www.Ishraaq.in (The world wide of Islamic philosophy and sciences)

وَأَشۡرَقَتِ ٱلۡأَرۡضُ بِنُورِ رَبِّهَا

دین اسلام ، ھر انسان ، ھر زمانہ اور ھر جگہ کے لئے آیا ھے ۔ اسلام کے قوانین ساری دنیا کے لئے ھیں اور ھمیشہ باقی رھنے والے ھیں ۔

 ایسا نھیں ھے کہ دین اسلام صرف پیغمبر اسلام(ص) کے زمانہ سے مخصوص رھا ھو اور ان کی وفات کے بعد دین اسلام کے احکام معطل ھو گئے ھوں نیز رسول خدا (ص)کے بعد کے زمانہ کے لئے کوئی منصوبہ(plan) موجود نہ ھو ۔

اسی وجہ سے پیغمبر اسلام (ص)ھمیشہ اپنے بعد اسلام کے لئے فکر مند رھے ۔ پیغمبر(ص)کامشن صرف اسی وقت آگے بڑھ سکتا تھا جب انکے بعد انکا کوئی جانشین ھو جو دین ، اخلاق ، شرافت ، پاکیزگی ، غلطی اور خطا سے دور، کام کرنے کی لیاقت ، خوف خدا ، عزم محکم ، تقویٰ اور شجاعت میں خود رسول خدا (ص) کی شبیہ ھو ۔ جن صفات اور خصوصیات کی طرف اشارہ کیا گیا ھے وہ ایک مکمل اور نمونہٴ عمل رھبر کے لئے ضروری ھیں ۔ یہ سارے صفات پیغمبر(ص) میں موجود تھے ۔ اگر کوئی شخص ان کا جانشین بنے اور انکے بعد انکے مشن کو آگے بڑھائے تو اسکے لئے ضروری ھے کہ وہ بھی انھیں صفات کا مالک ھو جن صفات کے مالک پیغمبر(ص) تھے ۔
اب سوال یہ ھے کہ جانشین کو ن ھوتا ھے ؟ اور کس طرح اسکی شناخت ممکن ھے ؟ اور کس طرح ا س کا انتخاب ھو نا چاھئے ؟ ۔
عقیدے کی رو سے جس طرح نبوت اور پیغمبری کے لئے کسی شخص کا اتنخاب خدا کی طرف سے ھوتا ھے اور یہ ایک الٰھی عھدہ ھے ، ٹھیک اسی طرح پیغمبر(ص) کے ” وصی“ اور جانشین کا اتنخاب بھی خدا کی جانب سے ھوتا ھے اور یہ عوام کی ذمہ داری اور ان کا وظیفہ نھیں ھے کہ پیغمبر (ص)کے جانشین کا انتخاب کریں ۔ کیونکہ پیغمبر (ص)کے جانشین کی ولایت بھی ایک الٰھی عھدہ اور منصب ھے جسے خدا معین کرتا ھے کیونکہ لوگوں کے پاس اطلاعات اور علم کم ھوتا ھے یا پھر معمولاً عوام کا کسی خاص شخص یا گروہ (party)کی طرف میلان ھوتا ھے ۔ اس لئے لوگ سب سے لائق اور بھترین شخص کا انتخاب پیغمبر (ص) کے جانشینی کے لئے نھیں کر سکتے اور اگر جا نشین معین کر بھی دیا تو سبھی لوگ عقلاً اس کی رھبری کو تسلیم نھیں کر سکتے خصوصاً ان صفات کے ساتھ جو پیغمبر(ص) کے جانشین کےلئے بیان کی گئیں ھیں ۔
شیعوں کے بارہ امام ہیں جن میں اولین حضرت علی (ع)اور آخری حضرت مھدی(ع) ھیں جو خدا کی جانب سے لوگوں کی ھدایت کے لئے منتخب ھوئے ھیں اور ان کا انتخاب بھی انکے کمال اور صفات کی وجہ ھی سے ہے نا کہ رسول خدا (ص)سے رشتہ دار ی کی بنا پر ۔
