www.Ishraaq.in (The world wide of Islamic philosophy and sciences)

وَأَشۡرَقَتِ ٱلۡأَرۡضُ بِنُورِ رَبِّهَا

 

تقریباً ۲۳شوال سنہ ۵ھجری.بنی نضیر کے یھودی جنھوں نے اپنی کینہ توزی اور انتقام کے خیال سے مدینہ کو چھوڑا تھا وہ خاموشی سے بیٹھ گئے،

 

کفر کا حملہ آور لشکر ابوسفيان کي سرکردگي ميں خندق کھد جانے کے چھ دن بعد سيلاب کي طرح مدينہ پھنچ گيا۔ انھوں نے شھر کے چاروں طرف اور اپنے آگے ايک بڑي خندق ديکھي تو مسلمانوں کي اس دفاعي ٹيکنيک پر ان کو تعجب ھوا۔

 

 پيمان صلح کچھ مسلمانوں خصوصاً مھاجرين کي ناراضگي کا باعث ھوا ھر چيز سے زيادہ صلح نامہ کي دوسري شرط سے مسلمانوں کو تکليف ھوئي کہ جس ميں مسلمانوں کے پاس پناہ لينے والوں کو واپس کر دينے کو لازم قرار ديا گيا ہے۔

 

ذی قعدہ سنہ ۷ھجری لشکر اسلام کی پے درپے کامیابی اور مشرکین مکہ کی گوشہ گیری نے پیغمبر کو اس بات پر آمادہ کیا کہ دوسری بار جزیرة العرب میں مسلمانوں کی حیثیت و وقار کے استحکام کے لیے اقدام کریں۔