سے لغت قرآن میں گفتگو کرنے والی۔
تاریخ بتاتی ہے کہ کوئی ایسا موقعہ دنیا والے کبھی نھیں پیش کرسکے کہ جس میں فاطمہ زھرا سلام اللہ علیھا نے اپنے نفس کو کسی معمولی انسان کے نفس پر ترجیح دی ھو، آپ ھمیشہ اپنے پر دوسروں کو مقدم رکھتی تھیں، علامہ مجلسی ( رہ) لکھتے ہیں کہ نماز شب میں حضرت امام حسن علیہ السلام برابر سنا کرتے تھے کہ میرے پالنے والے ھمارے پڑوسیوں کو بخیر رکھ اور ان کے مقاصد کو پورا کر، امام حسن علیہ السلام نے عرض کی کہ مادر گرامی آپ نے کبھی اپنے کو اور اپنے گھروالوں کو پھلے یاد نہ فرمایا؟ ارشاد ھوا اے بیٹا پڑوسی گھر والوں پر مقدم ہیں، پھلے پڑوسی پھر گھر۔
آپ کا نورِ وجود نورِ رسالت کے ساتھ خلقت کائنات سے بھت پھلے پیدا ھو چکا تھا لیکن بظاھر آپ کی ولادت باسعادت 5 بعثت 20 جمادی الثانی بمطابق 614ء یا 615 ء یوم جمعہ ھوئی، روایت میں ہے کہ جب جناب فاطمہ زھرا سلام اللہ علیھا کا بچپن تھا تو ام سلمٰی سے کھا گیا کہ فاطمہ زھرا سلام اللہ علیھا کو اصول تھذیب سکھائیں انھوں نے جواب دیا کہ میں مجسمہ عصمت و طھارت کو اخلاق کی کیا تعلیم دے سکتی ھوں، میں تو خود اس کمسن بچی سے تعلیم اصول حاصل کیا کرتی ھوں، تاریخ سے معلوم ھوتا ہے کہ آپ کا سارا بچپن عبادت خدا اور خدمت والدین میں گذرا ہے، ساتھ ھی ساتھ لکھا ہے کہ آپ نے بچپن میں فقر و فاقہ اور انتھائی تنگی و مصائب کا سامنا کیا ہے، حضرت علی علیہ السلام نے 500 درھم میں اپنی زرہ فروخت کی اور اسی رقم کو مھر قرار دے کر یکم ذی الحجہ 2ھ کو حضرت فاطمہ زھرا سلام اللہ علیھا کے ساتھ عقد کیا، حضرت علی علیہ السلام کے یھاں جانے کے بعد نظام زندگی کا بھترین نمونہ پیش کیا آپ گھر کا تمام کام اپنے ھاتھوں سے انجام دیتی تھیں، نہ کبھی کوئی فرمائش، نہ خادمہ کا مطالبہ اور نہ ماتھے پر بل آنا، فاطمہ زھرا سلام اللہ علیھا نے علی علیہ السلام کی ایسی خدمت کی کہ مشکل سے اس کی مثال مل سکے گی، آپ نے ھرحال میں اطاعت شوھر کا لحاظ رکھا اور مثال قائم کی، حضرت فاطمہ زھرا سلام اللہ علیھا حقوق خاوند سے جس درجہ واقف تھیں دنیا میں کوئی بھی واقف نہ تھا۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نگاہ میں فاطمہ کی زھرا سلام اللہ علیھا قدر و منزلت، عزت و وقار کی کوئی حد نہ تھی، ملائکہ بھی آسمانوں سے اتر کر زمین پر فاطمہ زھرا سلام اللہ علیھا کی خدمت میں مصروف ھوتے تھے، کبھی جنت کا طبق لائے، کبھی حسنین علیھما السلام کا جھولا جھلا کر آپ کی معاونت کی، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے کہ فاطمہ بھشتی خواتین کی سردار ہیں، تمام جھاں کی عورتوں کی سردار ہیں، آپ کی رضا سے اللہ راضی ھوتا ہے اور جس نے فاطمہ زھرا سلام اللہ علیھا کو ایذا و تکلیف دی اس نے رسول اللہ کو ایذا دی، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اللہ نے فاطمہ کی بدولت آپ کے ماننے والوں کو جھنم سے نجات دی ہے، آپ فرماتے ہیں کہ مردوں میں بھت لوگ کامل گذرے ہیں لیکن خواتین میں صرف 4 عورتیں کامل گذری ہیں، مریم، آسیہ، خدیجہ اور فاطمہ زھرا سلام اللہ علیھا ، اور ان میں سب سے بڑا درجہ کمال فاطمہ کو حاصل ہے، حضرت رسول خدا فاطمہ زھرا سلام اللہ علیھا سے انتھائی محبت رکھتے تھے، اور کمال عزت بھی، جب فاطمہ زھرا سلام اللہ علیھا اپنے باپ کے گھر جاتے تھے تو آپ (ص) تعظیم کے لئے کھڑے ھوتے تھے بوسہ دیتے تھے اور اپنی جگہ پر بٹھاتے تھے، غزوات سے واپسی پر سب سے پھلے فاطمہ زھرا سلام اللہ علیھا کو دیکھنے آتے تھے اور ان کی خبرگیری کرتے تھے، پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے کہ فاطمہ میرا جز ہے جو اسے اذیت پھنچائے اس نے مجھے اذیت پھنچائی۔