حضرت رسول خدا (ص)نے اپنی بعثت کے پھلے سال ھی حضرت علی (ع)کو اپنے جانشین کے عنوان سے پھچنوا دیا تھا اور بھت سے دیگر مواقع کے علاوہ جب رسول خدا (ص)آخری بار خدا کے گھر کی زیارت کر کے لوٹ رھے تھے تو غدیرخم میں ھزاروں حاجیوں کے مجمع میں حضرت علی(ع) کو جانشین معین کیا اور حضرت علی (ع)کو اپنے بعد کے لئے مسلمانوں کا مولیٰ ، سر پرست ، رھبر اور پیشوا بنایا ۔ جس وقت رسول خدا (ص) نے حضرت علی (ع)کی جانشینی کا اعلان کیا تو اسی وقت لوگ آئے اور اس جانشینی کے لئے حضرت علی (ع) کو مبارکباد دی اور انکے ھاتھوں پر بیعت کی خدا کا حکم تھا اس لئے رسول خدا (ص)نے حکم خدا کی اطاعت کی اور غدیر خم میں حضرت علی (ع) کو اپنا خلیفہ اور جا نشین بنا دیا ۔ قرآن فرماتا ھے :” اے پیغمبر ! آپ اس حکم کو پھونچا دیں ، جو آپ کے پروردگار کی طرف سے نازل کیا گیا ھے اور اگر آپ نے یہ نھیں کیا تو گویا اس کے پیغام کو نھیں پھونچایا اور خدا آپ کو لوگوں کے شر سے محفوظ رکھے گا “ (۱)
مقصد یہ تھا کہ پیغمبر (ص)کے بعد حضرت علی(ع) اور دوسرے اماموں کے ذریعہ لوگوں کی ھدایت اور رھبری کا سلسلہ چلتا رھے اور قرآن کے احکام پر عمل ھوتا رھے تا کہ صرف مسلمان ھی نھیں بلکہ تمام بنی آدم دین اسلام سے فائدہ اٹھا سکیں اور انسانوں کے لئے الٰھی اور آسمانی ھدایت کا سلسلہ اسی طرح جاری رھے جس طرح پیغمبر(ص) کی حیات طیبہ میں جاری تھا ۔
ایک سماج میں کیسی حکومت ھو ، کون حاکم ھو ، حاکم کے لئے کیا شرائط ھونے چاھئیں اور خود قوانین بنانا وغیرہ مسائل فلسفہ سیاست کے تحت آتے ھیں ۔ اسلام میں فلسفہٴ سیاست سمٹ کر ” امامت “ میں آجاتا ھے ۔ امام ھی لوگوں کے اتحاد اور انکے افکارکو بلند کرنے کا مرکز ھوتا ھے ۔ نھج البلاغہ میں ارشاد ھوتا ھے کہ امامت تسبیح یا ھار کی اس ڈوری کی طرح ھے جو اپنے دانوں کو بکھیرنے اور غائب ھونے سے بچاتی ھے ۔ امامت اسلامی امت کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرتی ھے اس کو ایک نظام اور نظم و نسق دیتی ھے (۲) امامت اور ولایت، پیغمبر اسلام (ص)کے بعد ، سماج کو کنٹرول اور منسجم کرنے کا ایک ایسا پلان اور پروگرام ھے جس کا اعلان خدا نے کیا ھے ۔ پیغمبر اسلام(ص) نے جانشینی کے سلسلہ میں لوگوں کی ذمہ داری کو اپنی طرف سے پوری طرح روشن اور واضح کر دیا تھا لیکن پھر بھی پیغمبر(ص) اپنے بعد کے آنے والے دنوں کے لئے مضطرب تھے ۔ افسوس ھے کہ پیغمبر (ص)کوجس بات کا خوف اور ڈر تھا ان کی وفات کے بعد وھی پیش آیا یعنی کچھ مسلمانوں نے انکی وصیت کی پروا نھیں کی اور انکے حکم کے خلاف غلط الکشن ، وحشت اور خوف کا ماحول ایجاد کر کے ایک دوسرے شخص کو انکی جگہ پر منتخب کر لیا اور لوگوں سے خواھش کی کہ اسکی بیعت کریں ۔ اسکے بعد دو دوسرے اشخاص بھی غلط طریقہ سے اس الٰہی منصب پر قابض ھو گئے ۔
