www.Ishraaq.in (The world wide of Islamic philosophy and sciences)

وَأَشۡرَقَتِ ٱلۡأَرۡضُ بِنُورِ رَبِّهَا

دیکھنا چاھیئے کہ قانون میں خامی کا اصلی سر چشمہ کا خطرہ کھاں ہے اورانسان کی سرکش اورآزادی پسند طبیعت کو کیسے قابو میں کیا جائے اور نتیجہ میں قانون کی مخالفت کو روکا جائے؟

اس خطرہ کا سرچشمہ۔ جو معاشرے میں فسادبرپاکرنے کا سب سے بڑا سبب ہے یھاں تک کہ قوانین بھی اسے روک نہیں سکتے ۔ یہ ہے کہ عام اجتماعی طریقے ،جو قوانین کو وجود میں لاتے ہیں ، کہ جن کا تعلق افراد کے مادی مراحل سے ہے ،وہ ان کی معنویات اور باطنی فطرتوں کی کوئی اعتنا نھیں کرتے اور ان کامقصد صرف ھما ھنگی اورنظم و نسق کا تحفظ اور لوگوں کے اعمال کے درمیان توازن بر قرار رکھنا ھوتا ہے تاکہ اختلاف اور کشمکش کی نوبت نہ آئے ۔
اجتماعی قانون کا تقاضایہ ہے کہ قانون کی شقوں پر عمل کیا جائے اور معاشرے کے امور کو کنٹرول کیا جائے ۔اس قانون کا انسان کے داخلی صفات اور باطنی جذبات سے کوئی تعلق نہیں ہے ،جو ان اعمال کے محرک اور قوانین کے داخلی دشمن ہیں ۔
اس کے باوجود اگر انسان کی آزادی پسند فطرت اور دوسرے سیکڑوں جبلتوں (جیسے خودخواہی اورشھوت پرستی جومفاسد کے اصلی سبب ہیں )کی طرف توجہ نہ کی جائے تو معاشرے میں افراتفری اورلاقانونیت رائج ھوجائے گی اوراختلافات کا دامن روز بروز پھیلتا جائے گا ،کیونکہ تمام قوانین کو ھمیشہ قوی باغیوں اور سر کشوں کے حملہ کاخطرہ لاحق ھوتا ہے جوانھی جبلتوں سے پیدا ھوتے ہیں اور کوئی قانون بُرے کو کنٹرول کر کے اختلافات کو نھیں روک سکتا ہے۔
 

Add comment


Security code
Refresh