مثالی کردار کی جھلکیاں
آپ کی والدہ گرامی ملیکۃ العرب تھیں لیکن آپ نے کبھی بھی راحت و آرام، زیب و زینت کی زندگی پسند نھیں کی بلکہ ھمیشہ اپنے کردار کو ایک نمونہ عمل بنا کر رکھا۔
آپ کے والد محترم مختار کائنات تھے، آپ ان کی اکلوتی بیٹی تھیں لیکن آپ نے کبھی اس رشتہ سے فائدہ نھیں اٹھایا بلکہ زندگی بھر ھر طرح کی مصیبت و زحمت برداشت کرتی رھیں۔
آپ کے شوھر امیرالمومنین علیہ السلام تھے لیکن آپ نے اپنی تمام زندگی میں کوئی فرمائش نھیں کی۔
آپ کے فرزند سرداران جوانان جنت تھے لیکن اس کے بعد بھی آپ نے فاقوں پر زندگی گذاری۔
آپ کائنات کی تنھا خاتون ہیں جن کے رشتہ ازدواج میں زوجہ و شوھر دونوں معصوم تھے اور جس کا رشتہ عرش اعظم پر انجام پایا۔
آپ کائنات کی وہ بےمثال خاتوں ہیں جنھیں دو اماموں کی ماں بننے کا شرف حاصل ھوا اور جن کی نسل میں امامت قائم رہ گئی۔
آپ وہ ممدوحہ ہیں جن کی مدح سورہ کوثر، آیت تطھیر، آیہ مباھلہ اور سورہ دھر جیسی قرآنی آیات میں کی گئی۔
آپ وہ اکیلی دختر ہیں جن سے رسول اکرم (ص) نے ھر سفر کے موقع پر سب سے آخر میں الوداع کھا ہے اور واپسی پر سب سے پھلے آپ سے ملاقات کرتے تھے۔
آپ وہ معصومہ ہیں جن کی ذاتی عصمت کے علاوہ ان کے رشتے بھی معصوم تھے، باپ معصوم، شوھر معصوم اور دو فرزند معصوم سب کے تعارف کا ذریعہ بھی آپ ھی کی ذات کو بنایا گیا ہے۔
آپ وہ عبادت گذار ہیں جس کی نماز کے وقت زمین سے آسمان تک ایک نور کا سلسلہ قائم ھو جاتا تھا۔
بقول علامہ ذیشان حیدر جوادی خصائص فاطمہ زھرا سلام اللہ علیھا کو بیان کرنے میں دشواری یہ ہے کہ صدیقہ طاھرہ کا تقابل عام بنی نوع انسان سے نھیں کیا جا سکتا ہے اور ان کے سامنے دیگر افراد کا تذکرہ کرنا بھی ایک طرح کی توھین کا درجہ رکھتا ہے، اس لئے کی افضلیت کا سوال وھاں پیدا ھوتا ہے جھاں دونوں طرح فضیلت ھو اور صرف کم و بیش کا فرق ھو، لیکن جھاں ایک طرح فضیلت ھی فضیلت ھو اور دوسری طرح فقدان ھی فقدان ہے وھاں تقابل کا سوال ھی نھیں پیدا ھوتا۔
اقوام زریں معصومہ کونین حضرت فاطمہ زھرا سلام اللہ علیھا
1۔ اطاعت والدین عذاب الٰھی سے محفوظ رکھتی ہے۔
2۔ وہ عورت جو اپنے شوھر کو اذیت دے خداوند عالم اس کے نیک کاموں کو بھی قبول نہ کرے گا۔
3۔ زوجہ جب تک اپنے شوھر کا حق ادا نہ کرے گویا اس نے خدا کے حق کو ادا نھیں کیا۔
4۔ امربالمعروف عوام کی بھلائی کے لئے ہے۔
5۔ صلہ رحم عمر میں اضافہ کا باعث ہے۔
6۔ ایمان اور حیا کا چولی دامن کا ساتھ ہے اگر ان میں سے کوئی ایک چلا جائے تو دوسرا باقی نہ رہ سکے گا۔
7۔ وہ مرد جو ھوا و ھوس کے بندے ھوں وہ سماج کے لئے باعث ذلت ہیں۔
8۔ ھم اھل بیت علیھم السلام کی اطاعت کو ملت میں نظم و ضبط کے لئے اور ھماری امامت کو اختلاف و تفرقہ سے محفوظ رکھنے کے لئے قرار دیا۔
9۔ نماز کو تکبر اور خود پرستی سے دوری کے لئے قرار دیا گیا۔
10۔ جو عورت اپنے شوھر کو سخت اور مشکل کاموں کے لئے مجبور نہ کرے وہ جنتی ہے۔
11۔ کتنے بدبخت ہیں وہ لوگ جن میں عزم و پختگی نہ ھو اور وہ اھم کاموں کو مزاح میں ٹال جائیں۔
12۔ جو عورت نماز کی پابند ھو اور بغیر شوھر کی اجازت گھر سے باھر قدم نہ رکھے اور اس کی فرمانبردار ھو، خداوندعالم اس کے گناھوں کو معاف کردیگا۔
13۔ روزہ کو عزم و ارادہ نفسانی اور خلوص نیت کے لئے قرار دیا ہے۔
14۔ تھمت لگانے والا لعنت کا سزاوار ہے۔
تحریر: جاوید عباس رضوی
 

Add comment


Security code
Refresh