www.Ishraaq.in (The world wide of Islamic philosophy and sciences)

وَأَشۡرَقَتِ ٱلۡأَرۡضُ بِنُورِ رَبِّهَا

501392
س۱۰۲۴۔ میں نے خمس کے بارے میں آپ کے کسی جواب میں پڑھا ھے کہ خمس کو ولی امر خمس اور ان کے امور حساب کے وکیل کو دیا جاسکتا ھے ، تو یھاں سوال یہ ھے کہ ولی خمس سے مراد کون ھے ، کیا مجتھد مطلق یا ولی امر مسلمین؟
ج۔ ولی خمس وہ ولی امر ھے جسے مسلمانوں کے امور میں ولایت حاصل ھو۔
س۱۰۲۵۔ کیا امور خیریہ مثلاً سادات کی شادی وغیرہ میں سھم سادات کا صرف کرنا جائز ھے؟
ج۔ سھم سادات ، سھم امام کی طرح ھے جو ولی خمس سے متعلق ھے اور مذکورہ چیز میں سھم سادات خرچ کرنے میں کوئی مانع نھیں ھے بشرطیکہ ولی خمس سے خاص طور پر اجازت لی گئی ھو۔
س۱۰۲۶۔ عمل خیر ، مثلاً یتیم خانہ یا دینی مدارس کے لئے سھم امام کے صرف کرنے میں کیا مجتھد مقلد کا اجازہ لینا ضروری ھے یا کسی بھی مجتھد کا اجازہ کافی ھے اور بنیادی طور کیا مجتھد کا اجازہ لینا ضروری ھے؟
ج۔ سھم امام اور سھم سادات دونوں ولی امر مسلمین سے متعلق ھیں لھذا جس کے ذمے یا جس کے مال میں حق امام یا سھم سادات ھو اس پر ان دونوں کو ولی امر خمس یااس کے وکیل کے حوالے کرنا واجب ھواور اگر ان کو ان کے معین موارد میں صرف کرنا ھو تو اس سے پھلے اس کے لئے اجازت لینا واجب ھے۔ اور مکلف کے لئے ضروری ھے کہ اس سلسلے میں وہ جس مجتھد کی تقلید کررھا ھے اس کے فتوے کی بھی رعایت کرے۔
س۱۰۲۷۔ اگر حاکم ( شرع) ایک شخص اور مرجع تقلید دوسرا شخص ھو تو کس کو خمس دینا واجب ھے؟
ج۔ ولی امر خمس کو خمس کا دینا واجب ھے اور وھی امور مسلمین کا ولی ھوتا ھے، مگر یہ کہ جس مجتھد کی تقلید کرتا ھے اس کا فتویٰ اس سے مختلف ھو۔
س۱۰۲۸۔ کیا آپ کے وکلاء یا ان افراد پر جو حقوق شرعیہ کے وصول کرنے میں آپ کے وکیل نھیں ھیں لازم ھے کہ سھم امام اور سھم سادات وصول کرتے وقت ان کی رسید دیں یا ان پر واجب نھیں ھے؟
ج۔ جو لوگ ھمارے محترم وکلاء کو یا دوسرے افراد کو ھمارے دفتر تک پھونچانے کے لئے حقوق شرعیہ دیں وہ ان سے ھماری مھر لگی رسید کا مطالبہ کریں۔
س۱۰۲۹۔ اگر آپ کے وکلاء یا دوسرے افراد جو لوگوں سے سھم امام و سھم سادات لیتے ھیں ان کی رسید نہ دیں توکیا خمس دینے والا اس سے بری الذمہ ھوجائے گا؟
ج۔ مسائل مختلف ھیں ، ھمارے بعض معروف و مشھور وکلاء کو چھوڑ کر دوسرے افراد ( ان رقومات کی) رسید نہ دیں تو پھر اس کے بعد انھیں میرے نام سے حقوق شرعیہ نہ دیں۔
س۱۰۳۰۔ امام خمینی کے مقلدین خمس کا مال کس کو دیں؟
ج۔ ان کے لئے ممکن ھے کہ وہ اسے ھمارے تھران کے دفتر میں بھیجدیں اپنے شھروں میں موجود ھمارے وکلاء کو دیں۔
س۱۰۳۱۔ ھمارے علاقے میں موجود آپ کے وکلاء کو جب خمس دیا جاتا ھے تو بعض اوقات وہ سھم امام واپس کردیتے ھیں اور کھتے ھیں کہ اس کی آپ کے طرف سے ان کو اجازت ھے تو کیا اس لوٹائی ھوئی رقم کو ھم اپنے گھر والوں پر صر ف کرسکتے ھیں؟
ج۔ جو شخص اجازہ کا دعویٰ کرتا ھے اگر آپ کو اس کے پاس اجازہ ھونے میں شبھہ ھو تو اس سے احترام کے ساتھ تحریری اجازہ دکھانے کے لئے کھیں یا اس سے خمس وصول پانے کی ھماری مھر لگی ھوئی رسید مانگئے پس اگر وہ اجازہ کے مطابق عمل کریں تو وہ ( لوٹائی ھوئی رقم) آپ کے مصرف کے لئے ھے۔
س۱۰۳۲۔ غیر مخمس مال سے ایک شخص نے ایک قیمتی جائیداد خریدی اور اس کی تعمیر و مرمت میں خطیر رقم لگائی اور اس کے بعد اسے اپنے نابالغ بیٹے کو ھبہ کردیا اور قانونی طور پر اس جائیداد کو اس بیٹے کے نام کرادیا ۔ اب یہ جانتے ھوئے کہ خریدنے والا ابھی تک زندہ ھے اس کے خمس کا کیا مسئلہ ھے؟
ج۔ ملکیت کے خریدنے اور اس کی مرمت و تعمیر میں جو صرف کیا ھے اگر دو سال کے منافع میں سے ھے اور اس نے اپنی جائیداد کو اسی سال اپنے بیٹے کو ھبہ کردیا ھے اور عرف عام میں اس کی حیثیت کے مطابق ھے تو اس پر خمس نھیں ھے، ورنہ اس جائیداد پر خمس واجب ھوگا۔ اور خمس کی مقدار کا ھبہ فضولی ھوگا جس کی صحت اجازہ پر موقوف ھے۔

Add comment


Security code
Refresh