پچیس سال بعد ، جب تیسرے خلیفہ کو قتل کر دیا گیا تو لوگ حضرت علی (ع)کے پاس آئے اور ان کو اپنا خلیفہ تسلیم کرتے ھوئے ان کے ھاتھوں پر بیعت کر لی ۔ حضرت علی(ع) کی حکومت کے سبب ، اسلامی خلافت اپنے اصلی اور صحیح راستے پر لوٹ آئی اور لوگوں کے امور کا ذمہ دار وہ شخص ھو گیا جو عدالت سے کام لیتا تھا ،جسے خدا کی خوشی و رضایت نیز اسلام اور قرآن کے مطابق عمل کرنے کے علاوہ کوئی دوسری فکر نھیں تھی لیکن مخالفین فتنہ اور فساد پر آمادہ ھو گئے اور حضرت علی(ع) کی شھادت کے بعد اس طرح کے حالات پیش آئے کہ امام حسن (ع) کو خلافت معاویہ کے لئے چھوڑنا ھی پڑی ۔ معاویہ کے بعد بنی امیہ اوربنی عباس دو صدی سے زیادہ جھان اسلام پر چھائے رھے ۔ ائمہ جو معصوم تھے اس عھدہ اور منصب کے لئے بھترین اور اصلی حقدار بھی تھے ، انکو اس حق سے محروم کر دیا گیا اور سب کو مختلف طریقوں سے شھید کر دیا گیا ۔
اس درمیان سماج میں دو مختلف راستے وجود میں آچکے تھے ، ایک خلافت کا راستہ اور دوسرا امامت کا راستہ جو پیغمبر خدا(ص) اور انکے اھلبیت (ع)کے وفادار تھے وہ امامت و خلافت کو صرف ائمہ معصومین (ع)کا حق جانتے تھے ۔ جن میں سے زیادہ تر افراد کا خلفاء کے ساتھ اختلاف رھاکرتا تھا ۔ اسی لئے وہ حکومتوں کے ظلم سے محفوظ نھیں رھتے تھے ۔ ائمہ معصومین (ع)بھی شمشیر اور زھر دغا سے شھید کئے جاتے رھے ۔ جنھوں نے حکومت کو زبر دستی اور دھوکے سے حاصل کیا تھا ، وہ خلیفہ بھی اس بات کو اچھی طرح جانتے تھے کہ یہ حق پیغمبر کے اھلبیت (ع) کا ھے اور صرف وھی حضرات علم ، تقویٰ اور فضیلت میں بھترین افراد ھیں لیکن دنیا اور حکومت کی محبت نے انکو اس بات کی اجازت نھیں دی کہ حق کو حقدار تک پھونچا دیں ۔ انکی سیاست یہ تھی کہ لوگ ائمہ معصومین (ع) سے رابطہ نہ رکھیں اور اس طرح لوگوں کے محبوب اماموں(ع) کو اذیت دی جائے اور انکے چاھنے والوں کو پریشان کیا جائے ۔ خلفاء کی اس سیاست اور غلط پروپگنڈے کے سبب شیعوں کے اماموں کو یکے بعد دیگرے شھید کیا جاتا رھا ۔
جب بارھویں امام حضرت مھدی(ع) کی نوبت آئی تو آپ حکم خدا اور اسکی قدرت سے عوام کی نظروں سے پوشیدہ ھو گئے تاکہ وہ بھی شھید نہ کردے جائیں ۔ نیز آپ پردہ میں ھی رہ کر دنیا کی ھدایت ،اصلاح اور انسانیت کی نجات کے لئے اقدامات فرماتے ھیں ۔ شیعوں کے لئے آخر کار وہ زمانہ بھی آگیا جو ” عصر غیبت “ کے نام سے مشھور ھے جو ابھی بھی جاری ھے اور جس میں ھم زندگی گذار رھے ھیں ۔
ائمہ معصومین(ع)اپنے زمانہ میں حکومت کی جانب سے ھر قسم کی اذیتوں اور مصیبتوں کے با وجود اپنے فرض کو پورا کرنے ، دین کے احکام بیان کرنے اور لوگوں کو گمراھی سے بچانے کے لئے حتی الامکان کوششیں کرتے رھتے تھے ۔ وہ شیعہ جو انکے پیشوا اور رھبر ھونے پرعقیدہ رکھتا تھا ھر طرح کے فکری ، عقیدتی اور شریعت کے احکام کے علاوہ ، سماج اور حکومت کے مسائل میں بھی ائمہ(ع) کی نظر کے مطابق عمل کرتا تھا ۔ ائمہ معصومین (ع)ھمیشہ اس کوشش میں رھتے تھے کہ اگر صادق اور وفادار ساتھی مل جائیں اور حالات بھی سازگار ھوں تو لوگوں کی رھبری اور اسلامی خلافت کو اپنے ھاتھوں میں لے لیں جو کہ ان کا حق بھی تھا لیکن افسوس کہ وفادار ساتھیوں کی کمی ، خلفاء کا طاقت ور ھونا اور دوسری شرطوں کے نہ ھونے کی وجہ سے ائمہ معصومین(ع)نے خلفاء کے خلاف کوئی انقلابی تحریک کو شروع نھیں کی اور صرف دین اور علمی سر گرمیوں میں مصروف رھے مگر جب کبھی بھی موقع فراھم ھوتا تھا آپ حضرات اپنے چھینے جانے والے حق کے لئے صدائے احتجاج کو بلند کرتے تھے ۔ خلفاء بھی ائمہ معصومین (ع)کو اپنی حکومت کا دشمن سمجھتے تھے ۔ کیونکہ ان کو خوف تھا کہ اگر لوگ اماموں کے ساتھ جمع ھوں گئے تو انقلاب آجائے گا اور اس طرح حکومت انکے ھاتھوں سے نکل جائے گی ۔ اس لئے وہ ھمیشہ ائمہ معصومین (ع)اور انکے چاھنے والوں پر ظلم کے پھاڑ توڑا کرتے تھے ۔ یہ زمانہ بھت سخت تھا ۔ حضرت علی(ع) چار سال اور نو مھینے اور امام حسن (ع)صرف کچھ مھینے ھی مسلمانوں پر حکومت کر سکے لیکن ھر صورت میں ، چاھے حکومت انکے ھاتہ میں رھی ھو یا نہ رھی ھو ، ولایت کا وہ حق جو خدا نے انکو عطا کیا تھا، اپنی جگہ پر باقی تھا ۔ جن مسلمانوں نے خدا اور اسکے رسول کی ولایت کو قبول کیا تھا وہ ائمہ معصومین (ع) کے زمانہ میں ائمہ کی ولایت پر عقیدہ اور یقین رکھتے تھے اور بغیر کسی شش و پنج کے انکی پیروی کرنااپنے لئے لازم سمجھتے تھے لیکن ان افراد کی تعداد بھت کم تھی اور بیشتر لوگ خوف ، دنیا و دولت سے محبت یا خود ائمہ معصومین (ع)کی بخوبی معرفت نہ ھونے کی وجہ سے ،خلفاء کی پیروی کرتے تھے ۔ یہ ایک تاریخی سچ ھے کہ تقریبا ۲۵۰سال تک ائمہ معصومین (ع)حکومت (جو کہ ان کا حق تھا) سے جدا رھے اور انکی جگہ فاسد ، بد کار ، عیاش اور ستم گر خلفاء لوگوں پر ناجائز حکومت کرتے رھے ۔ اگر انکی جگہ حکومت اور سیاست کی باگڈور ائمہ معصومین (ع)کے قبضہ میں ھوتی تو سماج اور دنیا آج کتنی حسین ھوتی اور دین مبین اسلام کس طرح انسانیت کی زندگی میں تحول ایجاد کر دیتا ۔ یہ اس وقت ایک خواب ھی سا ھو کر رہ گیا ھے مگر افسوس ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
حوالہ
۱۔سورہ مائدہ / ۶۷۔
۲۔نھج البلاغہ ،حکمت ۲۴۴۔
 

Add comment


Security code
Refresh